رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے استغفار کا معنی
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے استغفار کا معنی

انبیاء گناہوں سے معصوم ہوتے ہیں ان سے گناہ سرزد نہیں ہو سکتا ہم اور آپ سے گناہ سرزد ہو سکتا ہے اس
وجہ سے ہم اپنے گناہوں کے لیے استغفار کرتے ہیں جب انبیاء استغفار کرتے ہیں تو اس کا یہ معنی نہیں ہوتا کہ
نعوذ باللہ نبی سے گناہ سرزد ہوا ہے اپنے گناہوں کی بخشش کے لیے استغفار کر رہے ہیں۔
احادیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے استغفار کرنے کے بارے میں ذکر آتا ہے
جبکہ قرآن مجید فرقان حمید سورہ فتح کے آیت کے مطابق اللہ عزوجل نے آپ کے
اپنوں کے تمام گناہوں کو بخش دیے ہیں۔
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم خود ہر حال میں گناہوں سے معصوم ہیں
رسول اللہ کے استغفار کرنے پر حدیث
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے کسی ایک کو بھی نہیں
دیکھا جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے استغفار زیادہ کیا ہو۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے استغفار کا معنی کیاہے مزید تفصیل سے پڑھتے ہیں۔
نبی علیہ السلام کے استغفار کرنے کے دو معنی ہیں
ایک معنی یہ ہے کہ اللہ عزوجل نے حضور علیہ الصلوۃ والسلام کو ایک استاد بنا کر
بھیجا ہے جس نے احادیث کے ذریعے سے بھی لوگوں کو سکھایا اور خود کسی عمل
کرنے کے ذریعے سے بھی لوگوں کو سکھایا قولی اور فعلی دونوں عمل سکھائے۔
ایسے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے امت کو استغفار کرنا سکھایا اور اس پر
دوام کرنے کا طریقہ بھی سکھایا ہمیشگی کرنے کا طریقہ بھی سکھایا کیونکہ بعض
اوقات امت کسی نہ کسی گناہ میں مصروف ہو جاتا ہے ان سے گناہ سرزد ہو جاتا ہے
اس وجہ سے رسول اللہ نے اپنی امت کو اپنے گناہوں کے معافی طلب کرنے کے بارے میں بھی سکھایا۔
نبی کے استغفار کرنے کا دوسرا معنی
آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اگر استغفار کیا تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ نے
اپنے گناہوں کے بخشش کے لیے استغفار کیا ہے بلکہ اللہ کے نبی جب استغفار کرتے ہیں
تو کسی عبادت میں کمی ہونے کی وجہ سے استغفار کرتے ہیں۔
نبی علیہ الصلاۃ والسلام سے گناہ سرزد نہیں ہو سکتا کیونکہ اللہ عزوجل نے آپ کو
معصوم بنایا ہے یہاں تک کہ آپ کے ساتھ والے شیطان کے بارے میں اللہ عزوجل نے
دعا قبول فرمایا اور وہ شیطان ایمان لایا۔
عبادات میں نبی کی عادت
اللہ عزوجل کے نبی جب کوئی عمل شروع کرتے ہیں اللہ تعالی کی رضا کی خاطر تو اس
عمل کو ہمیشہ کرتے ہیں کبھی اسے چھوڑتے نہیں ہیں جیسا کہ نبی علیہ الصلوۃ والسلام نے
ظہر کی دو رکعت عصر کے نماز کے بعد ادا کی جب وفد بنی تمیم رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم
کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور آپ نے ان کی خدمت کی انہیں تحائف دیے اور انہیں اپنے
علاقے پر زکوۃ جمع کرنے کے لیے عامل بھی مقرر کیا تو اس نیک عمل میں مصروف
ہونے کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی دو رکعت نفل جو ظہر کے بعد
پڑھے جاتے ہیں وہ رہ گئے اور رسول اللہ نے بعد میں ہمیشہ انہی دو رکعت کو عصر کے بعد ہی ادا کیا۔
اور پھر ایسا عمل اللہ کے نبی کے ساتھ خاص ہوتا ہے کوئی دوسرا اس طرح کا عمل نہیں کر سکتا۔
نتیجہ
تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا استغفار اس معنی میں ہوا کہ آپ کی ایک عبادت
جو کہ ایک وقت میں کرنے کے لیے مقرر تھا وہ مؤخر ہو گیا کسی دوسرے وقت میں
اور یہ مؤخر کسی دوسرے نفل میں مشغولیت کی وجہ سے ہوئی۔جیسا کہ بنی تمیم کے
ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم مشغول ہوئے اور یہ مشغول ہونا زیادہ اولی تھا
زیادہ بہتر تھا اس عمل سے جس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم ہر روز کیا کرتے۔
اس طرح ایک نفل کے مؤخر ہونے کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم استغفار
کرتے نہ کہ نعوذ باللہ گناہوں کی وجہ سے استغفار کرتے۔
تعلیم امت
اس طرح حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے اس عمل میں امت کے لیے یہ تعلیم ہے کہ
آقا علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے عبادات میں سے کسی بھی عبادت کو چھوڑا نہیں ہے
ہمیشہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کرتے رہے ہیں حالانکہ حضور علیہ الصلوۃ
والسلام اللہ کے نبی گناہوں سے معصوم ہیں پھر بھی اللہ کی عبادت اللہ تعالی کی
رضا کی اتنی طلب تھی کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام ہمیشہ عبادت میں مصروف عمل
رہے اور اسی طرح امت کو بھی چاہیے کہ وہ ہمیشہ اپنے نبی کے طریقے پر
عمل کرے اسی میں امت کے لیے بہتری ہے۔
928-ﺃَﺧْﺒَﺮَﻧَﺎ ﻋُﻤَﺮُ ﺑْﻦُ ﻣُﺤَﻤَّﺪٍ اﻟْﻬَﻤْﺪَاﻧِﻲُّ، ﺣَﺪَّﺛَﻨَﺎ ﻋَﻤْﺮُﻭ ﺑْن ﻋُﺜْﻤَﺎﻥَ ﺑْﻦِ ﺳَﻌِﻴﺪٍ، ﺣَﺪَّﺛَﻨَﺎ اﻟْﻮَﻟِﻴﺪُ ﺑْﻦُ ﻣُﺴْﻠِﻢٍ
ﻋَﻦْ ﺳَﻌِﻴﺪِ ﺑْﻦِ ﻋَﺒْﺪِ اﻟْﻌَﺰِﻳﺰِ، ﻋَﻦْ ﺇِﺳْﻤَﺎﻋِﻴﻞَ ﺑْﻦِ ﻋُﺒَﻴْﺪِ اﻟﻠَّﻪِ ﺑْﻦِ ﺃَﺑِﻲ اﻟْﻤُﻬَﺎﺟِﺮِ، ﻋَﻦْ ﺧَﺎﻟِﺪِ ﺑْﻦِ ﻋَﺒْﺪِ اﻟﻠَّﻪِ ﺑْﻦِ اﻟْﺤُﺴَﻴْﻦِ
ﻋَﻦْ ﺃَﺑِﻲ ﻫُﺮَﻳْﺮَﺓَ، ﻗَﺎﻝَ: ﻣَﺎ ﺭَﺃَﻳْﺖُ ﺃَﺣَﺪًا ﺃَﻛْﺜَﺮَ ﺃَﻥْ ﻳَﻘُﻮﻝَ
ﺃَﺳْﺘَﻐْﻔِﺮُاﻟﻠَّﻪَ ﻭَﺃَﺗُﻮﺏُ ﺇِﻟَﻴْﻪِ ﻣِﻦْ ﺭَﺳُﻮﻝِ اﻟﻠَّﻪِ ﺻَﻠَّﻰ اﻟﻠَّﻪُ ﻋَﻠَﻴْﻪِ ﻭَﺳَﻠَّﻢَ
ﻗَﺎﻝَ ﺃَﺑُﻮ ﺣَﺎﺗِﻢٍ ﺭَﺿِﻲَ اﻟﻠَّﻪُ ﻋَﻨْﻪُ
ﻛَﺎﻥَ اﻟْﻤُﺼْﻄَﻔَﻰ ﺻَﻠَّﻰ اﻟﻠَّﻪُ ﻋَﻠَﻴْﻪِ ﻭَﺳَﻠَّﻢَ ﻳَﺴْﺘَﻐْﻔِﺮُ ﺭَﺑَّﻪُ ﺟَﻞَّ ﻭَﻋَﻼَ ﻓِﻲ اﻷَْﺣْﻮَاﻝِ ﻋَﻠَﻰ ﺣَﺴَﺐِ ﻣَﺎ ﻭَﺻَﻔْﻨَﺎﻩُ
ﻭَﻗَﺪْ ﻏَﻔَﺮَ اﻟﻠَّﻪُ ﻟَﻪُ ﻣَﺎ ﺗَﻘَﺪَّﻡَ ﻣِﻦْ ﺫَﻧْﺒِﻪِ ﻭَﻣَﺎ ﺗَﺄَﺧَّﺮَ
ﻭَﻻِﺳْﺘِﻐْﻔَﺎﺭِﻩِ ﺻَﻠَّﻰ اﻟﻠَّﻪُ ﻋَﻠَﻴْﻪِ ﻭَﺳَﻠَّﻢَ ﻣَﻌْﻨَﻴَﺎﻥِ
ﺃَﺣَﺪُﻫُﻤَﺎ ﺃَﻥَّ اﻟﻠَّﻪَ ﺟَﻞَّ ﻭَﻋَﻼَ ﺑَﻌَﺜَﻪُ ﻣُﻌَﻠِّﻤًﺎ ﻟِﺨَﻠْﻘِﻪِ ﻗَﻮْﻻً ﻭَﻓِﻌْﻼً، ﻓَﻜَﺎﻥَ ﻳُﻌَﻠِّﻢُ ﺃُﻣَّﺘَﻪُ اﻻِﺳْﺘِﻐْﻔَﺎﺭَ ﻭَاﻟﺪَّﻭَاﻡَ ﻋَﻠَﻴْﻪِ
ﻟِﻤَﺎ ﻋَﻠِﻢَ ﻣِﻦْ ﻣُﻘَﺎﺭَﻓَﺘِﻬَﺎ اﻟْﻤَﺂﺛِﻢَ ﻓِﻲ اﻷَْﺣَﺎﻳِﻴﻦِ ﺑِﺎﺳْﺘِﻌْﻤَﺎﻝِ اﻻِﺳْﺘِﻐْﻔَﺎﺭِ
ﻭَاﻟْﻤَﻌْﻨَﻰ اﻟﺜَّﺎﻧِﻲ
ﺃَﻧَّﻪُ ﺻَﻠَّﻰ اﻟﻠَّﻪُ ﻋَﻠَﻴْﻪِ ﻭَﺳَﻠَّﻢَ ﻛَﺎﻥَ ﻳَﺴْﺘَﻐْﻔِﺮُ ﻟِﻨَﻔْﺴِﻪِ ﻋَﻦْ ﺗَﻘْﺼِﻴﺮِ اﻟﻄَّﺎﻋَﺎﺕِ ﻻَ اﻟﺬُّﻧُﻮﺏِ، ﻷَِﻥَّ اﻟﻠَّﻪَ
ﺟَﻞَّ ﻭَﻋَﻼَ ﻋَﺼَﻤَﻪُ ﻣِﻦْ ﺑَﻴْﻦِ ﺧَﻠْﻘِﻪِ، ﻭَاﺳْﺘَﺠَﺎﺏَ ﻟَﻪُ ﺩُﻋَﺎءَﻩُ ﻋَﻠَﻰ ﺷَﻴْﻄَﺎﻧِﻪِ ﺣَﺘَّﻰ ﺃَﺳْﻠَﻢَ
ﻭَﺫَاﻙَ ﺃَﻥَّ ﻣِﻦْ ﺧُﻠُﻖِ اﻟْﻤُﺼْﻄَﻔَﻰ ﺻَﻠَّﻰ اﻟﻠَّﻪُ ﻋَﻠَﻴْﻪِ ﻭَﺳَﻠَّﻢَ ﻛَﺎﻥَ ﺇِﺫَا ﺃَﺗَﻰ ﺑِﻄَﺎﻋَﺔٍ ﻟِﻠَّﻪِ ﻋَﺰَّ ﻭَﺟَﻞَّ ﺩَاﻭَﻡَ
ﻋَﻠَﻴْﻬَﺎ ﻭَﻟَﻢْ ﻳَﻘْﻄَﻌْﻬَﺎ، ﻓَﺮُﺑَّﻤَﺎ ﺷُﻐِﻞَ ﺑِﻄَﺎﻋَﺔٍ ﻋَﻦْ ﻃَﺎﻋَﺔٍ ﺣَﺘَّﻰ ﻓَﺎﺗَﺘْﻪُ ﺇِﺣْﺪَاﻫُﻤَﺎ، ﻛَﻤَﺎ ﺷُﻐِﻞَ ﺻَﻠَّﻰ اﻟﻠَّﻪُ ﻋَﻠَﻴْﻪِ ﻭَﺳَﻠَّﻢَ
ﻋَﻦِ اﻟﺮَّﻛْﻌَﺘَﻴْﻦِ اﻟﻠَّﺘَﻴْﻦِ ﺑَﻌْﺪَ اﻟﻈُّﻬْﺮِ ﺑِﻮَﻓْﺪِ ﺗَﻤِﻴﻢٍ، ﺣَﻴْﺚُ ﻛَﺎﻥَ ﻳَﻘْﺴِﻢُ ﻓِﻴﻬِﻢْ ﻭَﻳَﺤْﻤِﻠُﻬُﻢْ ﺣَﺘَّﻰ ﻓَﺎﺗَﺘْﻪُ
اﻟﺮَّﻛْﻌَﺘَﺎﻥِ اﻟﻠَّﺘَﺎﻥِ ﺑَﻌْﺪَ اﻟﻈُّﻬْﺮِ، ﻓَﺼَﻼَّﻫُﻤَﺎ ﺑَﻌْﺪَ اﻟْﻌَﺼْﺮِ، ﺛُﻢَّ ﺩَاﻭَﻡَ ﻋَﻠَﻴْﻬِﻤَﺎ ﻓِﻲ ﺫَﻟِﻚَ اﻟْﻮَﻗْﺖِ ﻓِﻴﻤَﺎ ﺑَﻌْﺪُ
ﻓَﻜَﺎﻥَ اﺳْﺘِﻐْﻔَﺎﺭُﻩُ ﺻَﻠَّﻰ اﻟﻠَّﻪُ ﻋَﻠَﻴْﻪِ ﻭَﺳَﻠَّﻢَ ﻟِﺘَﻘْﺼِﻴﺮِ ﻃَﺎﻋَﺔٍ ﺃَﻥْ ﺃَﺧَّﺮَﻫَﺎ ﻋَﻦْ ﻭَﻗْﺘِﻬَﺎ ﻣِﻦَ اﻟﻨَّﻮَاﻓِﻞِ ﻻِﺷْﺘِﻐَﺎﻟِﻪِ
ﺑِﻤِﺜْﻠِﻬَﺎ ﻣِﻦَ اﻟﻄَّﺎﻋَﺎﺕِ اﻟَّﺘِﻲ ﻛَﺎﻥَ ﻓِﻲ ﺫَﻟِﻚَ اﻟْﻮَﻗْﺖِ ﺃَﻭْﻟَﻰ ﻣِﻦْ ﺗِﻠْﻚَ اﻟَّﺘِﻲ ﻛَﺎﻥَ ﻳُﻮَاﻇِﺐُ ﻋَﻠَﻴْﻬَﺎ
ﻻَ ﺃَﻧَّﻪُ ﺻَﻠَّﻰ اﻟﻠَّﻪُ ﻋَﻠَﻴْﻪِ ﻭَﺳَﻠَّﻢَ ﻛَﺎﻥَ ﻳَﺴْﺘَﻐْﻔِﺮُ ﻣِﻦْ ﺫُﻧُﻮﺏٍ ﻳَﺮْﺗَﻜِﺒُﻬَا۔
(ﺻﺤﻴﺢ اﺑﻦ ﺣﺒﺎﻥ-ﻣﺨﺮﺟﺎ،کتاب الرقائق،ذكر إباحة الاقتصار على دون ما وصفنا من الاستغفار، صفحة -207)
