حضورعلیہ السلام باعث ایجاد خلق ہیں
حضورعلیہ السلام باعث ایجاد خلق ہیں
بے شک حضورعلیہ السلام باعث تخلیق آدم علیہ السلام ہیں یعنی آقا علیہ الصلوۃ والسلام باعث ایجاد خلق ہیں
اگر حضور نہ ہوتے تو عرش اور فرش لوح اور قلم آسمان اور زمین جنت اور دوزخ شجر اور حجر برگ اور ثمر کچھ نہ بنائے
جاتے اس مضمون پرکچھ احادیث ہیں جن کو ابھی بیان کیا جاتا ہے.
لَولاكَ لَما خلقتُ الاَفلاكَ
لولاکَ لما خلقت الافلاک حدیث کی مؤید
1پہلی حدیث
لولاکَ لما خلقت الافلاک حدیث کی مؤیداحادیث بہت سارے ہیں جن میں سے کچھ یہاں پر بیان کیے جاتے ہیں،حدیث اول،حاکم
مستدرک اور بیهقی دلائل النبوه اور طبرانی کبیر میں اور ابونعیم حلیہ اور ابن عساکر تاریخ دمشق میں حضرت امیر المومنین
فاروق اعظم رضی اللہ عنہ سے راوی ہیں
یعنی رسول الله صلی اللہ علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں اللہ تعالی نے ارشاد
فرمایا جب آدم علیہ السلام سے لغزش واقع ہوئی عرض
کی الہی میں تجھے محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا واسطہ دے کر
سوال کرتا ہوں کہ میری مغفرت فرما ارشاد ہوا اے آدم تو نے
محمد کو کیوں کر پہچانا حالانکہ میں نے ابھی اسے پیدا نہ کیا عرض کی
الہی جب تو نے مجھے اپنی قدرت سے بنایا اور مجھ
میں اپنی روح پھونکی میں نے سر اٹھا کر عرش کے پایوں پر لکھا
دیکھا "لا الہ إلا اللہ محمد رسول اللہ”تو میں نے جانا کہ تو نے
اس کے ہی نام کو اپنے نام پاک کے ساتھ ملایا ہوگا جو تجھے تمام جہان
سے پیارا ہوگا رب تبارک و تعالی نے آدم علیہ السلام
سے فرمایا اے آدم تو نے سچ کہا بے شک محمد مجھے تمام مخلوق
سے پیارا ہے اور جب تو نے اس کا واسطہ دے کر سوال کیا
تو میں نے تیرے لیے مغفرت فرمائی "اگر محمد نہ ہوتا تو میں تجھے نہ بناتا”۔
(صححہ الحاکم وقرره في الحلية وقال السبكي في شفاء السقام تبين لنا صحته والشهاب في النسيم هو حديث صحيح)
لولاکَ لما خلقت الافلاک حدیث کی مؤید2 دوسری حدیث
یہ ہے کہ اللہ تعالی نے حضرت عیسی علیہ السلام کو وہی بھیجی
اے عیسیٰ محمد پر ایمان لاؤ اور اپنی امت کوحکم دوکہ ان پر
ایمان لائیں "اگرمحمد نہ ہوتے تومیں آدم کو پیدا نہ کرتا” نہ جنت اور دوزخ کو بناتا۔
(صححه الحاكم والشيخ نقي الدين السبكي في شفاء السقام وشيخ الإسلام البلقيني في فتاواه وابن حجر في أفضل القرآن)
لولاکَ لما خلقت الافلاک حدیث کی مؤید3تیسری حدیث
مسند فردوس میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں کہ
جبرائیل علیہ السلام میرے پاس حاضر ہوئے اور عرض کی اللہ تعالی ارشاد
فرماتا ہے "اگر تم نہ ہوتے تو میں جنت نہ بناتا”اور
اگر تم نہ ہوتے تو میں دوزخ نہ بناتا.(اشارة الى صحته القريب في تذكرة الموضوعات)
لولاکَ لما خلقت الافلاک حدیث کی مؤید4 چوتھی حدیث
ابن عساکر حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں
کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حضور جبرائیل علیہ
السلام نے حاضر ہو کر عرض کی اللہ تعالی فرماتا ہے میں نے اپنی
بارگاہ میں تم سے زیادہ عزت والا کسی کو پیدا نہیں کیا دنیا
اور اہل دنیا کو سب کو اس لیے پیدا کیا کہ تمہاری جو قدر و عزت میرے حضور میں ہے ان پر
آشکارا کروں "اگر تم نہ ہوتے میں دنیا کو نہ بناتا”
لولاکَ لما خلقت الافلاک حدیث کی مؤید5 پانچویں حدیث
لولاکَ لما خلقت الافلاک حدیث کی موید 5 پانچویں حدیث علامہ شہاب الدین
ابن حجر عسقلانی فرماتے ہیں کہ ان روایتوں میں آیا
ہے کہ اگر وہ نہ ہوتے تو میں پیدا نہ کرت آسمان اور نہ زمین اور نہ تول نہ عرض کو اور نہ رکھا جاتا اس میں
rثواب اور عذاب اور نہ بناتا جنت اور نہ دوزخ نافتاب نہ ماہتاب کو
اور اس کے سوا اس کی موئید اس مضمون کی اور بہت ساری حدیثیں ہیں جنہیں اعلی حضرت قبلہ و کعبہ
نے اپنی کتاب مستطاب یعنی "تجلی الیقین بان نبینا سید المرسلین” میں ذکر فرمایا ہے۔(فتاوی ملک العلماء،صفحه 289/291)
