شان اولیاء-غوث اعظم رضی اللہ عنہ کا تذکرہ خاص
شان اولیاء-غوث اعظم رضی اللہ عنہ کا تذکرہ خاص

اللہ عزوجل نے دنیا کے اندر لوگوں کی ہدایت کے لیے ایک لاکھ 24 ہزار کم و بیش انبیاء
کو بھیجا اور تمام انبیاء کے آخر میں نبی آخر الزماں حضرت محمد
مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو بھیجا اور آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے
بعد نبوت کا اختتام ہو چکا اب امت کی اصلاح کے لیے علماء اور اولیاء
مختلف ادوار میں مختلف صدیوں میں ظاہر ہوتے رہیں گے اور اللہ عزوجل اس کے
ذریعے نبی آخر الزماں کی دین کا خدمت لیتے رہیں گے۔اور اللہ عزوجل نے بڑے
بڑے اولیاء کو دنیا کے اندر بھیجا اور انہوں نے دین متین کی خدمت کی ایسے ہی
حضور غوث اعظم رضی اللہ عنہ ان ہستیوں میں شامل ہیں جن سے اللہ نے
دین متین کا خدمت لیا اور اخلاص کے ساتھ پوری زندگی دین متین کا خدمت کرتے رہے اسی طرح اس
تحریر کے اندر ہم پہلے اولیاء کی شان کو بیان کریں گے اس کے بعد حضور غوث اعظم رضی اللہ عنہ کاتذکرہ خاص کو بھی بیان کیا جائے گا
ہرصدی کے اختتام پرایک مجدد
حدیث شریف میں ہے آقا علیہ الصلوۃ والسلام نے ارشاد فرمایا ہر صدی کے
اختتام پر ایک مجدد پیدا ہوگا۔( مشکوۃ شریف)
بدعات کو مٹاکرسنتوں کو عام کرےگا اور عملی لحاظ سے بڑی تبدیلی رونما کریں گے
نیک بندوں سےدین کی حفاظت
فرمایا اللہ کے نیک بندے "دین کی حفاظت” کرتے رہیں گے۔(ابوداؤد) اور فرمایا
علمائے دین بارش نبوت کا تالاب ہیں۔(مشکوٰۃ شریف)
چالیس ابدال
آقا علیہ الصلوۃ والسلام نے ارشاد فرمایا 40 ابدال (اولیاء)کی برکت سے بارش اور دشمنوں پر فتح حاصل
ہوگی اور انہی کے طفیل اہل شام سے عذاب دور رہے گا۔(مشکوٰۃ شریف)
مچھلیوں کی دعا
آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ علماء کی زندگی کے لیے مچھلیاں دعا کرتی ہیں۔(مشکوٰۃ شریف)
یعنی مچھلیوں کی دعا علماء کی حق میں قبول ہوں گی۔
امت میں تین سو300 اولیاء
حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا میری امت میں ہمیشہ 300 اولیاء
حضرت آدم کے نقش قدم پر رہیں گے اور 40 حضرت موسی اور سات حضرت
ابراہیم علیہ السلام کے نقش قدم پر ہوں گے اور پانچ وہ رہیں گے کہ جن کا قلب
حضرت جبرائیل علیہ السلام کی طرح ہوگا اور تین حضرت میکائیل کے قلب
پر اور ایک حضرت اسرافیل کے قلب پر رہے گا جب اس ایک کا انتقال ہوگا تو ان
تین میں سے کوئی قائم ہوگا اور ان تین کی کمی پانچ میں سے اور پانچ کی
کمی سات میں سے اور سات کی کمی 40 میں سے اور 40 کی کمی 300 سے اور 300 کی کمی عالم
مسلمانوں سے پوری کر دی جاتی ہیں۔(مرقاۃملاعلی قاری)
غوث اعظم رضی اللہ عنہ کا سوانحی خاکہ
آپ غوث اعظم رضی اللہ عنہ کا سوانحی خاکہ یہ ہے کہ آپ سنی حنبلی طریقہ کے
نہایت اہم صوفی شیخ اور سلسلہ قادریہ کے بانی ہیں
حضور غوث اعظم رضی اللہ عنہ کی پیدائش کب ہوئی
آپ حضور غوث اعظم رضی اللہ عنہ کی پیدائش یکم رمضان 470 ہجری بمطابق
17 مارچ 1078 عیسوی میں ایران کے صوبہ کرمان شاہ کے مغربی شہر گیلان
میں ہوئی جس کو کیلان بھی کہا جاتا ہے اور اسی لیے آپ کا ایک اور نام شیخ
عبدالقادر کیلانی بھی مأخوذ ہے۔
حضورشیخ عبدالقادرجیلانی کی پرورش
حضور شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ کی پرورش آپ کے والد کے انتقال کے
بعد آپ کی والدہ اور آپ کے نانا نے کی شیخ عبدالقادر جیلانی کا شجرہ
نسب والد کی طرف سے حضرت امام حسن اور والدہ کی طرف سے حضرت امام حسین سے ملتا ہے۔
18 سال کی عمر میں شیخ عبدالقادر جیلانی تحصیل علم کے لیے بغداد
تشریف لے گئے جہاں آپ کو فقہ کے
علم میں ابو سید علی مخرمی علم حدیث میں ابوبکر بن مظفر اور تفسیر کے لیے
ابو محمد جعفر جیسے اساتذہ میسرآئے۔
ریاضت و مجاہدات
علم حاصل کرنے کے بعد شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ نے بغداد شہر کو چھوڑا
اور عراق کے صحراؤں اور جنگلوں میں 25 سال تک سخت ریاضت مجاہدات کیں۔
اور 1127 عیسوی میں آپ نے دوبارہ بغداد میں سکونت اختیار کی اور درس اور تدریس کا سلسلہ
شروع کیا جلد ہی آپ کی شہرت اور نیک نامی بغداد اور پھر دور دور تک پھیل گئی۔
اور 40 سال تک آپ نے اسلام کی تبلیغی سرگرمیوں میں بھرپور حصہ لیا نتیجتا
ہزاروں لوگ مشرف با اسلام ہوئے۔
اس سلسلہ تبلیغ کو مزید وسیع کرنے کے لیے دور دراز وفود کو بھیجنے کا سلسلہ شروع کیا۔
خود سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی نے تبلیغ اسلام کے لیے دور دراز کے سفر کیے اور
بر صغیر تک تشریف لے گئے اور ملتان میں بھی قیام پذیر ہوئے۔
فرامین غوث اعظم
حضور غوث اعظم کے بہت سارے فرامین ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ! اے انسان اگر تجھے محد سے لے کر
لحد تک کی زندگی دی جائے اور تجھ سے کہا جائے کہ اپنی محنت عبادت اور ریاضت سے
اس دل میں اللہ کا نام بسا لے۔
تو رب تعالی کی عزت اور جلال کی قسم یہ ممکن نہیں،اس وقت تک کہ جب تک
تجھے اللہ کے کسی کامل بندے کی نسبت اور صحبت میسر نہ آجائے۔
اور میرا مرید وہ ہے جو اللہ کا ذاکر ہے اور ذاکر میں اس کو مانتا ہوں جس کا دل اللہ کا ذکر کرے۔
آپ رحمۃ اللہ علیہ نے 40 سال عشاء کے وضو سے فجر کی نماز ادا فرمائی اور آپ
کا معمول تھا کہ جب بے وضو ہوتے تو اسی
وقت وضو فرما کر دو رکعت نماز نفل ادا کر لیا کرتے تھے۔(بھجۃ الاسرار،ذکرطریقہ،ص 164)
آپ بہت زیادہ عبادت اور قرآن کریم کی تلاوت کرتے تھے 15 سال تک رات بھر
میں ایک قرآن پاک ختم کرتے رہے۔(بھجۃ الاسرار،ذکرفصول من کلامہ…ص118)
آپ تیرا علوم بیان فرمایا کرتے تھے ژپ رحمۃ اللہ علیہ کے مدرسہ عالیہ میں لوگ
تفسیر حدیث اور فقہ وغیرہ پڑھتے تھے
دوپہر سے پہلے اور بعد دونوں وقت لوگوں کو تفسیر حدیث فقہ علم کلام علم اصول
اور علم نحو پڑھاتے تھے ظہر کی نماز کے
بعد تجوید قرات کے ساتھ قرآن کریم پڑھایا کرتے تھے۔(بھجۃ الاسرار،ص225)
آپ رحمہ اللہ کے دست مبارک پر 500 سے زائد غیر مسلموں نے اسلام قبول کیا اور ایک لاکھ سے زیادہ ڈاکو چور فسادی
اور بڑے بڑے گناہ کرنے والوں نے توبہ کی۔
بھجۃ الاسرار،ذکروعظہ،ص 184)
علامہ ابن جوزی کا علم
ابن جوزی ان علوم میں مہارت رکھتے تھے
علامہ ابن جوزی رحمہ اللہ ان علوم میں مہارت رکھتے تھے۔دیکھتےجائیں ابن جوزی کا علم۔
علم قرآن،علم حدیث،علم فقہ،علم جغرافیہ،علم طب،علم تاریخ،تفسیر،نجوم،حساب،لغت،نحو
اس کےعلاوہ دیگرعلوم و فنون میں مہارت رکھتے تھے۔300 کتابیں تصنیف فرمائی ہیں
(مقدمہ عیون الحکایات،ملخصا)
علامہ ابن جوزی شیخ عبدالقادر جیلانی کی مجلس میں
حافظ ابوالعباس فرماتےہیں میں علامہ ابن جوزی کےساتھ غوث اعظم رضی اللہ عنہ کے اجتماع غوثیہ میں حاضر ہوا اور غوث اعظم کا شان دیکھنے لگے پھر
دونوں ایک دوسرے کے آمنے سامنے بیٹھ گئے جب حضور غوث اعظم نے
وعظ شروع فرمایا تو ایک آیت کی تفسیر مختلف طریقوں سے بیان فرمانے لگے
جب حضور غوث اعظم نے بعض شروع فرمایا تو ایک آیت کی تفسیر مختلف طریقوں سے بیان فرمانے لگے
پہلی تفسیر بیان فرمائی تو دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھتے ہوئے تصدیق کرتے ہوئے اپنی اپنی گردنیں ہلا دیں۔
اسی طرح 11 تفسیروں تک تو دونوں ایک دوسرے کی طرف دیکھ دیکھ کر اپنی اپنی
گردنیں ہلاتے اور ایک دوسرے کی تصدیق کرتے رہے۔
مگر جب شیخ عبدالقادر جیلانی نےبارہویں تفسیر بیان فرمائی تو اس تفسیر سے ہم دونوں ہی لاعلم تھے۔
اس لیے آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دونوں آپ کا منہ مبارک تکنے لگے اسی طرح 40 تفسیریں
اس آیت مبارکہ کی آپ بیان فرماتے چلے گئے اور ہم دونوں عالم استعجاب
میں تصویر حیرت بنے سنتے اور سر دھنتے رہے۔پھرآخر میں
آپ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ اب ہم قال سے حال کی طرف پلٹتے ہیں پھر بلند آواز سے
کلمات طیبہ کا نعرہ بلند فرمایا تو ساری مجلس میں ایک جوش کی کیفیت اور اضطراب پیدا ہو گیا
اور علامہ ابن جوزی نے جو ش حال میں اپنے کپڑے پھاڑ ڈالے۔(بھجۃ الاسرار)
آپ نے اس تحریر کا مطالعہ کیا جس کا عنوان تھا
شان اولیاء-غوث اعظم رضی اللہ عنہ اور اس تحریر سے غوث اعظم رضی اللہ عنہ کے کمالات اور علوم بہتر انداز میں ظاہر ہوئے ہیں۔
