غیرت مند آدمی
غیرت مند آدمی
زیادہ کھانےوالےآدمی کےبارےمیں پڑھیں
ہر انسان کو باغیرت ہونا چاہئے چاہے دنیا کے معاملے یا شریعت کے معاملے
اس کی بہت اہمیت ہے حضرت علامہ اقبال کی اس پر ایک شعر بھی ہے
جوکہ درویشوں کے بارے میں ہے فقراء کے بارے میں ہے
فقیرو درویش کو دنیاوی حاجت کے لئے مال داروں کے پاس نہیں جانا چاہئےفرمایا
غیرت ہے بڑی چیز جہان تگ و دو میں
پہناتی ہے درویش کو تاج سرِ دارا
شیخ سعدی علیہ الرحمہ نے اس پر ایک قصہ نقل کیا جو کہ بوستان کے پانچویں باب کے اندر موجود ہے۔
غیرت مند آدمی کو شکر کی ضرورت پڑی
ایک غیرت مند آدمی کو بخار چڑھ گیا اس کو شکر کی
ضرورت پڑی تو کسی نے کہا فلاں شخص سے تھوڑی
سی شکل مانگ لاؤ اس نے جواب دیا میرے لیے موت کی
تلخی اس (ترش چہرے والے) کی شکل سے زیادہ پسند
ہے مرنا گوارا ہے مگر مانگنا برداشت نہیں عقلمند ایسے
شخص سے شکر نہیں مانگتا جو سوال سن کر چہرہ سر
جیسا (سخت) کر لے دل کی ہر خواہش پوری نہیں کرنی
چاہیے کیونکہ جسمانی آرام روح کا نور گھٹا دیتا ہے۔
انسان کو ذلیل کرنے والے نفس امارہ کو کوئی عقلمند بھی
عزت نہیں دیتا نفس کی ہر تمنا پوری کرنے والا دنیا سے
نامراد ہو کر جاتا ہے ہر وقت پیٹ کا تنور گرم رکھنے
والا فاقے کے دنوں بہت پریشان ہوتا ہے زیادہ کھانے والا
زیادہ بوجھ اٹھانے والا ہے اور کھانے کو نہ ملے تو پھر
غم کا بوجھ اٹھاتا ہے پیٹ ذلیل و خوار ہوتا ہے اور پیٹ
کی تنگی دل کی تنگی سے بہتر ہے یعنی کھانے کو نہ
ملے تو پرواہ نہ کرے مگر دل تنگ ہو کر لالچ کرنا اور
دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلانا بہت برا ہے۔
تشریح
نفس امارہ کی تعریف
یہ ہے کہ جو برائی کا حکم دے
یہ نفس کی پہلی قسم ہے جس کا بیان قرآن پاک میں سورہ یوسف پارہ 13 کی پہلی آیت میں ہے جس میں
زلیخا نے اپنی غلطی تسلیم کرنے بعد جو کلام کیا رب نے اسے نقل فرمایا قرآن پاک میں
ترجمہ کنزالعرفان: اور میں اپنے نفس کو بے قصور نہیں
بتاتا بے شک نفس تو برائی کا بڑا حکم دینے والا ہے مگر
جس پر میرا رب رحم کرے بے شک میرا رب بخشنے
والا مہربان ہے۔سورہ یوسف،آیت 53
