فقہ کی حقیقت
فقہ کی حقیقت

اسی تحریر کے درمیان میں رب تعالیٰ کا فرمان ذکر ہوگا اللہ و رسول کے حکم کے بعد حکم والوں کا حکم مانو اس سے فقہ کی حقیقت
ثابت ہوجاتی ہے قفہ کی ضرورت اس وجہ سے بھی ہے کہ ہربندہ احکام کو
مکمل طور پر نہیں جان سکتا اس لئے ہل علم سے ہی پوچھ کر اپنے
مسائل کو حل کیا جاتا ہے
فضیلت فقہ اور جہاد کی فضیلت اور اہمیت سے
کسے انکار ہے۔ گو قرآن کریم میں فرمایا گیا۔
مسلمانوں کو یہ نہیں چاہئے کہ سب کے سب نکل پڑیں
ایسا کیوں نہ ہوا کہ ہر گروہ میں ایک جماعت نکلے تاکہ
دین کی سمجھ حاصل کرے
( سوره یونس آیت ، 122)
اس آیت سے بھی فقہ کی حقیقت کا پتہ چلتاہے
اور ارشاد ہوا ۔
وَمَن يُوتَ الحِكْمَةَ فَقَدْ أُوتِي خَيْرًا كَثِيراً
سورہ بقرہ آیت (248)
جس کو حکمت دی گئی اس کو بہت بھلائی دی گئی
مفسرین کا اتفاق ہے کہ حکمت سے مراد احکام ہیں۔
جن کا زیادہ احکام یاد ہوں گے وہ حکمت کے اعلی مرتبے پر ہوگا اس سے فقہ کی حقیقت ظاہرہے
بھلائی کا ارادہ
امام بخاری نے حضرت معاویہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔
جس کے ساتھ اللہ عزوجل بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے
اسے دین میں سمجھ عطافرماتا ہے۔
(بخاری شریف)
اس سے بھی فقہ کی حقیقت ظاہر ہوتاہے
بندے کو تر تازہ رکھے
اس بندے کو اللہ عز وجل ترو تازہ رکھے جس نے میرے
ارشاد کو سنا پھر یاد کیا اور محفوظ رکھا اور دوسرے تک پہنچا یا۔
کتنے فقہ کے حامل نہیں کتنے فقہ کے حامل سے زیادہ
فقیہ وہ ہے جس کو اس نے پہنچایا۔
رواه احمد والترمذى وابوداو
وابن ماجة والدار مى عن زيد بن ثابت۔
(مشکوٰۃ شریف )
کام کرنے کے ساتھ ہی ساتھ اسے
حقیقت یہ ہے کہ کسی بات کو سنکر اسے کما حقہ یاد
رکھنا کمال ضرور ہے مگر کما حقہ یاد رکھنے کے
ساتھ ہی ساتھ اسے بخوبی سمجھ لینا اس سے کئی گنا
زیادہ کمال ہے۔ یہی وہ حد فاصل ہے
جو ایک فقیہ کو ایک محدث سے ممتاز کرتی ہے ۔
محدث کا کام
محدث کا کام احادیث کو صحت کے ساتھ یا درکھنا ہے ۔
اور فقیہ کا کام اس کے ساتھ ساتھ اسے شارع کے
منشاء کے مطابق سمجھنا ہے۔ پھر اس سے احکام کا استخراج (نکالنا)ہے ۔
وسعت علم اور ذکاوت
ان دونوں باتوں کے لئے کتنی وسعت علم اور ذکاوت
فطانت کی ضرورت ہے۔ یہ وہی جان سکتا ہے ۔ جو فقہ
سے آشنا ہو ۔
علماء کا قول
اس لئے علما نے فرمایا کہ محدث ہونا علم کی پہلی
منزل ہے۔ اور فقیہ ہونا اخیرمنزل ۔ جس کی حرف
بحرف تصدیق آگے آنے والی تفصیل سے ہر منصف کو ہو جائے گی۔
قرآن مجید عربی زبان میں ہے۔ صحابہ کرام
عربی ہی تھے۔ ان کے سامنے قرآن نازل ہوتا تھا۔ شان نزول سے وہ واقف تھے
مگر اس کے باوجود اس کے
محتاج تھے کہ معنی قرآن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے سیکھیں۔ اس لئے قرآن
کریم میں حضور اقدس وسلم
کی صفت یہ بیان فرمائی۔
اور فرمایا :۔
تم يزكيهم ويعلمهم الكتب والحكمة
رسول ان پر اللہ کی آیتیں تلاوت کرتا ہے اور انھیں پاک
کرتا ہے اور انھیں کتاب وحکمت سکھاتا ہے ۔
(سورہ نساء، آیت 164)
نضربھا للناس
تلك الأمثالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ وَمَا يَعْقِلُهَا إِلَّا الْعَالِمُونَ (سورہ عنکبوت،آیت 43)
یہ مثالیں ہم لوگوں کے لئے بیان کرتے ہیں انھیں صرف علم والے ہی سمجھتے ہیں ۔
بہت سے حامل فقہ
حدیث گذری کہ بہت سے حامل فقہ، غیر فقیہ ہوتے
ہیں۔ بعض فقیہ بعض سے اعلی و بر تر ہوتے ہیں ۔ یہ سب
اسی کی طرف رہنمائی ہے محض حفظ انسانی کمال
کی معراج نہیں ۔ بلکہ یہ خشت اول ہے۔ معراج علم کما
حقہ اس کا سمجھنا ہے۔ اور یہ کام صرف فقیہ کا ہے۔
ضرورت فقہ
انسان کی معاشرت کی وسعت نے اتنی چیزوں کا
انسان کومحتاج بنا دیاہے کہ انسان اگر لاکھ کوشش کرے کہ وہ
دوسرے سے مستغنی ہو جائے تو محال ہے ۔
انسان عبادات کے علاوہ معاملات میں بھی شریعت کا پابند ہے اس لئے اسے عبادات
کے علاوہ معاملات میں بھی قدم قدم لحظه لحظه احکام شریعت کی ضرورت ہے ۔
عبادات
آپ صرف عبادات ہی کو لے لیجئے اس کے فروع و
جزئیات کتنے کثیرہیں اب ہر انسان کو اس کا مکلف کرنا
کہ وہ پورا قرآن حفظ ر کھے ۔ اور تمام احادیت کو مع سند مالہ وما علیہ کو یاد رکھے
تکلیف مالا یطاق ہے۔(ایسی تکلیف کا کی طاقت انسان نہ رکھے)
یہ اس لئے ضروری ہوا کہ انسان میں کہ انسان میں
تقسیم کار ہو۔ اس کے نتیجے میں ضروری ہے کہ ایک طبقہ
علم دین کی تحصیل اور نشرو اشاعت میں مصروف ہو
جس کا صریح حکم سورہ یونس مذکورہ بالا آیت میں
موجود ہےکہ ہر گروہ میں سے ایک جماعت فقہ حاصل کرے
رہ گئے عوام تو انھیں یہ حکم ہے ۔
فَاسْتَلُوا أَهْلَ الذِكرِ إِن كُنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ
(سورۃ الانبیاء)
علم والوں سے پوچھو اگر تمھیں علم نہیں۔
عوام کو اسکا مکلف کیا گیا کہ وہ اللہ عزوجل اور رسول کے بعد علماء کی اطاعت کریں ۔
حکم دینے والوں کی اطاعت
ارشاد ہے :۔
بايُّهَا الَّذِينَ مَنوا أَطِيعُوا اللهَ وَأَطِيعُوا التي سُول وأُولِي ال٘أَم٘رِمِن٘کُم٘
سورہ نساء آیت 59
اے ایمان والو اللہ کا حکم مانو اور رسول کا اور تم
میں جوحکم والےے ہیں ان کا حکم مانو۔
اب ایک منزل یہ آتی ہے کہ کوئی شخص ایک مسئلہ پو چھنے آیا۔ تو کیا یہ ضروری ہے
کہ اسے قرآن کی وہ آیت پڑھ کے سنائی جائے
یاوہ حدیث مع سند کے بیان کی جائے
جس سے یہ حکم نکلتا ہے۔ اور استخراج کی وجہ بھی بیان کی جائے۔
اور اگر یہ ضروری قرار دیں تو
اس میں کتنی دقت اور دشواری اور حرج ہے۔
وہ ظاہر ہے۔ علاوہ ازیں جن جزئیات میں کوئی آیت یا حدیث نہیں ان جزئیات کے
بارے میں کیا کیا جائے ۔ جہاں تک میری معلومات کا تعلق ہے امت کا اس پر عملی طور
پر اجماع ہے کہ عوام کو اتنا بتا دینا کافی ہے کہ اس
صورت کا یہ حکم ہے ۔
نزھۃ القاری، حصہ اول،ص 188 تا 191 مقدمہ
