جنگ بدر
جنگ بدرکا مختصر تذکرہ
ہجرت کے دوسرے سال رمضان شریف کے اندر مسلمانوں کو اللہ رب العزت نے
جنگ بدر پر فتح عطا فرمائی اس کے بارے میں مزید تفصیل ملاحظہ کریں
یہ بھی پڑھیں جنگ احد کا ذکر
پہلی ہجری کے غزوات

جنگ بدر کو "بدر” کیوں کہاگیا ؟
نام کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ بدر مدینہ منورہ سے تقریبا 80 میل کے فاصلے پر
ایک گاؤں کا نام ہے جہاں زمانہ جاہلیت میں سالانہ میلا لگتا تھا
کسی گاؤں میں ایک کنواں تھا جس کا نام بدر تھا اور اسی کنویں کے قریب
اللہ رب العزت نے مسلمانوں کو فتح عطا فرمائی کفار قریش پر
اور اسی جنگ کو اللہ رب العزت نے ایک دوسرا نام بھی دیا اور جنگ بدر کا دوسرا نام یوم الفرقان رکھا۔
قرآن پاک میں جنگ بدر کا ذکر
قرآن پاک کے سورۃ الانفال میں تفصیل کے ساتھ اللہ رب العزت نے جنگ بدر کا ذکر فرمایا ہے اور دوسری
سورتوں میں اشارتا اور کہیں کسی صورت میں نام کے ساتھ ذکر فرمایا جیسا کہ سوره آل عمران آیت نمبر 123
میں جنگ بدر کو اللہ رب العزت نے نام کے ساتھ ذکر کیا اور اس آیت کے اندر اللہ
رب العزت نے فرشتوں کی مدد کے بارے میں بھی ذکر کیا ہے
بدر کے وقوع کا سبب
سریہ عبداللہ ابن جحش دو ہجری رجب کے اندر وقوع پذیر ہوا اس سریے میں عمروبن الحضرمی مسلمانوں کے ہاتھوں قتل ہوئے
اور اسی قتل کے سبب کفار قریش میں خون کے بدلے کا اشتعال پیدا ہوا تو انہوں نے
یہ نعرہ لگایا کہ خون کا بدلہ خون لے کر رہیں گے اور آگے جا کر جنگ بدر وقوع پذیر ہوا
جنگ کے وقوع کا دوسرا سبب
جنگ بدر کے واقع ہونے کا دوسرا سبب یہ بھی ہے کہ "غزوہ ذی العشیرہ” کے وقت حضور علیہ الصلوۃ
والسلام کو پتہ چلا کہ کفار قریش ایک قافلہ مال تجارت لے کر مکہ سے شام جا رہا تھا حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے
مقام "ذی العُشیرہ” جو ینبع کی بندرگاہ کے قریب ہے وہاں تک پیچھا کیا وہیں
جا کر حضور علیہ الصلوۃ والسلام کو معلوم ہوا کہ قافلہ آگے گزر چکا ہے پھر
اسی قافلے کے متعلق بعد میں اچانک حضور علیہ الصلوۃ والسلام کو خبر ملی
کہ اب وہی قافلہ شام سے لوٹ کر مکہ جانے والا ہے اور اس قافلے کا سربراہ ابو
سفیان بن حرب اور مخرمہ بن نوفل اور عمرو بن عاص کر رہے ہیں کل 30 یا 40 آدمی ہیں
اور کفار قریش کا مال تجارت جو اس قافلہ میں ہے وہ بہت ہی زیادہ ہے
تو حضور علیہ الصلوۃ والسلام اس کے پیچھے چلے گئے اور اس طرح ابو سفیان کو
پتہ چلا کہ مسلمان قافلے کے پیچھے ہیں تو ابو سفیان اپنا قافلہ جلدی سے لے کر
گئے اور خطرے کے سبب مکہ والوں کو اطلاع بھیجی کہ آؤ مسلمان قافلے پر
حملہ کرنے لگے ہیں اور اپنا قافلہ بچاؤ اور وہاں کفار قریش ایک ہزار تعداد لشکر
جرار تیار کر کے مسلمانوں سے بدلہ لینے کے لیے آگے بڑھے اور پھر بدر کے مقام پر آکر جمع ہوئے اور وہیں
میدان بدر میں دونوں گروہوں کے درمیان جنگ شروع ہوئی اور آخر میں حضور علیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ رب العزت نے فتح عطا فرمائی۔
(سیرت مصطفی صفحہ 207 تا 211)
بدر کےلیےمسلمانوں کی روانگی
چنانچہ مسلمان 12 رمضان دو ہجری کو بہت جلدی کے ساتھ چل پڑے جو جس حال میں تھا روانہ ہو گیا اس
لشکر میں حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ نہ زیادہ ہتھیار تھے نہ فوجی نہ راشن کی کوئی بڑی
مقدار تھی کیونکہ کسی کو گمان ہی نہیں تھا کہ آگے جا کر کوئی بڑی جنگ ہوگی
اور حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرما دیا تھا کہ یا تو قافلہ ہمارے ہاتھ آجائے گا یا کفار کے لشکر کے ساتھ
جنگ بھی ہو سکتی ہے حضرت ابوبکر اور حضرت عمر فاروق دوسرے مہاجرین نے بڑوں بڑے جوش و خروش
کا اظہار کیا مگر حضور علیہ الصلوۃ والسلام انصار کی طرف دیکھ رہے تھے۔
پھر انصار میں سے قبیلہ خزرج کے سردار حضرت سعد بن عباده رضی اللہ عنہ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا چہرہ دیکھ کر بول اٹھے
کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیک وسلم اگر آپ کا اشارہ ہماری طرف ہے تو خدا کی
قسم ہم وہ جانسار ہیں کہ اگر آپ علیہ السلام کا حکم ہو تو ہم سمندر میں کود پڑیں۔
انصار کے ایک اور سردار حضرت مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ نے جوش میں
آکر حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے سامنے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم ہم حضرت موسی علیہ السلام کی قوم کی طرح کبھی بھی یہ نہیں کہیں گے
کہ آپ اور آپ کا خدا جا کر لڑیں بلکہ ہم لوگ آپ کے دائیں سے بائیں سے آگے
سے پیچھے سے لڑیں گے انصار کے ان دونوں سرداروں کی تقریر سن کر آقا علیہ الصلوۃ والسلام کا چہرہ مبارک خوشی سے چمک اٹھا۔
(بخاری شریف غزوہ بدر جلد دوم صفحہ نمبر564)(سیرت مصطفی 212)
بدر والے فوج کی تعداد
مسلمانوں کی کل فوج 313 تھی جن میں 60 مہاجرہ اور باقی انصار تھے
جب قافلے کے پیچھے کی خبر مکہ والوں کو پہنچے تو اس وقت تمام پہلے ہی عمرو بن الحضرمی کے موت کے انتقام کے لیے طیش میں تھے
اب قافلے کی پر حملے کا سن کر یہ لوگ اور جوش میں آگئے تمام سرداران قریش اکٹھے ہوئے اور ایک ہزار
کا لشکر جرار لے کر روانہ ہو گئے وہ روزانہ دس دس اونٹ ذبح کرتے تھے اور پورے لشکر کو کھلاتے تھے .
(سیرت مصطفی صفحہ 215)
ابو سفیان کا خط
بعد میں ابو سفیان نے ان کو خط بھیجا جب یہ لوگ مقام جحفہ میں تھے ابو سفیان نے کہا کہ میں قافلہ
بچا کر مسلمانوں سے نکل آیا ہوں لہذا آپ لوگ بھی واپس لوٹ جاؤ اب کفار میں
اختلاف پیدا ہو گیا تو ان میں سے کچھ لوگ لشکر چھوڑ کر واپس چلے گئے اور
باقی حملہ کرنے کے لیے بدر کی مقام کی طرف بڑھے کسی روایت میں آتا ہے کہ جو لوگ کفار قریش کا قافلہ
چھوڑ کر واپس گئے تھے ان کی تعداد 300 تھی مکہ سے ایک ہزار کا لشکر روانہ ہونے
کے بعد 300 لوگ کم ہو گئے اور مسلمانوں کا مقابلہ 700 لوگوں کے ساتھ ہوا
(الرحیق المختوم)
