دولت عثمانیہ کے بانی عثمان بن ارطغرل
دولت عثمانیہ کے بانی عثمان بن ارطغرل کے حالات زندگی اور اس ان کی اوصاف و جہادی خدمات پر ایک تحریر
سلیمان دادا کی وفات کے بعد ارطغرل جانشین مقرر ہوا یہ سلجوقیوں کا حمایتی رہا اور عثمان بھی حمایتی رہا اور ایسے میں خدمات کرتے دنیا سے وصال فرماگئے
عثمانیوں کا تعلق ایک ترکمانی قبیلہ سے ہے جو ساتویں صدی ہجری و بمطابق تیرہویں صدی عیسوی کو کردستان میں آباد تھا اور چرواہا پیشہ کرتا تھا یعنی وہ چرواہے تھے
چنگیز خان کی قیادت میں جب منگولیوں نے عراق اور ایشیائےکوچک کے مشرقی علاقوں پر بہت زیادہ حملہ کیے تو عثمان کا دادا سلیمان اپنے قبیلہ کے ساتھ ہجرت کر
کے کردستان سے اناضول کے علاقوں میں آکر آباد ہوا اور اخلاط کے شہر کو اپنا وطن بنایا جو کہ موجودہ ترکی
کے مشرق میں ایک شہر ہے جو ارمینیا میں بحیرہ وآن کے قریب واقع ہے۔
سلیمان کا فوت ہونا
یہ 617 ہجری کی بات ہے جبکہ 16 ایماان 668 ہجری کو فوت ہوا اور اپنے منزل صاحبزادے ارطغرل کو اپنا
جانشین مقرر کیا ارطغرلدول سے شمال مغرب کی طرف مسلسل بڑھتا رہا اس کے ساتھ تقریبا 100 خاندان اور چار سو سے زائد شاہ سوار تھے
ارطغرل کا سلجوقی فوج کا مدد کرنا بیزنطینیوں کے خلاف
عثمان کا والد ارطغرل جب اپنے قبیلے کو لے کر منگولیوں کے خطرے سے بچنے کے لیے بھاگ نکلا تھا تو اس کی تعداد 400 خاندانوں سے زیادہ نہیں تھی
راستے میں ایک مقام پر اچانک بہت شور بلند ہوا ارطغرل جب قریب پہنچا تو دیکھا کہ مسلمانوں اور نصرانیوں کے درمیان جنگ کا میدان گرم ہے اور بیزنطینی عیسائی
مسلمانوں کو پیچھے دھکیل رہے ہیں ارطغرل کے پاس اس کے علاوہ اور کوئی چارہ کار نہیں تھا کہ وہ پوری شجاعت اور بہادری کے ساتھ آگے بڑھتے ہوئے اپنے ہم
مذہب اور ہم عقیدہ بھائیوں کو اس مشکل سے نکالے البتہ ارطغرل نے زور سے حملہ کیا کہ نصرانیوں کے پاؤں اکھڑ گئے اور اس کی پیش قدمی مسلم لشکر کی فتح کا
سبب بن گئی اور مسلمان کامیاب ہو گئے جب جنگ کا ختم ہوا تو سلجوقی اسلامی لشکر کے سپہ سالار نے ارطغرل اور اس کے دستے کی بروقت پیش قدمی کی تحسین کی
اور انہیں رومی سرحدوں کے پڑوس میں اناضول کے مغربی سرحدوں میں ایک جاگیر عطا کی۔
(الفتوح الاسلامیہ عبر العصور ڈاکٹر عبدالعزیز عمومی صفحہ نمبر 353)
اور اس طرح انہیں موقع دیا گیا کہ وہ رومی علاقوں کی طرف پیش قدمی جاری رکھتے ہوئے سلجوقی سلطنت کی توسیع کا سبب بنیں۔
ارطغرل کا وصال
699 ہجری 1299 عیسوی میں ارطغرل کا وصال ہوا (تاریخ سلاطین آل عثمان از قرمانی صفحہ 10)
تو اس نے اپنے بیٹے عثمان کو اپنا نائب مقرر کیا اور عثمان اراضی روم کی طرف پیش قدمی کر کے سلجوقی
سلطنت کی توسیع کی سابقہ پالیسی پر قائم رہا۔(تاريخ الدولة العلية محمد فريد صفحہ 115)
بانی دولت عثمانیہ کی تاریخ پیدائش
656 ہجری 1258 عیسوی ارطغرل کے ہاں ایک بیٹا پیدا ہوا والدین نے اس کا نام عثمان رکھا اسی عثمان کی طرف عثمانی سلطنت منسوب کی جاتی ہے. (سلطان محمد فاتح از عبدالسلام عبدالعزیز صفحہ نمبر 12)
یہ اسی سال کی بات ہے جس سال ہلاکو خان نے عباسی خلافت کے دارالحکومت بغداد پر حملہ کیا منگول لشکر کے ساتھ
بیزنطینیوں کا عثمان کے خلاف اتحاد
700 ہجری میں جب بزنطینیوں نے بورصہ،مادا نوس ،ادرہ،نوس،کتہ،کستلا کے نصرانی امراء کو عثمان بن
ارطغرل سے جنگ کرنے کی غرض سے ایک صلیبی معاہدہ تشکیل دینے کی دعوت کی تو عثمان اس کے مقابلہ میں آیا اور ان کے اندر گھس کر جنگ کی اور صلیبی
فوجوں کو تتر بتر کر دیا اور عثمانیوں کے نزدیک اس کی بہادری ضرب المثل بن گئی۔(جوانوں مضیئۃ فی تاریخ العثمانیین الاتراک و 197)
عثمان کے صفات
دولت عثمانیہ کے بانی عثمان انتہائی درجہ کا دیندار شخص تھا وہ جانتا تھا کہ اسلام کی نشر و اشاعت ایک مقدس فریضہ ہے وہ نہایت سنجیدہ اور وسیع سیاسی فکر
و نظر کا مالک تھا عثمان نے اپنی سلطنت کی بنیاد اقتدار کی محبت پر نہیں رکھی بلکہ اس کی بنیاد اسلام کی اشاعتت کی محبت پر رکھی۔(جوانب مضیئۃ صفحہ 33)
عثمان کے فتوحات
707 ہجری میں عثمان نے یکے بعد دیگرے کتہ،لفکہ،آق حصار، کوج حصار کے قلعے فتح کیے
اور 712ھ میں کبوہ،یکیجہ،طراقلوااور تکرر بیکاری قلعے فتح کیے انہیں فتوحات نے بروسہ شہر کو فتح کرنا آسان بنا دیا حالاں کہ اسے فتح کرنا بہت مشکل تھا۔
نصرانی سپہ سالار اقرینوس جھک گئے اور قلعہ کو حوالے کردیا عثمان نے صبرو استقامت کے ساتھ فتوحات حاصل کیں۔
بعد میں اقرینوس عثمان کے اخلاق اور طرز سیاست سے بہت متاثر ہوا اور اسلام قبول کرلیا عثمان کے ہاتھ پر اور عثمان نے اسے بیگ کا لقب دیا اور معروف سپہ سالار رہے عثمان کا۔
کئی جماعتوں کا عثمان کی حمایت میں آنا
خدمت دین اور جہاد کے جذبے سے عثمان آگے بڑھتے رہے اور کئی فتوحات حاصل ہونے کے بعد کئی دوسری جماعتیں بھی عثمان کے ساتھ شامل ہوگئیں۔
یہ بھی پڑھیں جہاد کی فضیلت
یہ بھی پڑھیں سلطان سلیم اول کی جہادی سرگرمیاں
جیسے "جماعت غزایاروم” یعنی رومی غازی یہ ایک اسلامی جماعت تھی جو روم کی سرحد پر نظر رکھتی تھی اور سرحد پر خیمہ زن رہتی تھی
عباسی دور سے یہ رومی سرحد پر سد سکندری بنی ہوئی تھی اس لحاظ سے انہیں کافی تجربات بھی حاصل ہو گئے تھے رومی فوج سے مقابلے کے بارے میں۔
اس طرح مخیر حضرات کی ایک جماعت بھی ان کے ساتھ شامل ہوگئی جسے "الاخوان” کہاجاتا تھا یہ جماعت مسلمانوں کی مالی مدد کرتی تھی غازیان اسلام کی خدمت
کے لیے لشکروں کا ساتھ دیتی ان کے اکثر اراکین کا تعلق تاجروں سے تھا جنہوں نے اپنی دولت اسلامی خدمات کے لیے وقف کر رکھی تھی
یہ سماجی کام مثلا مساجد،خانقاہیں،ہوٹلوں،دکانوں کی تعمیر کا کام بھی کرتے ان میں علماء کی جماعت بھی ہوتی جو دین کی ترویج کرتے۔
ایک جماعت جس کا نام "حاجیات روم” یعنی حجاج روم یہ اسلامی ترویج کا کام کرتے تھے۔(التراجع الخضاری فی العالم الاسلامی،ڈاکٹر علی عبد الحلیم ص:331/332)
عثمانی دستور اور اورخان کو نصیحت
جہاد فی سبیل اللہ کے تسلسل کو قائم رکھتے ہوئے دین اسلام کو ہمیشہ سر بلند رکھنا
مکمل ترین جہاد کے ذریعے اسلام کے مقدس جھنڈے کو تھامے رکھنا
ہمیشہ اسلام کے خادم رہنا کیونکہ اللہ تعالی نے مجھ جیسے ایک کمزور بندے سے شہروں کو فتح کرنے کی خدمت لی
جہاد فی سبیل اللہ کے ذریعے کلمہ توحید کو اقصائے عالم میں پہنچا دو
میری نسل سے جو شخص بھی حق اور عدل سے روگردانی کرے گا روز حشر رسول اللہ کی شفاعت سے محروم رہے گا
اے میرے بیٹے دنیا میں کوئی بھی سر ایسا نہیں جو اپنا سر موت کے سامنے خم نہیں کرے گا
مجھے پیغام اجل آپہنچا ہے یہ سلطنت تیرے حوالے کرتا ہوں اور تجھے اپنے مولا کو سونپتا ہوں اپنے تمام کاموں میں عدل کرنا۔
(سلاطین العثمانیون،صفحہ:33)
دولت عثمانیہ کے بانی عثمان کے اسی ضابطے اور اصولوں پر سلطنت قائم رہی
عثمان جب فوت ہوئے تو سلطنت کا کل رقبہ 16000 مربع کلومیٹر تھا وہ بحر مرمرہ تک راستہ بنانے میں کامیاب ہوگئے تھے
اور اس دور کے دو اہم بیزنطینی شہر ازنیق اور بورصہ کو فتح کرنے کامیاب ہوئے۔
