سلطان سلیم اول کی جہادی سرگرمیاں
سلطان سلیم اول کی جہادی سرگرمیاں
آپ نےآتےہی جہادی سرگرمیاں کیں اور ان میں یہ تبدیلیاں کیں۔
1 مغرب کی طرف پیش قدمی رک گئی
2اوردولت عثمانیہ اسلامی مشرق کی طرف متوجہ ہو گئی۔
یہ بھی پڑھیں ترکوں کی سلطنت کے لیے ابتدائی جدوجہد
یعنی مغربی جہادی سرگرمیاں جو ہورہی تھیں،کو
چھوڑ کر وہ اسلامی مشرق کی طرف متوجہ ہوئےاس لئے کہ اس طرف دولت صفویہ نے پرتگالیوں کےساتھ
مل کردولت عثمانیہ کے خلاف سازشیں شروع کر رکھی تھیں۔
نسبت صفویہ
شیخ صفی الدین اردبیلی650ھ تا735ھ کی طرف منسوب ہونے کی وجہ سے صفوی شیعہ یادولت صفوی کہلایا۔
یہ ایرانیوں کےپیشواکہلائےاوراورانہیں ایرانیوں کی
تائید حاصل ہوئ۔اور ان کے مریدوں نےیہ بات پھیلائی کہ یہ حضرت علی کی اولاد سے ہیں۔
یہ تقیہ بازتھااوربظاہرشافعی المذہب تھاتمام راستے ہموارہوئےتواسکےپوتےاسماعیل نےشیعہ دعوت کا اعلان کیا۔
اسماعیل نےاعلان کردیا کہ ایران کا سرکاری مذہب شیعہ ہوگا۔
مخالفوں کوموت کےگھاٹ اتاردیا۔
ایران میں اس وقت سارے سنی مذہب کےلوگ تھے
شیعہ عقیدہ نہ اپنانے کی وجہ سےسنی العقیدہ لوگوں کو ماردیاجاتاتھا۔
شیخ قطب الدین، حنفی الاعلام میں لکھتے ہیں؛
صفوی نےدس لاکھ سے زیادہ لوگوں کو قتل کردیا،ان کےہاتھوں علماءاسلام کی بڑی تعداد قتل ہوااسماعیل
جواپنےدورکےبہت بڑےعالم تھے،ان کی کتابوں کےساتھ قرآن کریم کےنسخوں کوبھی جلایا گیا۔
شاہ اسماعیل صفوی الوھیت کا دعویدار
اس کےمریدشاہ اسماعیل صفوی کو الوھیت کادرجہ دیتے تھے۔(نعوذباللہ)
قطب الدین حنفی کے بقول اس کو کسی نےشکست
نہیں دی پہلی بارسلطان سلیم نے اس کو شکست سے دوچارکیا(الاسلام فی آسیامنذالغزوالمغولی)
سلطان سلیم نےجنگ سے پہلےاس کےبارے میں علماءسے فتویٰ لیا،اس پرمرتد ہونے کا فتویٰ لگاواجب
القتل قرار پایا اس کو اس کےپیروکاروں کو ختم کرنےکا فتوی صادرہوا،یہاں تک کہ سلطان نےاسے دین حق
کی دعوت دی،اوریہ بھی کہا جن علاقوں پر قبضہ کیاہےانہیں خالی کردو جان بخش دی جائےگی۔
جب سلطان اپنا لشکرلےکرصفویوں کےدارالحکومت تبریز میں داخلے کی تیاری کررہاتھااسماعیل صفوی بھاگ کھڑاہوا۔
اس نے سلطان کو معاہدہ کی پیشکش کی لیکن سلطان
نےنہیں ماناکیوں کہ سلطان کو اس کے متعلق جاسوسی اطلاعات تھیں کہ معاہدہ کےذریعےٹائم
لینےکےچکرمیں ہے اوریہ بھی اطلاعات تھیں کہ بظاہرتومعاہدہ درپردہ جنگی تیاریاں بھی جاری ہیں۔
یہی ہےوہ بہادرجس نے سلطان کوخط کےجواب میں افیون ڈال کربھیجا”اورکہامجھےیقین ہےیہ خط
نشےکی حالت میں لکھاگیاہے”جو کہ اب سلطان کا مقابلہ ہی ناکرسکا۔
جہاں ان کو شکست ہوئی اس جگہ کانام”جالدیران”تھا
جنگ سے شکست
اس جنگ شکست کےبعد اسماعیل صفوی نےپرتگالیوں
کےساتھ گٹھ جوڑکرلی۔اس نے سلطان کو معاہدہ کی پیشکش کی لیکن سلطان نےنہیں ماناکیوں کہ سلطان
کو اس کے متعلق جاسوسی اطلاعات تھیں کہ معاہدہ کےذریعےٹائم لینےکےچکرمیں ہے اوریہ بھی اطلاعات
تھیں کہ بظاہرتومعاہدہ درپردہ جنگی تیاریاں بھی۔
سلطان سلیم نے اسی پر اکتفاء کیااورواپس اپنے
علاقوں کی طرف چل دیئے اور اس سے سلطان
کوایران کا مشرقی حصہ مل گیا اور عثمانی حصے میں داخل ہوگیا۔
سلطان سلیم وہاں سے کیوں واپس ہوئے اس کی کچھ وجوہات ہیں۔
1 عثمانی افسرفارس میں جنگ جاری رکھنےکےحکم میں نہیں تھے
2 سلطان کو اندیشہ ہواکہ فارس اندرونی علاقوں میں
داخل ہوکرحملہ کرناٹھیک نہیں کیوں کہ صفوی کمین گاہوں سےحملہ آورہوسکتےہیں۔
3 ممالیک(غلاموں)کی حکومت ختم کرنےکےلئےواپس ہوئے،کیوں کہ کچھ خطوط سےپتہ چلاکہ صفوی
اورممالیک سلطنت عثمانیہ کےخلاف ایک دوسرے سے تعاون کررہےہیں
سلطان سلیم نے جب صفوی کوجلدیران کے مقام پرشکست دی تو اس کےبعد صفوی پرتگالیوں سے مل
گیاحالاں کہ وہ صرف راستے کی تلاش میں تھے کہ کسی طرح مسلمانوں کی تجارتی راستے کو بند کرکے
انہیں مغلوب کریں اور اس لحاظ سے وہ کامیاب بھی ہوئےصفوی کےساتھ معاہدہ کرکے۔
انہوں نے پہلےصفوی کےعلاقوں پرقبضہ کیا۔یعنی "ھرمز”کاعلاقہ اب معاہدہ بھی اس شرط پرکیاکہ آپ
یہ علاقے ہمیں سپرد کردیں بدلے ہم بحری بیڑوں کےذریعے عثمانیوں کےخلاف آپ کی مدد کریں گے۔
اس صورت میں پرتگالیوں نے ان علاقوں پر کنٹرول حاصل کرلیا۔افریقی ساحل،خلیج عربی اوربحیرہ عرب کی تجارتی شاہراہ۔
پرتگالی بادشاہ بوکیرک نےاپنی ڈائری میں لکھا؛
ہمارا مقصد مسلمانوں کے مقدس مقامات تک پہنچناہے۔
اوریہ چاہتے تھے کہ ہم معاہدہ کریں گے صفویوں
کےساتھ تو عثمانی ہمیشہ ان کےساتھ جنگ میں ہوں گے اور اس طرح عثمانیوں کو روک کر اپنے مقاصد حاصل کریں گے۔
یہ آپ نے پڑھا سلطان سلیم اول کی جہادی سرگرمیاں کیسے جاری رہیں کیسے شیعوں کے خلاف برسر پیکار رہے
