حضرت عائشہ صدیقہ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا تذکرہ خیر

اُمُّ المؤمنین ہیں،ابوبکر صدیق کی صاحبزادی،آپ کی والدہ امّ رومان بنت عامر ابن عویمر ہیں
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاکی کنیت
(آپ کی کنیت ام عبداللہ ہےآپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے سرکار دوعالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم سے کنیت
کی درخواست کی،آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا: اپنے بھانجے
( یعنی عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ)سے اپنی کنیت رکھ لو)
حضورکےساتھ زوجیت کازمانہ نبوّت کے دسویں
سال شوال کے مہینہ میں ہجرت سے تین سال قبل حضور کی زوجیت میں آئیں(رسول اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا:تم تین راتیں مجھے
خواب میں دکھائی گئیں(صحیح مسلم )
رخصتی کازمانہ
شوال میں رخصتی سات برس کی عمر میں ہجرت سے ۱۸ ماہ کے بعد شوال کے مہینہ میں نو سال کی عمر میں رخصت ہوئیں(ایک روایت کےمطابق حضرت عائشہ فرماتی تھیں
کون سی عورت مجھ سے زیادہ خوش نصیب ہے!ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہااس بات کوپسندکرتی تھیں کہ عورتوں کی رخصتی شوال میں ہو ۔صحیح مسلم،کتاب النکاح)
نو سال تک حضور کے ساتھ رہیں،حضور کی وفات کے وقت آپ کی عمر شریف اٹھارہ سال کی تھی۔
حضور نے آپ کے سوا کسی کنواری بیوی سے نکاح نہیں فرمایا
آپ فقیہہ،فصیحہ،حدیث کی حافظہ،قرآن کی بہترین مفسّرہ تھیں۔حضور نے آپ کے
سینہ پر وفات پائی اور آپ کے حجرہ میں دفن ہوئے
جب آپ کو تہمت لگائی گئی تو آپ کی بریّت میں 19آیات اُتریں
شعر:ہے سورۂ نور جن کی گواہ
اُن کی پُر نور صورت پہ لاکھوں سلام
مروی احادیث کی تعداد
آپ سے 1210 احادیث مروی ہیں۔آپ نے ۱۷ رمضان منگل کی شب57 ھ میں53 سال، شرح الزرقانی علی المواہب کی روایت کےمطابق 66سال کی
عمر پاکر حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانۂ امارت میں وفات پائی۔
حضرت ابوہریرہ نے آپ کی نماز جنازہ پڑھائی،جنت البقیع میں دفن ہیں۔(مرآۃ المناجیح،ج:1)
عذاب قبر پر حضرت عائشہ کا نبی علیہ السلام سے سوال
روایت ہے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہ ایک یہودی عورت ان کی خدمت میں حاضرہوئی اور اس نے عذاب قبر کا ذکر کیااور
آپ سے عرض کیا ﷲ تمہیں عذاب قبر سے بچائے تب حضرت عائشہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عذابِ قبر کے متعلق پوچھا آپ نے فرمایا
ہاں عذاب قبر حق ہےحضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ اس کے بعد میں نے کبھی نہ دیکھا کہ
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی نماز پڑھی ہو اور عذاب قبر سے رب کی پناہ نہ مانگی ہو۔(مسلم،بخاری)
انبیاءکی قبریں جنتی باغ ہیں کیوں کہ اللہ کےنبی گناہوں سےمعصوم ہوتےہیں حدیث میں چوں کہ اس کا ذکرآیاتویہ امت کی
تربیت کےلئے ہی آیاکہ میری امت میری پیروی کرتےہوئےعذاب قبرسےپناہ مانگے اللہ ہم سب کومحفوظ فرمائے۔
دوسری بات یہ کہ حدیث میں یہودی عورت نےعذاب قبرکاذکرکیاتوحضرت عائشہ نے اس پربھروسہ نہ کیابلکہ آقاعلیہ السلام سےپوچھا۔
حضورعلیہ السلام کاحضرت عائشہ سےمحبت
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم اپنی نعلین مبارک میں
پیوند لگارہے تھے جبکہ میں چرخہ کات رہی تھی۔ میں نے حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کے چہرہ پر نور کو دیکھا
کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کی پیشانی مبارک سےپسینہ بہہ رہا تھا اور اس پسینہ سے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کے
جمال میں ایسی تابانی تھی کہ میں حیران تھی۔ حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے میری طرف نگاہ کرم
اٹھاکر فرمایا: کس بات پر حیران ہو؟ سیدہ فرماتی ہیں میں نے عرض کیا: یارسول اللہ !صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم آپ
صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کے رخ روشن اور پسینۂ جبین نے مجھے حیران کردیا ہے اس پر حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ
وسلم کھڑے ہوئے اور میرے پاس آئے اور میری دونوں آنکھوں کے درمیان بوسہ دیا اور فرمایا: اے عائشہ!رضی اللہ تعالیٰ عنہا اللہ تعالیٰ
تمہیں جزائے خیر دے تم اتنا مجھ سے لطف اندوز نہیں ہوئی جتنا تم نے مجھے مسرور کردیا۔
حلیۃ الاولیاء،ذکر النساء الصحابیات،الحدیث1464،جلد 2)
گھرکےکام
بیویوں پرگھرکےبہت سارےکام ہوتےہیں جوکام مردحضرات کرسکتےہیں وہ خودکرلیاکریں یہ بھی آقاعلیہ السلام کےسنتوں
میں سےہےجبکہ بیوی کسی اورکام میں مصروف ہو۔بی بی فاطمہ اورعائشہ کی محبت حضور اکرم صلی اللہ تعالی علیہ واٰلہ وسلم نے سيدہ
فاطمہ زہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے فرمایا:اے فاطمہ!رضی اللہ تعالیٰ عنہا جس سے میں محبت کرتا
ہوں تم بھی اس سے محبت کرو گی؟ سیدہ فاطمہ زہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عرض کیا: ضرور یارسول اللہ !صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم میں
محبت رکھوں گی۔ اس پر حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا تو عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاسے محبت رکھو۔
(صحیح مسلم،کتاب فضائل الصحابۃ،باب فی فضل عائشۃ،الحدیث2442)
آقاعلیہ السلام کوجن سے محبت ہو ان کےساتھ ہمیں بھی محبت کرنی چاہئے۔
دو تہائی دین عائشہ سےحاصل کرو
کچھ حدیثوں میں آیا ہے کہ
تم اپنے دو تہائی دین کو ان حمیرا(یعنی عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا)سے حاصل کرو۔
(مدارج النبوت،قسم پنجم،باب دوم درذکرازواج مطہرات جلد دوم صفحہ نمبر 469)
حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں ہم کوکسی حدیث کے بارے میں مشکل پیش آتی ہم حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ
تعالیٰ عنہا سے دریافت کرتے تو ان کے پاس اس کے متعلق علم پاتے۔
(سنن الترمذی،کتاب المناقب،باب فضل عائشۃ،الحدیث:3908،ج5،صفحہ 471)
صحابہ نےحضرت عائشہ سے بہت روایتیں لیں اوراپنےمسئلےبھی حل کروائےاللہ کی راہ میں صدقہ کرنےوالی عائشہ رضی اللہ عنہا سے
مروی ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہانے سرکار دو عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم سے عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ
علیہ واٰلہٖ وسلم میرے لئے دعا فرمائیں کہ حق تعالیٰ مجھے جنت میں آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی ازواج مطہرات میں رکھے۔ سرکار دو
عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا :اگر تم اس رتبہ کی تمنا کرتی ہو تو کل کے لئے کھانا بچاکر نہ رکھو۔ اور کسی کپڑے کو جب تک
اس میں پیوند لگ سکتا ہے بے کار نہ سمجھو، سیدہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی اس وصیت ونصیحت
پر اس قدر کاربند رہیں کہ کبھی آج کا کھانا کل کے لئے بچا کر نہ رکھا۔
(مدارج النبوت،قسم پنجم،باب دوم،ذکر امہات المؤمنین،حضرت عائشۃ،جلد دوم ص472)
وصال کےوقت کےالفاظ
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے وصال کے وقت فرمایا: کاش
کہ میں درخت ہوتی کہ مجھے کاٹ ڈالتے کاش کہ پتھر ہوتی کاش کہ میں پیدا ہی نہ ہوئی ہوتی۔
گھرسےرونےکی آواز
جب سیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے وصال فرمایا تو ان کے گھر سے رونے کی آواز آئی
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اپنی باندی کو بھیجا کہ خبر لائیں۔ باندی نے آکر وصال
کی خبر سنائی تو سیدہ ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بھی رونے لگیں اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ان پر
رحمت فرمائے نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی وہ سب سے زیادہ محبوب تھیں اپنے والد ماجد کے بعد۔
(مدارج النبوت،قسم پنجم،باب دوم،درذکر ازواج مطہرات ،جلد دوم صفحہ473)
وصال عائشہ کی تاریخ
زمانہ معاویہ رضی اللہ عنہ میں 17 رمضان المبارک 57 ھ کو وفات ہوئی
خلیفہ اول حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ
حضرت عائشہ صدیقہ رصی اللہ عنہا کی شان تو وراء الوراء ہے بہت ہی اعلی شان کی مالک ہیں لیکن
کچھ افراد باغ فدک کامعاملہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ پر ڈالتے ہیں کہ آپ نے بی بی فاطمہ
کو وراثت سے محروم رکھا تو ان محروم اہلبیت میں کئی افراد ہیں ان میں سے ایک حضرت عائشہ صدیقہ بھی ہیں
تو باغ فدک کےبارے میں مطالعہ کریں اور پڑھیں کہ وراثت سے محروم کرنے کی وجہ ہےکیا؟
