سیدناامام غزالی علیہ الرحمہ کامقام ومرتبہ
سیدناامام غزالی علیہ الرحمہ کامقام ومرتبہ
اس تحریرمیں پڑھیں گے سیدناامام غزالی علیہ الرحمہ کامقام ومرتبہ کےبارےمیں
آپ رحمۃ اللہ علیہ کا نام نامی
اسمِ گرامی محمد بن محمد بن محمد بن احمدطوسی غزالی شافعی رحمہم اللہ تعالی ہے
کنیت و لقب
غزالی علیہ الرحمہ کا کنیت ابو حامد،لقب حجۃ الاسلام ہے
پیدائش کاعلاقہ اورتاریخ ولادت
آپ450ء میں خراسان کے ضلع طوس کے علاقے طابران میں پیدا ہوئے۔
والدمحترم کانام اورپیشہ اورنسبت غزالی
والدماجد کانام حضرت سیدنامحمد بن محمد رحمۃ اللہ علیہ ہےجوکہ شہرخراسان ہی میں اُون کات کر بیچا کرتے تھے یعنی پیشے کے لحاظ سے دھاگے کے تاجرتھے ،اسی نسبت سے آپ کاخاندان’’ غزالی‘‘ کہلاتاہے۔
والدماجدکاانتقال
ابھی امام صاحب اور آپ کے بھائی حضرت سیِّدُنااحمد غزالی رحمہم اللہ کم عمرہی تھے کہ ۴۶۵ھ میں والدمحترم وصال فرماگئے ۔
والدکی وصیت
انتقال سے پہلے انہوں نے اپنے ایک صوفی دوست حضرت سیدنا ابوحامداحمد بن محمد راذکانی
کو وصیت کی تھی کہ ’’ میرا تمام اثاثہ میرے ان دونوں بیٹوں کی تعلیم وپرورش پر خرچ
کردیجئے گا۔‘‘وصیت کے مطابق ان کے والدگرامی کا سرمایہ ان کی تعلیم وپرورش پر صرف کردیاگیا۔
(اتحاف السادۃ المتقین، مقدمۃ الکتاب، ج۱، ص۹۔)
آپ کی تعلیم
ابتدائی تعلیم اپنے شہرمیں حاصل کی عمر شریف 20 سال سے کم ہی تھی
کہ (ایران مشرقی شہر)جرجان تشریف لے گئے وہاں حضرت سیِّدُنا امام ابو نصر اسماعیلی علیہ رحمۃاللہ کی خدمت میں کچھ عرصہ رہے ۔
پھراپنے شہر طوس لوٹ آئے
اس کےبعد۴۷۳ھ میں نیشا پورمیں حضرت سیِدناامام عبدالملک بن عبداللّٰہ جوینی
رحمۃ اللہ(متوفی۴۷۸ھ)کی بارگاہ میں زانوئے تلمذ طے کیا اور ان سے اس فن کی کتابیں پڑھیں ۔
اُصولِ دین، اختلافی مسائل، مناظره، منطق اور حکمت وغیرہ میں مہارتِ تامہ حاصل کی
امام جوینی کا وصال
۴۷۸ھ میں حضرت سیِّدُنا اِمامُ الْحَرَمَیْن رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے وصال کے بعدان کی جگہ آپ کواس منصب اعلی پرفائز کیاگیا.
۴۸۴ھ میں وزیر نظامُ الملک طوسی (سلجوقیوں کےوزیرتھےعلماءسےبہت محبت
فرماتےاوران کےاپنےبھی عربی اشعارہیں)نے مدرسه نظامیه بغدادکے شیخ الجامعه (وائس چانسلر) کا عہد ہ
آپ رحمۃُاللہ تعَالی علیہ کو پیش کیاجسے آپ نے قبول فرمالیا…چار سال بغداد میں تدریس و تصنیف میں
مشغولیت کے بعدحج کے ارادے سے مکہ معظمہ روانہ ہو گئے۔بقول علامہ ابن جوزی علیہ رحمۃاللہ
القوی (متوفی۵۹۷ء)’’بغدادمیں آپ کی مجلس درس میں بڑے بڑے علمائے کرام حاضر ہوتے جیسے اِمَامُ الْحَنَابِلَہ حضرت سیِّدُنا ابوالخطاب
محفوظ بن احمد (متوفی۵۱۰ھ) اورعالم العراق وشیخ الحنابلہ علی بن عقیل بغدادی(متوفی۵۱۳ھ) رحمۃُاللہ تعَالی علیہما وغیرہ ۔
یہ حضرات آپ سے اکتساب فیض کرتے اور آپ کے بیان پرحیرت کا اظہار کرتے اور آپ کے کلام کو اپنی کتابوں میں نقل کرتے۔‘‘(۲)… ۴۸۹ھ میں
دمشق پہنچے اور کچھ دن وہاں قیام فرمایا ۔ ایک عرصہ بیتُ الْمُقَدَّس میں
گزارا۔ پھردوبارہ دمشق تشریف لائے
اور جامع دمشق کے مغربی منارے پر ذکرو فکر اور مراقبے میں مشغول ہوگئے دمشق میں زیادہ تر وقت حضرت
سیدناشیخ نصر مقدَمی علیہ رحمۃ اللہ الولی کی خانقاہ میں گزرتا تھا…ملک شام میں 10سال قیام فرمایا، اسی دوران
احیاء العلوم(۴جلدیں ) ،جواہرالقرآن ،تفسیریَقوت التاویل (۴۰جلدیں )اورمشکاۃ الانوَاروغیرہ مشہورکتب تصنیف فرمائیں ۔
پھر حجاز ،بغداد اور نیشا پور کے درمیان سفر جاری رہا اوربالآخر اپنے آبائی شہر طوس واپس آکر عبادت و
ریاضت میں مصروف ہوگئے اور تادمِ آخر وعظ ونصیحت، عبادت وریاضت ا ورتصوف کی تدریس میں مشغول رہے۔
(اتحاف السادۃ المتّقین، مقدمۃ الکتاب، ج۱، ص۹تا۱۱۔)
اساتذۂ کرام
آپ کے مشہور اسا تذۂ کرام کے اسمائے گرامی یہ ہیں :فقہ میں حضرت سیدناعلامہ احمد بن محمدراذَکانی حضرت
سیدناامام ابونصراسماعیلی حضرت سیدنا امام الحرمین ابوالمعالی امام جوینی۔
تصوف میں حضرت سیدنا ابو علی فضل بن محمد بن علی فارمذ ی طوسی
حضرت سیدنایوسف سجاج۔حدیث میں حضرت سیِّدُناابو سہل محمد بن احمد حفصی
مروزی حضرت سیِّدُناحاکم ابوالفتح نصر بن علی بن احمد حاکمی طُوسی حضرت سیِّدُناابو محمد
عبداللّٰہ بن محمد بن احمد خُوَاری ضرت سیِّدُنا محمد بن یحیی سجاعی
زوزنی حضرت سیدنا حافظ ابوفتیان عمر
بن ابو الحسن رواسی دہسسانی اور حضرت سیدنا نصر بن ابراہیم مقدسی رحمۃ اللہ تعالی علیہم اجمعین۔
(اتحاف السادۃ المتقین، مقدمۃ الکتاب، ج۱، ص۲۶۔)
شیخ کامل کی بیعت
حضرت سیدنا امام غزالی نے دورِ طالب علمی میں حضرت سیِّدُنا شیخ ابو علی فضل بن محمد بن علی فارمذی
طوسی رحمہ اللہ(متوفی۴۷۷ھ )کے ہاتھ پر(27سال کی عمرمیں ) بیعت کی ۔
شیخ موصوف بہت عالی
مرتبت ، فقہ شافعی کے زبردست عالم اور مذاہب سلف سے باخبرتھے اورحضرت سیِدنا امام ابوالقاسم
قشیری علیہ رحمۃُللہ القوی (متوفی۴۱۷ھ )کے جلیل القدر شاگردوں میں سے ہیں ۔(اتحاف السادۃ المتّقین، مقدمۃ الکتاب، ج۱، ص۲۶۔)
مقام ومرتبہ
بارگاہِ رسالت میں امام غزالی کی مقبولیت
حضرت سیِّدُنا علاَّمہ اسماعیل حقِّی علیہ رحمۃ اللہ القوی تفسیرروح البیان،ج5،ص 374،سورۂ طٰہٰ،آیت نمبر18کے تحت نقل فرماتے ہیں
صاحب حزب البحر
حضرت سیِّدُنا امام راغب اصفہانی نے محاضرات میں ذکر فرمایاکہ صاحبِِ حزب البحر،عارِف بِاللّٰہ حضرت سیدنا
امام شاذلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :میں مسجد اقصیٰ میں محو ِ خواب تھا، میں نے دیکھا کہ مسجد اقصیٰ کے صحن میں ایک تخت بچھا ہوا ہے
بارگاہ رسالت
اورلوگوں کا ایک جمعِ غفیر گروہ در گروہ داخل ہو رہا ہے۔ میں نے پوچھا :’’یہ جمعِ غفیر کن لوگوں کا ہے ؟‘‘ بتایا گیا : ’’یہ انبیا ئے کرام ورسل
عظام علیہم الصلوۃ والسلام ہیں جوحضرت سیِّدُنا حسین حلاج رحمۃاللہ تعالی علیہ سے ظاہر ہونے والی ایک بات پر ان کی سفارش کے لئے بارگاہِ رسالت
میں حاضر ہوئے ہیں ۔‘‘پھر میں نے تخت کی طرف دیکھا توحضور نبی ٔکریم، ر ء ُ وف رحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اس پر جلوہ فرماہیں
دیگرانبیاء کرام
اور دیگر انبیائے کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام جیسے حضرت سیِّدُنا ابراہیم خَلِیْلُ اللّٰہ، حضرت سیِّدُناموسیٰ کَلِیْمُ اللّٰہ، حضرت سیِّدُناعیسیٰ رُوْحُ اللّٰہ
اورحضرت سیِّدُنا نوح عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامسامنے تشریف فرما ہیں ۔ میں ان کی زیارت کرنے اور ان کا کلام سننے لگا۔
موسی علیہ السلام بارگاہ رسالت میں
اسی دوران حضرت سیِّدُنا موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی:آپ کا فرمان
ہے:’’عُلَمَاءُ اُمَّتِیْ کَاَنْبِیَاءِ بَنِیْ اِسْرَائیل یعنی
میری اُمّت کے علما بنی اسرائیل کے انبیاکی طرح ہیں ۔
لہٰذا مجھے ان میں سے کوئی دکھائیں ۔ تو حضور نبی ٔ پاک، صاحب ِ لولا ک
صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے
حضرت سیدنا امام محمد غزالی
رحمہ اللہ کی طرف اشارہ فرمایا۔حضرت سیدنا موسی علیہ السَّلَام نے آپ رحمۃاللہ تعالی علیہ سے ایک سوال کیا، آپ
نے 10 جواب دئیے۔تو حضرت سیدنا موسیٰ علیہ الصلوۃلام نے فرمایا کہ ’’جواب سوال کے مطابق ہونا چاہئے
سوال ایک کیا گیا اور تم نے 10 جواب دئیے۔‘‘ تو حضرت سیدناامام محمدغزالی رحمہ اللہ نے عرض کی: جب اللّٰہ عزوجل نے
آپ سے پوچھا تھا: وما تِلْکَ بِیَمِیۡنِکَ یٰمُوۡسٰی ﴿۱۷﴾ (پ۱۶،طٰہٰ:۱۷)
ترجمۂ کنزالایمان: اور تیرے داہنے ہاتھ میں کیا ہے اے موسیٰ۔‘‘ تو اتنا عرض کر دینا کافی تھا کہ ’’ یہ میرا عصا ہے۔‘‘ مگرآپ نے اس کی کئی
خوبیاں بیان فرمائیں ۔(فتاوٰی رضویہ، ج۲۸، ص۴۱۰، اشارۃ ۔)
علماء کرام
حضراتِ علمائے کرام فرماتے ہیں کہ گویاامام غزالی علیہ الرحمہ حضرت سیدنا موسی کلیم اللہ علیہ
السلام کی بارگاہ میں عرض کررہے ہیں کہ ’’جب آپ کاہم کلام باری تعالیٰ تھاتوآپ نے وفورِ
محبت اورغلبۂ شوق میں اپنے کلام کوطول دیاتاکہ زیادہ سے زیادہ ہم کلامی کاشرف حاصل ہوسکے اوراس وقت مجھے آپ سے ہم کلام ہونے کا موقع ملاہے
اورکلیم خدا سے گفتگوکاشرف حاصل ہواہے اس لئے میں نے اس شوق ومحبت سے کلام کوطوالت دی ہے۔‘‘(کوثرالخیرات، ص۴۰۔)
امام شاذلی رحمہ اللہ
حضرت سیِّدُنا امام ابوالحسن شاذلی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَالِی فرماتے ہیں : میں خواب میں زیارتِ رسول سے
مشرف ہوا تو دیکھا کہ حضوررحمت ِ عالَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم حضرت سیِّدُناموسیٰ اور حضرت
سیِّدُناعیسیٰ عَلَیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے سامنے حضرت سیِّدُنا امام غزالی پر فخرکرتے ہوئے فرمارہے
ہیں : ’’کیا تمہاری امتوں میں غزالی جیسا عالم ہے۔‘‘دونوں نے عرض کی: ’’ نہیں ۔‘‘(النبراس شرح شرح العقائد، ص۲۴۷۔)
