امام مسلم اپنے معاصرین کے نظر میں
امام مسلم اپنے معاصرین کے نظر میں
یہ تحریر جسے آپ پڑھ رہےہیں جس کا عنوان ہے امام مسلم اپنے معاصرین کے نظر میں کہ امام مسلم کا
کیسا کردار تھا جسے اپنے معاصرین نے اپنے نظر میں رکھاایسے نہیں کہ اس کی ٹانگیں کھینچیں بلکہ اس
کی خدمت پر انہیں داد و تحسین جیسےکلمات سے نوازا اور "امام مسلم” کی تعریف کرتے رہے
تو ایسے معاصرین علماء کے کچھ اقوال امام مسلم کی شان میں پیش کریں گے اور اس کے بعدکچھ حالات و مناقب پر بھی لکھا جائے گا
اسحاق بن منصور کے نزدیک
ابو عمرو مستملی بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہمیں اسحاق بن منصور احادیث لکھوا رہے تھےاور امام
مسلم ان احادیث میں سے انتخاب کر رہے تھے۔اچانک اسحاق بن منصور نے نگاہ اوپر اٹھائی اور کہا کہ ہم
اس وقت تک خیر سے محروم نہیں ہوں گےجب تک ہمارے درمیان مسلم بن حجاج موجود ہیں۔
محمد بن عبد الوہاب فراد کے نزدیک
آپ نے فرمایا مسلم علم کا خزانہ ہیں اور میں نے اس میں خیر کے سوا کچھ نہیں پایا۔
ابن اخرم کے نزدیک
آپ نے کہا کہ نیشاپور نے تین محدث پیدا کیےمحمد بن یحیی،ابراھیم بن ابی طالب،اور مسلم
ابن عقدہ کے نزدیک
آپ نے بتایا کہ امام مسلم بالمشافہ سماع کے بغیرروایت نہیں کرتے تھے
ابوبکر جاروزی کے نزدیک
آپ نے کہا کہ مسلم علم کے محافظ تھے۔
مسلمہ بن قاسم کے نزدیک
آپ نے کہا کہ وہ جلیل القدر امام تھے
بندار کے نزدیک
دنیا میں صرف چار حافظ ہیں ابوزرعہ،محمدبن اسماعیل،دارمی،مسلم بن حجاج۔1
یہ تھے "حضرت امام مسلم” رحمۃ اللہ علیہ اپنے معاصرین کے نظر میں ان میں کچھ اساتذہ بھی ہیں
امام مسلم کی ولادت اور سلسلہ نسب
حضرت امام مسلم کی ولادت اور سلسلہ نسب کے بارے میں لکھا جاتا ہے کہ حضرت امام مسلم کی نسب کچھ
اس طرح ہے امام مسلم بن الحجاج بن مسلم بن ورد بن کرشاد القشیری آپ کی ولادت خراسان کی ایک
وسیع اور خوبصورت شہر حضرت امام مسلم رحمہ اللہ کی ولادت کے سال میں مؤرخین کا اختلاف ہے شاہ
عبدالعزیز نے ان کا سال ولادت 202 ہجری لکھاہے امام ذہبی نے 204 ہجری بیان کیا ہے اور ابن اثیر نے 26 ہجری کو اختیار کیا ہے
ایک اورروایت کے مطابق آپ کی پیدائش 6 مئی 875ءاور وفات 6 مئی 875ء کو ہوئی۔2
امام مسلم بطور ایک تاجر
حضرت "امام مسلم” رحمۃ اللہ علیہ نے علم کو اپنا ذریعہ معاش نہیں بنایا بلکہ اآپ کپڑوں کی تجارت کر کے اپنے نجی ضروریات پوری کرتے تھے-3
انہی اچھے عادات کی وجہ سے امام مسلم اپنے معاصرین کے نظر میں بہت اچھے نظر آئے ۔
علم حدیث کے لیے سفر
حضرت امام مسلم علم حدیث کی طلب میں متعدد شہروں کا سفر اختیار کیا نیشاپور کے اساتذہ سے
اکتساب فیض کے بعد وہ حجازشام عراق اور مصر گئے اور ان گنت بار بغداد کا سفر کیا انہوں نے ان تمام
شہروں کے مشاہیر اساتذہ کے سامنے زانوئے تلمذ تہ کیا۔4
امام مسلم کی وفات کا سبب
امام مسلم کی وفات کا سبب کچھ اس طرح ہے کہ حافظ ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں ایک دن مجلس
مذاکرہ میں امام مسلم سےایک حدیث کے بارے میں پوچھا گیا اس وقت آپ اس حدیث کے بارے میں کچھ
نہ بتا سکے گھر آکر اپنی کتابوں میں اس حدیث کی تلاش شروع کر دی قریب ہی کھجوروں کا ایک ٹوکرا
بھی رکھا ہوا تھا امام مسلم کےاستغغراق اور انحماک کا یہ عالم تھا کہ
کھجور کی مقدار کی طرف آپ کی توجہ نہ ہو سکی اور حدیث ملنے تک کھجوروں کا سارا ٹوکراخالی ہو
گیا اور غیر ارادی طورپر کھجوروں کا زیادہ کھا لینا ہی ان کی موت کا سبب بن گیا اور اس طرح 24 رجب
16 ہجری اتوار کے دن شام کے وقت علم حدیث کا یہ درخشندہ آفتاب غروب ہو گیا
اور اگلے روز پیر کے دن خراسان کے عظیم محدث کو سپرد خاک کر دیا گیا۔5
