ابوتراب حضرت علی بن ابی طالب
اس تحریر میں آپ مطالعہ کریں گے ابوتراب حضرت علی بن ابی طالب کرم اللہ وجہہ الکریم کے بارےمیں

حضرت علی کا نام
آپ کا نام علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ہے
علی ابن ابی طالب کی کنیت
حضرت علی ابن ابی طالب کی کنیت ابو الحسن اور ابو تراب ہےاور یہ کنیت بذات
خود آقا علیہ الصلاۃ والسلام نے مقرر فرمائی۔
ابوتراب کنیت کی وجہ
اس کنیت کی وجہ یہ ہے کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ کےغصہ کی وجہ سے ایک دن
حضرت علی مسجد کی دیوار کے پاس آکر چت لیٹ گئے رسالت مآب صلی اللہ علیہ والہ وسلم
مسجد میں تشریف لا کر آپ رضی اللہ عنہ کی پیٹھ پر لگی ہوئی مٹی دیکھ کر اسے
صاف کیا اور فرمایا اے "ابو تراب” اٹھو اس روز سے آپ ابو تراب مشہور ہو گئے۔
حضرت علی کی روایت کردہ احادیث
500 احادیث ہیں جو حضرت علی کی روایت کردہ ہیں۔
حضرت علی کی والدہ کا نام
فاطمہ بنت اسد بن ہاشم ہےاور حضرت علی رضی اللہ عنہ ان دس شخصیتوں میں سے
ہیں جن کو دنیا میں ہی جنت کی بشارت دی گئی۔
جمع قرآن مجید حضرت علی کا کردار
آپ ان لوگوں میں سے ہیں جو "جمع قرآن” مجید کرنے والوں میں شامل ہیں۔
اور آپ کے ساتھ قرآن مجید جمع کرنے والے ابو اسود ابوعبدالرحمن سلیمی
اور عبدالرحمن بن ابی لیلہ بھی تھے۔
یہ پڑھیں فضیلت قرآن
خیبر کی فتح
حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں خیبر کی فتح ہوئی بخاری اور مسلم میں
حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جنگ خیبر میں آپ کو پرچم اسلامی
عنایت کرتے ہوئے فرمایا انشاءاللہ خیبر ان کے ہاتھ پر
فتح ہوگا آپ کے بہادرانہ جنگی کارنامے مشہور ہیں۔
پرچم اسلامی علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے ہاتھ میں
جنگ خیبر کے زمانہ میں ایک دن رسول اللہ نے فرمایاکل صبح پرچم اسلامی
اس شخص کے حوالہ کیا جائے گاجس کے ہاتھ سے خیبر فتح ہو جائے گا وہ اللہ
اور رسول کو دوست رکھتا ہے اللہ اور رسول اس سے راضی ہیں رات کو لوگ غور
و خوض کرتے رہے کہ دیکھیے کل صبح کسے پرچم اسلامی عنایت فرمایا جاتا ہے چنانچہ
دوسرے دن صبح کو تمام پروان شمع رسالت کے اطراف جمع ہو گئے اور ہر
ایک کو امید تھی کہ پرچم اسلامی مجھے عنایت ہوگا اتنے میں سرور عالم
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا علی کہاں ہیں لوگوں نے کہا ان کی آنکھیں دکھ رہی
ہیں ارشاد ہوا بلا لاؤ ان کی آمد پر سرورکائنات نے اپنا لعاب دہن ان کی آنکھوں میں لگایا اور ان
کی صحت کی دعا کی اس وقت آشوب چشم جاتا رہا اور آنکھوں میں کسی
قسم کی کوئی تکلیف نہ رہی اس کے بعد سرور عالم نے حضرت علی کو پرچم
اسلامی عنایت فرمایا یہ حدیث طبرانی نے بھی بیان کیا ہے
حضرت علی جنگ تبوک میں شریک کیوں نہ ہوئے
اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ ابوتراب حضرت علی بن ابی طالب جنگ تبوک میں
شریک کیوں نہ ہوئےآپ رضی اللہ عنہ تمام جنگوں میں آقا علیہ الصلوۃ والسلام کے
ساتھ تھے البتہ جنگ تبوک میں اس لیے شریک نہ ہو سکے کہ اس زمانے میں رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پیچھے نظام سنبھالنے کی خاطر روک لیا تھا۔
حضرت علی کی شان میں صحابہ کے اقوال
ابن سعد نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی زبانی لکھا ہے لوگوں نے پوچھا کیا
بات ہے جو دوسرے صحابہ کی بہ نسبت آپ زیادہ احادیث بیان کرتے ہیں؟
جواب دیا واقعہ یہ ہے کہ میری دریافت پر سرور عالم بیان کر دیا کرتےاور جب
میں خاموش رہتا تو خود ہی کلام کا آغاز فرماتے تھے۔
حضرت ابو ھریرہ کا بیان
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے
کہ ہم سب میں علی بہترین فیصلے کرتے ہیں۔
حضرت عبداللہ ابن مسعود کا حضرت علی کے فیصلےکے متعلق بیان
عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ہم لوگ باہم کہا کرتے تھے کہ
مدینہ میں سب سے اچھا فیصلہ حضرت علی کرتے ہیں۔
حضرت ابن عباس کا بیان
ابن سعد نے ابن عباس رضی اللہ عنہ کی زبانی کہا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ
عنہ سے جب کوئی اہم مسئلہ پوچھا جاتا تو وہ نہایت درست جواب دیا کرتے۔
سعید ابن مسیب کا بیان حضرت علی سے مسئلہ پوچھنے کے بیان میں
حضرت سعید ابن مسیب کا بیان ہے کہ جب کسی اہم مسئلہ کا حضرت علی
صحیح حل تجویز نہ کرتے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ اپنے عہد خلافت میں اللہ
سے پناہ مانگتے تھے آپ ہی کا بیان ہے کہ تمام صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے
صرف حضرت علی ہی فرمایا کرتے تھے کہ جو مسئلہ پوچھنا ہو وہ مجھ سے پوچھ لو۔
حضرت علی مفسر قرآن کی حیثیت سے
حضرت ابن سعد نے ابوتراب حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی زبانی
لکھا ہے کہ بخدا جتنی آیات قرآنی نازل ہوئی ہیں ان سب کا مجھے علم ہے میں یہ
بھی جانتا ہوں کہ وہ کس کے بارے میں کہاں اور کس طرح نازل ہوئی اللہ کا لاکھ
لاکھ احسان ہے کہ اس نے مجھے قلب سلیم عقل اور شعور اور زبان گویا عنایت کی ہے۔
ابوتراب حضرت علی بن ابی طالب کی شہادت
17 رمضان 40 ہجری کو صبح سویرے بیدار ہو کر نماز کے لیے جانے لگے تو راستے میں ابن ملجم نے آپ
پر شمشیر کا ایسا وار کیا جس سے آپ کی پیشانی کنپٹی تک کٹ گئی اور تلوار بھیجے پر جا کر ٹھہری
اس عرصہ میں تمام لوگ دوڑ پڑے اور قاتل کو گرفتار اور قید کر لیا اس کاری زخم کے باوجود حضرت علی
جمعہ اور ہفتہ کے دن بہ قید حیات رہے لیکن اتوار کی رات کو آپ کی
روح بارگاہ قدس میں روانہ ہو گئی حسنین اور عبداللہ بن جعفر نے آپ
کو غسل دیا امام حسن رضی اللہ عنہ نے نماز جنازہ پڑھائی اور راتوں رات
دارالامارات کوفہ میں دفن کیے گئے۔
وقت وفات حضرت علی رضی اللہ عنہ کی عمر
آپ کی عمر میں اختلاف ہے ایک روایت 64 سال دوسری روایت 65 سال 57 اور 58 بھی ہے۔
یہاں تک سارے حالات تاریخ الخلفاء سے لی گئیں ہیں
مختلف صفحات سے،مطبوعہ نفیس اکیڈمی اردو بازار کراچی
رسول اللہ کے گھر میں فاقہ اور علی بن ابی طالب کی مزدوری
ابن عساکر کی روایت ہے کہ ایک روزرسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے گھر
میں فاقہ تھا حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو معلوم ہوا تو مزدوری کی تلاش میں
نکل گئے تاکہ اتنی مزدوری مل جائے کہ رسول خدا کی ضرورت پوری ہو جائے
اس تلاش میں ایک یہودی کے باغ میں پہنچے اور اس کی باغ کی سینچائی
کا کام اپنے ذمہ لیامزدوری یہ تھی کہ ایک ڈول پانی کھینچنے کی اجرت ایک کھجور
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے 17 ڈول کھینچے
یہودی نے انہیں اختیار دیا کہ جس نوع کی کھجوریں
چاہے لے لیں حضرت علی رضی اللہ عنہ نے 17 عجوہ لیے اور رسول خدا
کی خدمت میں پیش کر دیا فرمایا یہ کہاں سے لائے عرض کیا یا نبی اللہ
مجھے معلوم ہوا ہے کہ آج گھر میں فاقہ ہے اس لیے
مزدوری کے لیے نکل گیا تاکہ کچھ کھانے کا سامان کر
سکوں رسول اللہ نے فرمایا تم کو اللہ اور اس کے رسول کی
محبت نے اس پر آمادہ کیا تھا عرض کیا ہاں یا رسول اللہ رسول اللہ نے فرمایا
اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرنے والا ایسا کوئی نہیں جس پر افلاس اس
تیزی سے آیا ہو جیسے سیلاب کا پانی اپنے رخ پر تیزی سے بہتا ہے جو اللہ اور اس
کے رسول سے محبت کرے اس کو چاہیے کہ مصائب کی روک کے لیے ایک چھتری بنا
لے یعنی حفاظت کا سامان کر لے
اس کے علاوہ حضرت علی کرم اللہ وجہ الکریم نے لوگوں کے اندر رہنے کا سلیقہ بھی سکھایا ہے
حضرت علی کا فرمان لوگوں کے درمیان شہد مکھی کی طرح رہو
حیدر کرار سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا لوگوں میں ایسے رہو جیسے پرندوں میں شہد کی مکھی
رہتی ہے ہر پرندہ اسے کمزور سمجھتا ہے حالانکہ اگر پرندوں کو معلوم ہو جاتا کہ اللہ تعالی نے شہد کی
مکھی کے پیٹ میں کیا برکت رکھی ہے تو وہ اس کے ساتھ یہ سلوک نہ کرتے۔
آگے فرماتے ہیں اپنی زبانوں اور جسموں کے ساتھ لوگوں میں رہو مگر اپنے اعمال اور دلوں کو ان سے جدا رکھو
پھر ارشاد فرمایا ہر انسان کو اس کے اپنے اعمال کا بدلہ ملے گا اور قیامت کے دن وہ اسی کے ساتھ ہوگا جس سے محبت کرتا تھا۔
(مسندالدارمی،الرقم:320)
تفصیل روایت
پرندوں میں شہد کے مکھی کی رہنے کی تفصیل یہ ہے کہ پرندے شہد کی مکھی کو بہت حقیر اور ہلکا سمجھتے ہیں مگر وہ تکلیف دینے کے بجائے انسانوں کو اپنا برکت والا شہد فراہم کرتی رہتی ہے
ایسے ہی تم لوگوں میں اس طرح رہو کہ انہیں دکھ نہ دو بلکہ برکت اور بھلائی کو عام کرو اگرچہ لوگ تمہیں کمتر سمجھیں
زبانوں اور جسموں کے ساتھ لوگوں کے ساتھ رہنے میں یہ تفصیل ہے کہ
زبان کے ساتھ صرف اچھی گفتگو کرو مگر برے کاموں کے لحاظ سے ان کا ساتھ نہ دو اور دلی طور پر ان سب سے الگ رہو دل میں دنیا والوں کو بسانے کے بجائے اسے اللہ تعالی اور اس کے رسول کی محبت سے آباد رکھو۔
اسی زبان سے کبھی اپنا عزت کھو بیٹھتا ہے کبھی اپنا اخلاقی گراوٹ ظاہر کرتاہے تو کبھی گستاخی کا مرتکب ہوتاہے
گستاخ صحابہ سے علی کی براءت
ایک بزرگ ہیں جن کا نام ہے ابو محمد عبداللہ مُہتدی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں
انہوں نے فرمایا کہ میں حج بیت اللہ کے لیے حاضر ہوا حرم شریف میں پہنچا تو مجھے ایک شخص کے بارے میں بتایا گیا کہ اسے پیاس نہیں لگتی میں نے اس سے
وجہ پوچھی تو وہ کہنے لگا میں حِلہ عراقی شہر کا باشندہ ہوں میرا تعلق شیعہ مسلک سے تھا ایک رات میں نے خواب میں دیکھا کہ قیامت قائم ہو چکی ہے
لوگ بہت تکلیف مصیبت اور پیاس میں مبتلا ہیں اور میں بھی سخت پیاس میں مبتلا ہوں رحمت عالم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے حوض کوثر پر جب میں
حاضر ہوا تو وہاں آپ کے چاروں یار سیدنا صدیق اکبر جام پلا رہے تھے سیدنا فاروق اعظم جام پلا رہے تھے سیدنا عثمان غنی بھی پیاسوں کو جام پلا رہے تھے
اور سیدنا ابوتراب حضرت علی ابن ابی طالب کرم اللہ وجہ الکریم بھی شربت کوثر تقسیم کر رہے تھے
فرمایا میں سیدنا علی کے پاس گیا تھا کہ وہ مجھے جام عطا کریں ان کے پاس اس لیے گیا کہ مجھے ان پر ناز تھا محبت تھی اور انہیں دیگر سے مقدم سمجھتا
تھا انہوں نے مجھ سے اپنا چہرہ پھیر لیا پھر پیاس کا مارا باری باری خلفاء سیدنا ابوبکر سیدنا عمر سیدنا عثمان رضی اللہ تعالی عنہم کے پاس پہنچا تو انہوں
نے بھی اعراض فرمایا
امام الانبیاء پر نظر پڑنا
اتنے میں امام الانبیاء صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر میری نظر پڑی تو آپ کے پاس حاضر ہو کر عرض گزار ہوا یا رسول اللہ مجھے سخت پیاس
لگی ہے میں حضرت علی کے پاس گیا ہوں تاکہ وہ مجھے جام کوثر پلائے مگر انہوں نے مجھ سے منہ پھیر لیا میری بات سن کر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم نے ارشاد فرمایا میرے صحابہ سے بغض رکھنے والے کو میرے حوض کوثر سے علی کیسے پلائے گا میں نے عرض کی حضور میری توبہ کی کوئی صورت ہے؟
فرمایا تم اپنے برے عقائد سے توبہ کر کے اسلامی عقائد اختیار کر لو میں تمہیں ایسا مشروب پلاؤں گا کہ پھر کبھی پیاس نہیں لگے گی میں نے توبہ کر کے
اسلام قبول کر لیا آپ نے مجھے پیالہ عنایت کیا میں نے اسے پی لیا پھر آنکھ کھلی تو پیاس کا نام و نشان نہیں تھا تب سے یہ حالت ہے کہ چاہوں تو پانی پی لیتا
ہوں نہ پیوں تو پیاس نہیں لگتی پھر میں اپنے علاقے میں واپس آگیا اور تمام گستاخان صحابہ سے تعلق توڑ دی۔
(مصباح الظلام فی مستغیثین بخیرالانام فی الیقظۃ والمنام،74،دارالکتب العلمیہ)
