اخلاص
اس تحریر میں آپ اخلاص کے بارے میں پڑھیں گےاللہ عزوجل کے نزدیک اخلاص کی بہت اہمیت ہے
اخلاص کا معنی
کسی کام کو کسی ایک کے لیے خاص کرنے کا نام اخلاص ہے
اخلاص کی فضیلت قرآن سے
اے حبیب اللہ کی عبادت کرتے رہیں اسی کے لیے اپنے بندگی کو خالص رکھتے ہوئے۔(الزمر آیت 2اور3)
اے لوگو سن لو کہ خالص بندگی اللہ ہی کے لیے.(الزمرآیت 14)
ہر وہ نیک کام جس کو انسان کرتا ہے اس میں اخلاص ہونا شرط ہےاور اللہ عزوجل نے آقا علیہ الصلوۃ والسلام کو اخلاص کے ساتھ عبادت کرنے کی تاکید فرمائی۔
جس کام کے لیے نبی علیہ الصلوۃ والسلام کو تاکیدی حکم دیا گیا ہو تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کام کو ہمارے لیے بھی واضح طور پر بیان فرمایا ہے۔آقا علیہ السلام نے جو بھی عمل کیے ہیں یا اللہ عزوجل نے آپ کو جو بھی حکم فرمایا ہے آپ نے ان احکام پرعمل کر کے دکھایا اور اپنے امت کے لیے نمونہ چھوڑاکہ جس طرح میں نے عمل کیے ہیں اسی طرح میرےراستے پر چلتے ہوئے میرا امتی بھی اس پر عمل کرے
اللہ تعالی تمہاری صورتوں اور مالوں کو نہیں دیکھتا
اخلاص کے بارے میں ایک حدیث شریف ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ راوی ہیں کہ حضور علیہ السلام نے فرمایا بے شک اللہ تعالی تمہاری صورتوں اور مالوں کو نہیں دیکھتا بلکہ تمہارے دلوں اور اعمال کو دیکھتا ہے۔(مسلم شریف)
ظاہری صورت کے لحاظ سے کوئی شخص دستار پہنتا ہوسنت کے طور پر لباس پہنتا ہو تقوی و پرہیزگاری کاظاہرا اظہار کرتا ہو تو اللہ تعالی کو یہ ظاہری صورت کسی حال بھی پسند نہیں اگر یہ تمام دکھاوے کے لئے ہوں مگر اس ظاہری صورت کےساتھ اگر اخلاص ہے تو اللہ کے ہاں قبول ہے وگرنہ اللہ عزوجل اس عمل کو قبول نہیں فرماتا
لوگوں کے سامنے نماز اور تنہائی میں نماز
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم علیہ السلام نے فرمایا بے شک بندہ جب لوگوں کےسامنے اچھی طرح نماز پڑھے اور تنہائی میں بھی اچھی طرح نماز پڑھے تو اللہ تعالی فرماتا ہے کہ یہ میرا سچابندہ ہے۔(ابن ماجہ)
یعنی بندہ کسی بھی حالت میں ہو چاہے لوگوں کے سامنےہو اور چاہے تنہائی میں تو اس کی عبادت یکساں ہو
لوگوں کو نیک عمل کا پتہ چلنا
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم علیہ السلام سے کسی نے پوچھا یا رسول اللہ میں کوئی کام صرف اللہ کے لیے کرتا ہوں لیکن لوگوں کو اس کا پتہ چل جاتا ہے تو مجھے خوشی ہوتی ہے آپ نےفرمایا تیرے لیے دگنا اجر ہے عمل کو پوشیدہ رکھنے کااور اس کے ظاہر ہونے کا۔(ابن ماجہ)
نیک اعمال کو پوشیدہ رکھنا
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ نیک اعمال کو پوشیدہ رکھناچاہیے لیکن اگر کسی کو پھر بھی پتہ چل جاتا ہے تو پھربھی اس کے لیے ثواب ہےاس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اگر کوئی تقوی و
پرہیزگار ہے اپنے عمل کو دکھانا نہیں چاہتا لیکن اس کے باوجود لوگوں کو اس کے اعمال کا پتہ چل جاتا ہےلوگ اس کی وجہ سے اس کی عزت کرتے ہیں تو یہ اخلاص کے منافی نہیں ہے
اخلاص کےہونے یانہ ہونے کے اعتبار اعمال کی تین قسمیں ہیں
1 جس عمل میں ریاکاری(دکھاوا)بھی شامل حال ہوگناہ ہے2 جو صرف رب تعالی کی رضاکی خاطر کی جائے3جو عمل اللہ عزوجل کی رضاکےلیے نہ ہو اس میں نفسانی خواہشات و ریاکاری جیسی اغراض کی ملاوٹ ہوتو پھر اس کی تین قسمیں ہیں اگر اللہ عزوجل کی رضا اوردوسری نفسانی غرضیں قوت میں ایک جیسی ہوں تو ایک دوسرے کے مقابلےمیں آکر ساقط ہوجائیں گے پھر نہ کوئی عذاب ہوگا نہ ثواب اگر قوت میں ریازیادہ ہوا اوررضاکم تو نقصان دہ ثابت ہوگاعمل ،گناہ بھی کھاتےمیں آئیں گےتوعذاب بھی ہوگا، مگرجتناکچھ رضاالہی ہوگا اس کی وجہ سے عذاب میں کچھ کمی ہوگی مقدار وقوت کےاعتبار سے لیکن جس عمل میں خالص ریاہوگا اس کے مقابلے میں اس میں عذاب کم ہوگی۔اور اگر رضاالہی زیادہ ہوگا ثواب بھی زیادہ اور جتنا ریاہوگا اتنا اسی قدر ثواب بھی کم ہوگی۔(دعوت اسلامی)
