سلام کی فضیلت
سلام کی فضیلت

ایک دوسرے کو سلام دینے کی بہت فضیلت
وارد ہوئی ہے قرآن و حدیث دونوں میں۔
سلام کی فضیلت قرآن سے
قرآن پاک میں سلام دینے کی فضیلت کے متعلق سورہ نساء آیت 86 میں ہے
اور جب تمہیں سلام دیا جائے کسی لفظ سے تو تم (جواب)
سلام دو ایسے لفظ سے جو بہتر ہو بے شک اللہ ہر چیز کا حساب لینے والا ہے
ہر قوم اور مذہب کے لوگوں میں باہمی ملاقات کے وقت
کچھ اچھے الفاظ بولنے کا رواج ہے لیکن اسلام نے اس
موقع کے لیے جو جملہ مقرر فرمایا ہے "السلام علیکم ورحمۃ اللہ” قرآن
کریم نے اس کے لیے "تحیۃ” کا لفظ استعمال فرمایا ہے یعنی درازی عمر کی دعا۔
اج کل ہم مسلمانوں نے سلام کو عام کرنے کا رواج چھوڑ
دیا ہے حالانکہ یہ سلامتی اور برکت اور رحمت کے لیے دعا ہے
جیسا کہ سلام کی فضیلت مذکورہ بالا آیت سے واضح ہے
احادیث سے سلام کی فضیلت
قران کریم سے فضیلت واضح ہو گئی اب احادیث سے سلام کی فضیلت کے بارے میں بیان ہوگا۔
حدیث شریف ہے میرے آقا صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے
فرمایا جب تک ایمان نہ لاؤ گے جنت میں داخل نہ ہو گے
اور جب تک آپس میں محبت نہ کرو گے کامل مومن نہ بن
سکو گے کیا میں تمہیں ایسی بات بتاؤں جس پر عمل کرو
تو آپس میں محبت پیدا ہو جائے گی ایک دوسرے
کو "السلام علیکم” کہا کرو۔ (ترمذی)
جنت میں جانے کے لیے ایمان لانا شرط ہے اس کے بغیر
جنت نہیں ملے گی اور ایک دوسرے میں اگر محبت پیدا
کرنا ہو تو سلام دیا کرو اور یہ سلام دینا سنت سے ثابت بھی ہے ۔
گھر والوں پر سلام
حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی مکرم صلی
اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا اے بیٹے جب تم اپنے گھر
والوں کے پاس جاؤ تو انہیں سلام کرو تم پر اور تمہارے
گھر والوں پر برکت نازل ہوگی۔(ترمذی)
اگر کسی کے گھر میں بے برکتی ہو تو وہ اس حدیث پر
عمل کرے تو انشاءاللہ اس کے گھر میں برکتوں کا نزول ہوگا۔
بچوں کو سلام دینے کی تعلیم دینا
اپنے بچوں کو سلام دینے کی تعلیم دینا چاہیے جیسا کہ
نبی علیہ الصلوۃ والسلام نے حضرت انس رضی اللہ
عنہ کو فرمایا اے بیٹے جب تم گھر والوں پر جاؤ تو
انہیں سلام کرو تم پر تمہارے گھر والوں پر برکت نازل ہوگی(ترمذی)
لہذا بچے جو گھر سے باہرجاتے ہیں اسکول سے واپس آتے ہیں
تو انہیں سمجھانا چاہیے کہ جیسے گھر
میں داخل ہوں تو پہلے سلام کیا کریں اس سے گھر میں برکتوں کا نزول ہوتا ہے۔
اور پھر بچوں کو ہی نصیحتیں نہ کی جائیں بلکہ خود بھی
اس عمل کیا جائے کہ جیسے گھر کی دیوار سے باہر
نکلے اور واپس داخل ہوئے تو آواز کے ساتھ سلام کر لی
اور بچے بھی اسی طرح بڑوں سے تربیت لیں گے اور اس پر عمل کریں گے۔
