تقوی کا ثبوت قرآن و حدیث سے
تقوی کا ثبوت قرآن و حدیث سے
قرآن و حدیث سے تقوی کا ثبوت موجود ہے
بہت ساری احادیث اور آیات ہیں جن میں تقوی کا بیان
موجود ہے اور اس سے تقوی کا ثبوت ثابت ہو جاتا ہے
سلام کی فضیلت کے بارے میں پڑھیں
تقوی کی فضیلت قرآن مجید سے
قرآن مجید سے تقوی کی فضیلت پر پہلی آیت
ذٰلِکَ الۡکِتٰبُ لَا رَیۡبَ ۚۖۛ فِیۡہِ ۚۛ ہُدًی لِّلۡمُتَّقِیۡنَ ۙ﴿۲﴾(البقرہ)
یہ کتاب،کوئی شک نہیں اس میں،ھدایت ہے متقین کے لئے۔
ایسی کتاب جس میں شک کی کوئی گنجائش ہی نہیں
اور یہ متقین کے لئے ھدایت کا ذریعہ ہے
قرآن مجید تقوی والوں کے لئے ھدایت ذریعہ کیوں
کسی کے ذہن میں یہ سوال اٹھ سکتا ہے کہ قرآن مجید تقوی والوں کے لیے ہدایت کا ذریعہ ہی کیوں ہے
حالانکہ قرآن مجید فرقان حمید تمام لوگوں کے لیے ہدایت
کا ذریعہ ہے قرآن مجید کی آیات کو پڑھ کر اس کی
پیروی کر کے ہی تمام انسان ہدایت کے راستے کو پا سکتے ہیں۔
اور اسی سورت کے اندر ہی رب تعالی نے فرمایا یہ قرآن
تمام لوگوں کے لیے ہدایت کا ذریعہ ہے جیسا کہ آیت نمبر 185 میں بیان ہے۔
تو اس آیت اور 185 نمبر آیت کے مطابق قرآن متقین اور باقی لوگوں کے لیے ہدایت کا ذریعہ ہے
لیکن اس لحاظ سے تقوی کرنے والے یعنی متقین قرآن
پاک سے حقیقی نفع حاصل کرنے والے ہیں اور باقی لوگ
تقوی کرنے والوں کے جیسے قرآن پاک سے حقیقی نفع نہیں اٹھا سکتے۔
اس لحاظ سے عام لوگوں اور متقین میں فرق ہے۔
تقوی کا معنی اور تعریف
کسی بھی چیز کو پہچاننے کے لیے اس کی تعریف ضروری ہے اس لحاظ سے تقوی کا معنی اور تعریف یہ ہے کہ
نفس کو خوف کی چیز سے بچانا۔
تقوی کا اصطلاحی معنی
شریعت میں تقوی کا اصطلاحی معنی یہ ہے کہ
نفس کو ہر اس کام سے بچانا جسے کرنے یا نہ کرنے
سے کوئی شخص عذاب کا مستحق ہو جیسے کفر،شرک
کبیرہ گناہوں، بےحیائی کے کاموں سے اپنے آپ کو
بچاناحرام چیزوں کو چھوڑ دینا اور فرائض کو ادا کرنا وغیرہ .
(مدارک/البقرہ/ تحت الآیۃ،2، ص 19 ملتقطاً)(صراط الجنان)
تقوی کا ثبوت قرآن سے اور تقوی کا معنی و تعریف اور اصطلاحی بیان ہوگیا اب ہم آگے تقوی کا ثبوت و فضیلت حدیث سے بیان کریں گے۔
تقوی کی فضیلت
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت
ہےنبی مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا
تمہارا رب ایک ہےتمہارا باپ ایک ہے اور کسی عربی
کو عجمی (دیہاتی) پر فضیلت نہیں ہے نہ عجمی کو عربی
پر فضیلت ہے، نہ گورے کو کالے پر فضیلت ہے، نہ
کالے کو گورے (سفید رنگت والے) پر فضیلت ہے مگر صرف تقویٰ سے.
(معجم الاوسط، 3/329 الحدیث : 4749)
اکرم الناس اتقاھم
اللہ کے نبی سے پوچھا گیا کہ اکرم الناس کون ہے آپ نے فرمایا اتقاھم
جو اللہ سے سب سے زیادہ ڈرتا ہو جیسا کہ قرآن کریم میں
ہے "ان اکرمکم عندالله اتقاکم” (آیت)اللہ کے نزدیک اکرم الناس (لوگوں میں بہت عزت والا)
وہ ہے جو اتقا یعنی سب سے زیادہ اللہ سے ڈرتا ہو۔(بخاری شریف)
اللہ عزوجل کی محبوب یوں دعا فرماتے تھے
اللهم اني اسالك الهدى والتقى والعفاف والغنى
اے اللہ میں تجھ سے سوال کرتا ہوں هدایت تقوی پاکدامنی اور غنا کا۔
تقوی کی اہمیت
اللہ عزوجل اور اس کے رسول کے نزدیک تقوی کی بہت اہمیت ہے۔
خطبہ حجۃ الوداع کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا
اتقوا الله وصلوا خمسكم وصوموا شهركم وأدوا زكاة أموالكم وأطيعوا أمراءكم تدخلوا جنة ربكم
(اے لوگو) اللہ سے ڈرتے رہو پانچوں نمازوں کی پابندی
کرو اور ماہ رمضان کے روزے رکھتے رہو اپنے مال
کی زکوۃ ادا کیا کرو اپنے حکام کی فرمانبرداری اختیار
کرو اپنے رب کی جنت میں داخل ہو جاؤ گے۔(ترمذی)
جو لوگ اللہ عزوجل سے ڈرتے ہوں گے وہ رسول اللہ
صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے اس فرمان پر ضرور عمل پیرا ہوں گے۔
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا
اتقوا الله في النساء
تم عورتوں کے معاملات میں اللہ سے ڈرو۔(مسلم شریف،1218)
