روزے میں پیش آنے والے مسائل
روزے کی حالت میں پیش آنے والے مسائل

اس تحریر میں روزے کی حالت میں پیش آنے والے مسائل کا ذکر کیا جائےگا
تحریر میں ان چیزوں کا بیان ہوگا
- رات سے نیت کرنے کا کابیان
- سحری کے بغیر روزہ رکھنا کیسا
- افطاری میں جلدی کرنےکابیان
- ٹوتھ برش یامنجن کا استعمال
- رمضان کی راتوں میں بیوی سے ہمبسترہونےکابیان
- بھول کر کھاناپینا
- روزہ میں حجامہ کروانا
- الٹی کرنے کی صورت میں روزے کا حکم
- فرض غسل کی صورت میں روزہ رکھناکیسا
اس لحاظ سے ایک مسئلہ رمضان میں پیش آتا ہے وہ یہ ہےکہ
رمضان کے روزے کی نیت رات سے کرنا ضروری ہےیا
ضحوی کبری (زوال) سے پہلے بھی کیا جا سکتا ہے
رمضان میں رات سے روزے کی نیت کرنا
اسی طرح کا ایک سوال فتاوی فیض رسول جلد اول صفحہ نمبر 473 پر لکھا ہے
اس کا جواب دیتے ہوئے علامہ جلال الدین احمد امجدی رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا
ادائے رمضان کا روزہ اور نذر معین اور نفلی روزہ کی
نیت رات سے کرنا ضروری نہیں اگر ضحوی کبری یعنی
دوپہر سے پہلے نیت کر لی تب بھی یہ روزے ہو جائیں
گے اور ان تین روزوں کے علاوہ قضائے رمضان نذر
غیر معین اور نفل کی قضا وغیرہ کے روزوں کی نیت
عین اجالا شروع ہونے کے وقت یا رات میں کرنا
ضروری ہے ان میں سے کسی روزہ کی نیت اگر دس
بجے دن میں کی تو وہ روزہ نہ ہوا۔
نذر معین سے مراد کسی دن کو متعین کر کے روزے کی منت ماننا۔
کیوں کہ جب یہ روزہ رکھا جاتا ہے تو وہ پہلے ہی متعین
ہوتا ہے اس وجہ سے اس کے لیے رات سےہی نیت کرنا
ضروری نہیں
دوپہر سے پہلے پہلے نیت کر لے رمضان کے روزے
کی طرح تو اس کی بھی نیت ہو جائے گی وگرنہ نیت نہیں
کی تو روزہ نہیں ہوگی۔
اس کے علاوہ رمضان میں پیش انے والے مسائل میں
سے ایک مسئلہ یہ ہے کہ بغیر سحری کے روزہ ہو جائے گا یا نہیں
سحری کیے بغیر روزہ رکھنا
سحری کھا کر روزہ رکھنا مستحب ہے سحری کیے بغیر روزہ رکھنا بھی جائز ہے
حدیث شریف میں سحری کرنے کی بہت فضیلت آئی ہے
کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا اللہ اور
اس کے فرشتے سحری کھانے والوں پر درود بھیجتے ہیں
حضرت امام احمد حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ
سے روایت کرتے ہیں کہ سرکار اقدس صلی اللہ علیہ والہ
وسلم نے فرمایا سحری کل کی کل برکت ہے اسے نہ
چھوڑنا اگرچہ ایک گھونٹ پانی ہی پی لے اس لیے کہ
سحری کھانے والوں پر اللہ اور اس کے فرشتے درود بھیجتے ہیں۔
(فتاوی فیض الرسول،ج ایضا صفحہ 473/74)
بعض حضرات جو روزہ رکھتے بھی ہیں کبھی کبھار
سحری کے وقت ان کی آنکھ نہیں کھلتی اور آخری ٹائم
میں آنکھ کھل جاتی ہے کہ اس میں کھانا تیار کر کے
روزہ نہیں رکھا جا سکتا تو وہ لوگ صرف پانی ہی پی
لیں اور روزے کی نیت کر لیں تو ان کا روزہ ہو جائے گا۔
اسی لحاظ سے ایک مسئلہ یہ بھی پیش آتا ہے کہ جب اذان
ہو تو روزہ چھوڑیں (افطارکریں)یا اذان ہونے کے بعد روزہ چھوڑیں.
افطارمیں جلدی کرنا
سورج ڈوبنے کے بعد بلا تاخیر فورا افطار کریں اذان کا
انتظار نہ کریں اور جو لوگ اذان سے غروب آفتاب پر
مطلع ہوتے ہیں انہیں چاہیے کہ اذان ہوتی ہی فورا افطار
کریں ختم اذان تک افطار کو مؤخر نہ کریں حدیث شریف
میں ہے کہ اللہ تعالی فرماتا ہے یعنی مجھے اپنے بندوں
میں وہ شخص زیادہ پیارا ہے جو ان میں سب سے زیادہ
جلدی افطار کرتا ہے۔( ترمذی شریف)
اس لیے حضور سید عالم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا
معمول تھا کہ سورج ڈوبنے سے پہلے کسی صحابی کو
حکم فرماتے کہ وہ بلندی پر جا کر سورج کو دیکھتا رہے
صحابی سورج کو دیکھتے رہتے اور حضور ان کی خبر
کے منتظر رہتے جیسے ہی صحابی عرض کرتے کہ
سورج ڈوب گیا ہے حضور فورا خرمہ کھجور تناول فرماتے۔( طبرانی)
باقی رہا اذان کا جواب تو اس کے بارے میں بہار شریعت
میں ہے جب اذان سنے تو جواب دینے کا حکم ہے لہذا
بہتر یہ ہے کہ اذان ہونے سے پہلے افطار(روزےکھولے) کرے پھر جب
اذان شروع ہو جائے تو کھانا پینا بند کر دے اور اگر اذان
شروع ہونے پر افطار کرے تو تھوڑی کھا پی کر ٹھہر
جائے اور اذان کا جواب دے پھر اس کے بعد جو چاہے
کھائے پیے اس لیے کہ اذان کے وقت جواب کے علاوہ
کسی دوسرے کام میں مشغول ہونا منع ہے
(فتاوی فیض الرسول ایضا)
رمضان کی راتوں میں بیوی سے ہمبستری کرنا
جائز ہے جیساکہ قرآن مجید پارہ دوم رکوع 7 میں ہے
ترجمہ: تمہارے لئے روزوں کی راتوں میں اپنی
عورتوں کے پاس جانا حلال کردیا گیا۔
اس کے علاوہ ہمبستری ہونے کے بعد فورا غسل نہ کرنا
اور صبح سحری اسی ناپاکی کی حالت میں کرنا و روزہ رکھنا
جائز ہے حالت ناپاکی میں بھی میاں بیوی دونوں کا روزہ
ہوجائےگا۔
(فتاوی فیض الرسول جلد اول صفحہ نمبر 475)(بتغیرقلیل)
رمضان میں پیش آنے والے مسائل میں سے ایک مسئلہ
ٹوتھ برش یا مںجن لگانے کا بھی ہے
کہ آیا یہ روزہ میں کرسکتے ہیں یانہیں
حالت روزہ میں ٹوتھ برش یا منجن کا استعمال
روزہ کی حالت میں اس طرح کی چیزیں بلا ضرورت
صحیحہ استعمال کرنا مکروہ ہے چنانچہ امام احمد
رضا خان بریلوی رضی اللہ عنہ تحریر فرماتے ہیں کہ
منجن حرام و ناجائز نہیں ہے جبکہ اطمینان کافی ہو کہ
اس کا کوئی جز حلق میں نہ جائے گا مگر بے ضرورت
صحیحہ کراہت ضرور ہے.
(فتاوی رضویہ جلد چہارم صفحہ نمبر 614)
اگر اس کا کچھ حصہ حلق میں چلا گیا اور حلق میں اس
کا مزہ محسوس ہوا تو روزہ جاتا رہا مگر اس صورت
میں صرف قضا واجب ہوگی کفارہ نہیں۔
(فتاوی فیض الرسول جلد سوم صفحہ نمبر 197)
لہذا احتیاط اسی میں ہے کہ ایسی چیزوں کو استعمال نہ
کیا جائے سنت طریقے کے مطابق مسواک کو استعمال
میں رکھا جائے جس سے روزے کو کوئی خطرہ لاحق
نہیں ہوتا باقی ایسی چیزوں کے استعمال کرنے سے روزہ
کے ٹوٹ جانے خراب ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے
احتیاطاایسی چیزوں کو استعمال نہیں کرنا چاہیے۔
سحری اور افطاری میں شک
ﺗَﺴَﺤَّﺮَ ﻋَﻠَﻰ ﻇَﻦِّ ﺃَﻥَّ اﻟْﻔَﺠْﺮَ ﻟَﻢْ ﻳَﻄْﻠُﻊْ، ﻭَﻫُﻮَ ﻃَﺎﻟِﻊٌ ﺃَﻭْ ﺃَﻓْﻄَﺮَ ﻋَﻠَﻰ
ﻇَﻦِّ ﺃَﻥَّ اﻟﺸَّﻤْﺲَ ﻗَﺪْ ﻏَﺮَﺑَﺖْ، ﻭَﻟَﻢْ ﺗَﻐْﺮُﺏْ ﻗَﻀَﺎﻩُ، ﻭَﻻَ ﻛَﻔَّﺎﺭَﺓَ ﻋَﻠَﻴْﻪِ؛
کسی شخص نے سحری کیا یہ گمان کرتے ہوئے کہ ابھی
تک فجر نہیں ہوئی حالانکہ فجر کا ٹائم ہو چکا تھا یا کسی
نے روزہ چھوڑ دیا اور یہ گمان کرتے ہوئے کہ سورج
غروب ہو گئی ہے اور حالانکہ سورج غروب نہیں ہوا تھا
تو ان دونوں صورتوں میں اس پر قضا ہوگا اور کفارہ نہیں ہوگا
فجر میں شک کی صورت میں روزہ
فجر میں تو افضل یہ ہے کہ کھانا چھوڑ دے اور اگر اس
نے کھایا تو اس کا روزہ پورا ہو جائے گا جب تک کہ یہ
یقین نہ ہو کہ اس نے کھایا فجر کے بعد تو قضا رکھے گا۔
ﺇﺫَا ﺷَﻚَّ ﻓِﻲ اﻟْﻔَﺠْﺮِ ﻓَﺎﻷَْﻓْﻀَﻞُ ﺃَﻥْ ﻳَﺪَﻉَ اﻷَْﻛْﻞَ، ﻭَﻟَﻮْ ﺃَﻛَﻞَ ﻓَﺼَﻮْﻣُﻪُ
ﺗَﺎﻡٌّ ﻣَﺎ ﻟَﻢْ ﻳَﺘَﻴَﻘَّﻦْ ﺃَﻧَّﻪُ ﺃَﻛَﻞَ ﺑَﻌْﺪَ اﻟْﻔَﺠْﺮِ ﻓَﻴَﻘْﻀِﻲ ﺣِﻴﻨَﺌِﺬٍ ﻛَﺬَا ﻓِﻲ ﻓَﺘْﺢِ اﻟْﻘَﺪِﻳﺮِ.
اور اگر اس کا زیادہ گمان یہی ہے کہ فجر طلوع ہو چکا
اس کے بعد بھی اس نے سحری کی تو اس پر قضا ہوگا
اس کے غالب رائے کا اعتبار کرتے ہوئے
ﻭَﺇِﻥْ ﻛَﺎﻥَ ﺃَﻛْﺒَﺮُ ﺭَﺃْﻳِﻪِ ﺃَﻧَّﻪُ ﺗَﺴَﺤَّﺮَ ﻭَاﻟْﻔَﺠْﺮُ ﻃَﺎﻟِﻊٌ ﻓَﻌَﻠَﻴْﻪِ ﻗَﻀَﺎﺅُﻩُ
ﻋَﻤَﻼً ﺑِﻐَﺎﻟِﺐِ اﻟﺮَّﺃْﻱِ
(اﻟﻔﺘﺎﻭﻯ اﻟﻬﻨﺪﻳﺔ،كتاب الصوم وفيه سبعة أبواب، صفحة -194)
اس کے بعد مسائل کو نورالایضاح سے بیان
کیا جارہاہے اس میں بریکٹ کے اندر جو بھی جملہ
ہوگا وہ میری تشریح سمجھا جائے اس کے علاوہ
سارا نورالایضاح کے ہی مسئلے ہوں گے۔
وہ چیزیں جن سے روزہ نہیں ٹوٹتا
بھول کر کھانے پینے سے روزہ ٹوٹےگا یانہیں
اگر کسی شخص نے بھول کر کھایا یا، پیا اگر بھولنے
والے کو روزہ رکھنے کی طاقت ہو تو وہ دیکھنے والا
اسے یاد دلائے یاد نہ دلانا مکروہ ہے اگر اسے طاقت نہ
ہو تو(بوڑھاہو) یاد نہ دلانا بہتر ہے۔
(تشریح:اگر یاد دلانے کےباوجود کھانے پینے سے نہ رکا تو روزہ ٹوٹ جائےگا۔)
دیکھنے یا سوچنے سے انزال ہو گیا اگرچہ دیر تک دیکھتا یا سوچتا رہا۔
تشریح: کیونکہ اس صورت میں جماع نہ حقیقتا پایا گیا اور نہ حکماروزہ باقی ہے
تیل لگانا سرمہ لگانا اگرچہ اس (سرمے) کا ذائقہ اپنے حلق میں پائے ۔
(کسی سوراخ جیسے منہ سے اندرکوئی چیز جائے
تو روزہ ٹوٹ جائے گا اب مسام کے ذریعے
حلق میں اثرمحسوس ہواتو روزہ نہیں ٹوٹےگا)
حجامہ کروانے کی صورت میں روزے کا حکم
سینگی لگوانا یاغیبت کی یا روزہ توڑنے کی نیت کی لیکن توڑا نہیں
(سینگی یعنی حجامہ کروانا،غیبت کرنا گناہ توہے لیکن روزہ
نہیں ٹوٹےگا،صرف توڑنے کی نیت روزےکونہیں توڑتا
جب تک توڑنے والا عمل کرنہ گزرے ایسے ہی حجامہ سےبھی)
اس کے اپنے عمل کے بغیر حلق میں دھواں یا غبار داخل ہو گیا اگرچہ چکی کا غبار ہو
مکھی یا دوائیوں کا اثر حلق میں پہنچ گیا حالانکہ اس کو
روزہ یاد بھی تھا
حالت جنابت میں روزہ رکھنے کا حکم
صبح جنابت (ناپاکی) کی حالت میں اٹھا اور دن بھر جنبی رہا.
(پھراسی حالت میں روزہ رکھا سارا دن ناپاک رہا روزہ تو ہوجائےگا
لیکن گنہگار ہوگا نمازیں چھوڑدیں)
نہرمیں غوطہ لگانے سے روزےکاحکم
عضو مخصوص کے سوراخ میں پانی یا تیل ڈالا یا نہر
میں غوطہ لگایا پھر پانی کان میں داخل ہو گیا۔
(اس صورت میں بھی روزہ نہیں ٹوٹےگا کیوں
کہ ان کا راستہ معدہ تک نہیں)
لکڑی کے ساتھ کان کھجلایا تو اس کے ساتھ میل نکلی
پھر اسے بار بار کان میں داخل کیا۔
(کان کے ذریعے پیٹ تک کوئی چیز نہیں پہنچتا
البتہ کان کا پردہ پھٹاہوتو روزہ ٹوٹ جائےگا)
ناک میں رینٹھ داخل ہوئی تو پھر جان بوجھ کر اسے اوپر
چڑھا لیا یا نگل لیا۔
(روزہ نہیں ٹوٹے گا کہ باہر سے کوئی چیز منہ میں نہیں رکھی)
الٹی کرنےکی صورت میں روزے کاحکم
الٹی غالب آگئی اور روزے دار کے اپنے عمل دخل کے
بغیر واپس لوٹ گئی اگرچہ منہ بھر کر ہو صحیح قول
یہی ہے کہ (روزہ برقرارہے)
جان بوجھ کر قئے کی لیکن منہ بھر کر نہ تھی صحیح
قول کے مطابق یہی بات ہے اگرچہ اسے خود لوٹا دے یہ
بھی صحیح قول کے مطابق ہے۔
( خود الٹی آئے جتنابھی ہو روزے پر اثر
نہیں پڑےگا جان بوجھ کر اپنے آپ کو الٹی کرائے
حلق میں ہاتھ ڈال کر،اس صورت میں
منہ بھرقئے کی تو روزہ ٹوٹ جائےگا وگرنہ نہیں اس کے
بعد چنے جتنا ذرہ بعد میں نگل لیاتو تو دونوں صورتوں
میں روزہ ٹوٹ جائےگا)
روزے کی حالت میں چنے کے برابرچیزنگلنے کاحکم
دانتوں کے درمیان جو کچھ تھا اسے کھا لیا اور وہ چنے سے کم تھا.
(تب بھی روزہ برقرار ہے چنے جتنا ہواتو ٹوٹ جائےگا)
باہر سے تل کے برابر کوئی چیز منہ میں ڈال کر چبائی
یہاں تک کہ وہ چمٹ گئی اور حلق میں اس کا ذائقہ نہیں پایا۔
(توبھی روزہ برقرار ہے)
(نورالایضاح، صفحہ نمبر،253/54،مکتبہ قادریہ لاہور)
وہ چیزیں جن سے قضاء اور کفارہ دونوں لازم ہوتےہیں
روزہ دار جب ان میں سے کوئی چیز اپنی خوشی سے جان بوجھ کر
کسی مجبوری کے بغیر اپناتا ہے تو اس پر قضا اور کفارہ
دونوں لازم آتے ہیں
دونوں راستوں (آگلےاورپچھلے) میں سے ایک میں جماع کرنے سے فاعل اور مفعول دونوں پر
(قضاء کےساتھ کفارہ بھی لازم آئےگا)
کھانا اور پینا اس میں وہ چیز جسے کھایا جاتا ہے یا وہ
چیز جسے بطور دوا استعمال کیا جاتا ہے برابر ہے
بارش کا پانی نگل لینا جو اس کے منہ میں داخل ہو
(یا ایسے گرتا ہوا کوئی بھی پینے والا پانی)
کچا گوشت کھانا البتہ اس میں کیڑے پڑ چکے ہوں
(تو کفارہ لازم نہیں ہوگا) قضا لازم آئے گا
چربی کھانا خشک کیا ہوا گوشت اور گندم کا کھانا
گندم کو دانتوں سے توڑنا مگر یہ کے دانے کو چبایا اور وہ منہ سے چمٹ گیا
گندم کا دانہ یا تل کا دانہ یا اس کی مثل منہ کے باہر سے
لے کر نگل لینا اس سے روزہ بھی ٹوٹ جائے گا اور قضاء
بھی لازم آئے گا مختار مذہب کے مطابق
مٹی وغیرہ کھا لینا اگر اس کی عادت ہو
مونچھوں کو تیل لگانے کے بعد یہ خیال کرتے ہوئے کہ
روزہ ٹوٹ گیا کھانا کھا لینا البتہ یہ کہ کسی فقیہ نے فتوی
دیا ہو یا اس نے حدیث سنی لیکن اپنے مذہب کے مطابق
اس کے مفہوم کو نہ سمجھا اگر اس کا مفہوم مراد سمجھا
تو کفارہ واجب ہوگا ۔
انجیکشن لگانے سے روزے کا حکم
اس لحاظ سے آج کل علماء تو فتوی یہی دیتے ہیں کہ
روزہ نہیں ٹوٹے گا انجیکشن لگانے اور ڈرپ لگانے سے
اور علامہ غلام رسول سعیدی علیہ الرحمہ کی رائے
کےمطابق انجیکشن سے روزہ ٹوٹ جائےگا
جسے علامہ صاحب نے اپنی تفسیر تبیان القرآن
کی پہلی جلد میں ذکر کیا ہے آیت صوم کے تحت
ہمیں ان کی رائے پسند آگئی اس لحاظ سے
علامہ مفتی وقارالدین علیہ الرحمہ بھی منع فرماتے تھے
کہ بحالت روزہ انجیکشن نہ لگوایا جائے۔
فتاوی فیض الرسول میں بھی لکھاہے کہ انجیکشن لگانے سے
روزہ نہیں ٹوٹےگا۔
اس سے آگے مسائل اپنے لحاظ سے ترتیب دئیے ہوئےہیں
جن پر علماء اہلسنت کا جو فتوی ہے اسی لحاظ سے بیان کئے جائیں گے۔
انہیلر استعمال کرنا
روزے میں پیش آنے والے مسائل میں ایک مسئلہ جو سانس
کی بیماری میں مبتلا ہیں اور وہ سانس بحالی کے لیے
انہیلراستعمال کرتےہیں تو حکم یہ ہے کہ
اس کے استعمال کرنے سے روزہ ٹوٹ جائےگا
کیوں کہ اس کے ذرات حلق سے نیچے جاتے ہیں جس
سانس بحال ہوجاتاہے
مسواک لگانا
سنت ہے البتہ اس کےاستعمال سے روزے پر کوئی فرق نہیں پڑےگا
میک اپ کے ذریعے سینگھارکرنا
اس سے بھی روزے پر کوئی فرق نہیں پڑےگا
البتہ چیزیں جو پانی کوجلد تک پہنچنے میں مانع ہوں
بچنا چاہئے جس سے وضو نہ ہونے کا اندیشہ ہو
نہانا
جتنا بھی نہائیں اس سے روزے پر کوئی فرق نہیں پڑےگا
تھوک بلغم اندر نگلنا
اس سے بھی روزے پر کوئی فرق نہیں پڑےگا
دانت اور ناک سے خون کا نکلنا
اس سے روزہ ٹوٹ جائےگا
زبان پر کوئی چیز رکھ کر چکھنا
روزے میں پیش آنے والے مسائل میں ایک مسئلہ یہ بھی
ہے جو اکثریت کھانا بنانے والوں کو پیش آتاہے کہ کوئی چیز بنائیں
تو اس ذائقہ کیساہے تو انہیں چکھنے کی ضرورت پڑسکتی یے البتہ
کھانے کو چکھنا اور اس چیز کو نگلے بغیر چکھنا
اورپھرپھینک دینے سے روزے پر
کوئی فرق نہیں پڑےگا۔
بحالت روزہ غرغرہ کرنا
روزے میں پیش آنے والے مسائل میں سے ایک
مسئلہ یہ ہے کہ
وضو کرتے ہوئے غرغرہ کرنا یا غسل کرتے ہوئے
غرغرہ کرنے سے روزہ ٹوٹ جائے گا
کیوں کہ پانی حلق سے نیچے اترجائےگا
