سودکی ممانعت قرآن وحدیث سے
سودکی ممانعت قرآن وحدیث سے
اس تحریر میں آپ پڑھیں گے کہ سود کی ممانعت قرآن و حدیث دونوں میں موجود ہےچنانچه قرآن مجید فرقان حمید سورۃ البقرہ آیت نمبر 275 میں اللہ رب العزت نے فرمایا
سودکی ممانعت پرآیات
وہ جو سود کھاتے ہیں قیامت کے دن نہ کھڑے ہوں گےمگرجیسے کھڑا ہوتا ہے وہ جسے آسیب نے چھو کر
مخبوط بنادیا(وہ جس کے حواس مختل ہوگئے ہوں)ہواس لئے کہ انہوں نے کہا بیع بھی تو سود ہی کے مانند ہےاوراللہ نے حلال کیا بیع کو(خریدوفروخت کو) اور حرام کیا
سود،تو جسے اس کے رب کے پاس سے نصیحت آئی اوروہ باز رہا تو اسے حلال ہے جو پہلے لے چکا،اور اس کاکام خدا کے سپرد ہے اور جو اب ایسی حرکت کرے گا تووہ دوزخی ہے وہ اس میں مدتوں رہیں گے۔
اس آیت میں اللہ رب العزت نے سود کو حرام فرمایا اورخرید و فروخت یعنی تجارت کو حلال قرار دیا اور سودکی ممانعت اس لیے ہے کہ سود کھانے والا ظالم ہوتا ہے
اس لیے کہ وہ بغیر کسی محنت ومشقت اور معاوضہ کےلوگوں سے پیسے لے لیتا ہے اس سے تجارت کو بھی
نقصان ہے کیونکہ تاجر محنت اور مشقت کر کے بدلہ لیتاہے اور سود کھانے والا بیٹھ کرآرام سے بغیر کسی معاوضہ کے دوسرے کا مال لے لیتا ہے اور آیت میں بیان
ہوا کہ قیامت کے دن سود کھانے والا ایسے کھڑا ہوگاجیسے اس کے حواس بھی برابر نہیں ہوں گے اس وجہ سے سود کھانے کی ممانعت کو اللہ رب العزت نے قرآن میں بیان فرمایا۔
دگناچوگناکرکےسود نہ کھاؤ
سود کی ممانعت پر دوسری آیت سوره آل عمران آیت نمبر130 میں اللہ رب العزت نے بیان فرمایا!اے ایمان والو
دگناچوگناسود نہ کھاؤ اور اللہ سے ڈرتے رہو تاکہ تم فلاح پاؤ۔
اس آیت میں اللہ رب العزت نے یہ بیان فرمایا کہ سود نہ
کھانے والا فلاح پانے والوں میں سےہے اور سودکھانےوالا فلاح پانےوالوں میں نہ ہوگا لہذا سود کھانے کی ممانعت اللہ رب العزت نے قرآن مجید میں بیان فرمایا ہے
اور ہر مسلمان جس نے کلمہ پڑھ لیا ہے اللہ رب العزت کی ذات کو ایک مانتا ہے اور اللہ کے تمام رسولوں کورسول مانتا ہے اس پر یہ لازم ہے کہ وہ اللہ رب العزت کی پیروی کرےاوراللہ عزوجل کا حکم مانے۔
ممانعت سود پر حدیث رسول
سودکی ممانعت قرآن وحدیث سے قرآن سے بیان ہوگیااور اب حدیث رسول سے بیان ہوگا کہ حضور سیدعالم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ سود کا گناہ
ایسے 70 گناہوں کے برابر ہے جن میں سب سے کمدرجہ کا گناہ یہ ہے کہ مرد اپنی ماں سے زنا کرے۔(ابن ماجہ،بیہقی شریف)
رباکالغوی معنی
رباکےمعنی ہیں زیادتی
سودکی تعریف
اصل مال پرزیادہ رقم لینے کو ربا (سود) کہتےہیں۔
سودکھانااورکھلاناحرام ہے
اس سود کے معاملات پرگواہ ہونا بھی حرام ہے اورسودی کاغذات پرلکھنا بھی حرام ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے لعنت فرمائی سود کھانے والے اور
سود کھلانے والے اور اس کا کاغذ لکھنے والے اور اس پر گواہیاں کرنے والوں پر اور فرمایا وہ سب برابرہیں۔۔(فتاوی رضویہ،جلدسوم)
سودکھانےکاگناہ کتناہے؟
یہ تو بیان سے باہر ہے اگر کوئی سود اس طرح کھائےکہ اس کو جائز سمجھے تو وہ دائرہ اسلام سے خارج ہوجاتا ہے یعنی وہ کافر ہو جاتا ہے چنانچہ سود کھانے کاگناہ کتنا ہے اس کے بارے میں حضرت عبداللہ بن حنظلہ
غسیل الملائکہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول کریم علیہ الصلوۃ والتسلیم نے فرمایا کہ سود کا ایک درہم جس کو آدمی جان بوجھ کر کھائے گا اس کا گناہ 36 بارزنا کرنے سے زیادہ ہے۔(احمد،دارقطنی)
یعنی کوئی بندہ ایک بار زنا کرے تو ایک گناہ کبیرہ اورجان بوجھ کر سود کھائے تو اس کا گناہ اتنا ہے کہ جس نے 36 مرتبہ زنا کیا ہو یعنی 36 سےزیادہ گناہ کبیرہ کئےہوں۔
