کرسمس مبارک باد اور تہوار میں (شمولیت) کاحکم
کرسمس مبارک باد اور تہوار میں (شمولیت) کاحکم
یہ بھی پڑھیں کہ نئے سال کو یوں گزاریں
نیروزمہرگان اورہولی دیوالی کب شروع ہوا
امام احمد رضا خاں بریلوی علیہ الرحمہ سے ہولی دیوالی کےکرنےکےبارےمیں پوچھاگیاتو آپ نےاس
کاجواب بہترین طریقے سےدیااس کا نیچےذکرآئےگااورساتھ میں یہ بھی بتایاکہ ہندوؤں
نےآگ کی پرستش(عبادت)کس سے سیکھی اورآگے یہ بھی بتایا کہ مسلمان اگربعینہ ان کی
طرح تعظیم کریں تو دائرہ اسلام سے خارج ہوجائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں کہ مردوں کو سونے اور چاندی کی انگوٹھی پہننا کیسا
کسی قوم کا مشابہت اختیار کرنا
حدیث شریف ہے
من تشبہ بقوم فہو منہم
ترجمہ
جو کسی قوم کے سے مشابہت پیدا کرے گا وہ انھیں میں سے ہوگا۔
(سنن ابی داؤد کتاب اللباس باب لبس الشہرۃ آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۲۰۳)
اب کثیرعلماءچاہےاپنےاورپرائےاس پر متفق ہیں کہ شرکت کرنا حرام ہوگااور شرکت کرنےسےبچنااحسن و اولی ہےاورسواد اعظم ہے
جوکسی قوم کی جماعت بڑھائے
دوسری حدیث میں ہے حضورصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں
من کثر سواد قوم فہو منہم
ترجمہ
جو کسی قوم کی جماعت بڑھائے وہ انھیں میں سے ہے۔
(تاریخ بغداد ترجمہ عبداللہ بن عتاب ۵۱۶۷ دارالکتاب العربی بیروت ۱۰ /۴۰)
مفتی منیب الرحمن صاحب نےاپنےکالم میں کرسمس کےبارےمیں کچھ اس
طرح لکھا ہےہم اس کا کچھ حصہ بعینہ نقل کررہےہیں
کیا کرسمس کی مبارکباد دینا جائز ہے؟
پروفیسر مفتی منیب الرحمن
(مطبوعہ روزنامہ دنیا1 جنوری 2017)
حالیہ کرسمس کے موقع پر ایک اخبار نے Happy Christmas کہنے کے بارے میں مختلف مسالک کے
علماء سے آراء طلب کیں، اُن میں سے بعض نے کسی وضاحت اور فرق کے بغیر اِسے حرام قرار دیا اور بعض
نے کفر و شرک قرار دیا۔ ہماری گزارش یہ ہے کہ کفر و شرک کا فتویٰ صادر کرنے میں ہمیشہ احتیاط کرنی
چاہیے، کیونکہ دینی حکمت سے عاری فتویٰ پر بعض اوقات منفی اثرات مرتّب ہوتے ہیں۔
Happy Christmas کا معنی
کا معنی ہے حضرت عیسی علیہ السلام کی پیدائش پر خوشی منانا‘‘۔ پس اگر کوئی اپنے پڑوس میں رہنے والے
یا دفتر میں ساتھ کام کرنے والے کسی پاکستانی مسیحی کو عیسیٰ علیہ السلام
کی پیدائش کی مبارک باد دیتا ہے، تو اِس میں کوئی ایسی شرعی قباحت
نہیں ہے کہ اُس پر کوئی فتویٰ صادر کیا جائے۔ جب یہ مان لیا جائے کہ عیسیٰ علیہ السلام پیدا ہوئے، تو اِس
کے معنی یہ ہیں کہ آپ مخلوق ہیں، حادِث ہیں اور اللہ کے بندے ہیں، جبکہ خالق کی ذات ازلی و ابدی ہے،
قدیم ہے، اپنے آپ سے ہے، اُس کے تمام کمالات ذاتی ہیں، مخلوق خالق کا جز نہیں ہے اور اللہ تعالیٰ کی ذات
باپ، بیٹے اور بیٹی کی نسبت سے پاک ہے۔ الغرض پیدائش کی نسبت سے ہی خدا ہونے یا اِبنُ اللہ ہونے کی
نفی ہوجاتی ہے۔ سو فی نفسہٖ عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کی خوشی منانے میں شرعاً کوئی عیب نہیں ہے۔
کرسمس مبارک باد اور تہوار میں (شمولیت) کاحکم
رسول اللہ ﷺ جب مدینہ تشریف لائے، تو آپ نے دیکھا عاشورہ کا روزہ
کہ یہود عاشور کا روزہ رکھ رہے ہیں، آپﷺ نے پوچھا: یہ کیا ہے؟، انہوں نے کہا: اِس دن اللہ تعالیٰ نے موسیٰ
علیہ السلام کو نجات عطا فرمائی تھی اور فرعونیوں کو غرق کر دیا تھا، تو اُس کے شکرانے کے طور پر
موسیٰ علیہ السلام نے روزہ رکھا، آپ ﷺ نے فرمایا: ہمارا تعلق موسیٰ سے تمھارے مقابلے میں زیادہ ہے، سو
آپ نے خود بھی یومِ عاشورکا روزہ رکھا اور اُس کا حکم بھی فرمایا. (سنن ابن ماجہ:1734)‘‘۔
بعض حضرات کا کہنا ہے کہ مسیحی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ابن اللہ ہونے کی حیثیت سے ایک
دوسرے کو مبارک دیتے ہیں، اگر ایسا بھی ہے، تو مسلمان کا موحِّد ہونا اس بات کی روشن دلیل ہے کہ
وہ اس طرح کے باطل نظریات سے پاک ہے۔ الغرض جائز حد تک مدارات کی رخصت دی جا سکتی ہے، البتہ
مدارات کے نام پر ان کی عبادت گاہوں میں جا کر ان کی مذہبی رسوم میں شرکت کرنا بلاشبہ حرام ہے اور
ان کے مذہبی شِعار کو اختیار کرنا بھی حرام ہے، اس میں کوئی اعتقادی یا عملی چیز اگر شرک و کفر پر
مبنی ہے، تو شرک و کفر ہے، ورنہ بر سبیل تنزل حرام ہے اور اس میں مدارات کی گنجائش نہیں ہے، بلکہ یہ
مداہنت ہے اور حرام ہے۔ جیسے مسیحیوں کی طرح
صلیب لٹکانا یا ہندووں کی طرح زنار باندھنا وغیرہ۔
عید کی مشروعیت
اسلام میں بھی عید کی مشروعیت تشکرِ نعمت باری تعالیٰ اور اجتماعی شِعار عبادت کے لیے ہے اور
مسلمانوں کی حقیقی عید یہی ہے۔ ہم جو ایک دوسرے کو عید کی مبارک باد دیتے ہیں، یہ شِعار بھی سنت
رسول سے ثابت نہیں ہے، لیکن یہ ایک مستحسن امر ہے، تو اسے ہم جائز قرار دیں گے۔
اب ہولی دیوالی اور کرسمس میں لوگ جاتےہیں توکیااس سے ان کی جماعت میں اضافہ ہوتاہےکہ نہیں؟
کسی بھی مسلمان کو سب سےپہلےاللہ اور اس کے رسول کے احکام کودیکھنا چاہئےاگررسول اللہ منع کرتے
ہوں تو رک جائیں اگراطاعت کا حکم دیں تو کرگزریں اسی میں ایمان کی پختگی ہے
اور االلہ عزوجل کی معصیت میں کسی کا اتباع درست نہیں، نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں
لاطاعۃ لاحد فی معصیۃ االلہ
اللہ تعالٰی کی نافرمانی میں کسی کی فرمانبرداری نہیں واللہ تعالٰی اعلم
( المعجم الکبیر حدیث ۳۱۵۰ مکتبہ الفیصلیہ بیروت ۳/ ۲۰۸ و ۲۰۹)
اب کرسمس وغیرہ غیرمسلموں کی تہوار میں ناپسندکرتےہوئے ھی شرکت کرنا حرام وہاں جاکر
تعظیم وتکریم کرنارسومات میں شرکت کرنا شامل ہوکرتویہ کفرہے اوربندہ دائرہ اسلام سے خارج ہوجاتاہے
اب نیروز مہرجان یامہرگان کاذکرآقاعلیہ السلام کے زمانے میں آتااس وقت یہ
غیرمسلموں کےتہوارتھےتو اب یہ کرسمس یاہولی دیوالی بھی غیرمسلموں
کےتہوارہیں اور احادیث میں ان کا ذکرہےتو استدلال بھی انہیں سےہی کیاجاتاہے
38299- "مسند علي” عن المسعر التميمي قال: أهدى إلى علي بن أبي طالب فالوذج في جام يوم النيروز
فقال: ما هذا؟ قالوا: هذا يوم النيروز ، فقال : نيروزنا كل يوم بالماء (ابن الانباري في المصاحف ، ورواه عن ابن سيرين).
(مسند علی ) مسعر تیمی سے روایت ہے فرمایا : حضرت علی (رض) کے لیے کسی نے نیروز کے دن ایک
جام میں فالودہ ہدیہ میں بھیجا، آپ نے فرمایا : یہ کیا ہے ؟ لوگوں نے کہا : یہ نیروز کا دن ہے، آپ نے فرمایا :
ہمارا نیروز ہر روز پانی سے ہوتا ہے۔ (ابن الانباری فی المصاحف ورواہ ابن سیرین)
نیروز ایرانیوں کی عید کس تاریخ کو ہوتاہے
نیروز، نوروزماہ فروروین کی پہلی تاریخ، جس روز سورج نقطہ حمل پر آتا ہے اور
بائیس مارچ کے مطابق ہوتی ہے یہ ایرانیوں کی عید کا دن ہے۔ (حسن اللغات فارسی)
کنزالعمال
جلد ہفتم
حدیث 2216
ہولی دیوالی کس بناء پر جاری ہوا؟
تو یہ کس بناپر جاری ہواہے؟ اس کی ابتداء کیسے ہوئی؟ مسلمان اگر اس کوکریں تو کیا ان پر کفر عائد ہوگا؟
الجواب
ہولی دیوالی ہندؤوں کے شیطانی تہوار ہیں، جب ایران خلافت فاروقی میں فتح ہوا بھاگے ہوئے آتش پرست
کچھ ہندوستان میں آئے ان کے یہاں دو عیدیں تھیں،
نوروز کہ تحویل حمل ہے اور مہرگان کہ تحویل میزان، وہ عیدیں اور ان میں آگ کی پرستش ہندؤوں نے ان
سے سیکھیں اور یہ چاند سورج دونوں کو پوجتے ہیں لہذا ان کے وقتوں میں یہ ترمیم کہ میکھ سنکھ رانت
کی پور نماشی میں ہولی اور تلاسنکھ رانت کی اماؤس میں دیوالی یہ سب رسوم کفار ہیں،
مسلمانوں کو ان میں شرکت حرام اور اگر پسند کریں تو صریح کفر،
غمز العیون میں ہے:
اتفق مشایخنا ان من رأی امرالکفارحسنا فقد کفر حتی قالوا فی رجل قال ترک الکلام
عنداکل الطعام حسن من المجموسی اوترک المضاجعۃ عندھم حال الحیض حسن فہو کافر ۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
ہمارے مشائخ کا اتفاق ہے کہ اگر کسی نے کفارکے کسی معاملہ کو اچھا کہا تو وہ کافر ہوجائے گا حتی کہ
انھوں نے اس شخص کو کافر قرار دیا جو یہ کہے کہ کھانے کے وقت مجوسی کے ہاں گفتگوں نہ کرنا بہت
اچھا عمل ہے یا ان کے ہاں حالت حیض ہمسبتری نہ کرنا اچھا عمل ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
( الاشباہ والنظائر بحوالہ غمزالعیون کتاب السیروالردۃ ادارۃ القرآن کراچی ۱/ ۲۹۵)
یہ تحریر جس کا عنوان، کرسمس مبارک باد اور تہوار میں (شمولیت) کاحکم ، پڑھنے کے بعد اس معاملے میں شکوک وشبہات دور ہو جائیں گے
عیسوی سن کا آغاز
آپ کی پیدائش کے وقت سے عیسوی سن کا آغاز ہوا چنانچہ
جب حضرت عیسی علیہ السلام و التسلیم دنیا میں تشریف لائے اور اپنی قوم کو اسلام کی دعوت دی
جس کے پاداش میں یہودی آپ کے قتل کے درپے ہو گئے اور اسکی مکمل تیاری بھی کر لی، یہودیوں نے
آپ کے قتل کی جو تاریخ مقرر کی تھی، رب تعالیٰ نے عین وقت میں آپ کو آسمان پر بلا لیا۔ آپ ہی کی
پیدائش مبارک کے پہلے سال کو انگریزی تاریخ اور سن کا پہلا سال قرار دیا گیا۔
مسیحی اشاعت خانہ ۳۶ فیروز پور روڈلاہور کی شائع کردہ کتاب “ قاموس الکتاب ” میں لکھا ہے: عام طور پر خیال کیا جاتا ہے
کہ سن عسوی کا آغاز یسوع مسیح کی پیدائش کی تاریخ سے ہوا، مسیح کی تاریخ یا سال کا صحیح علم
کسی کو نہیں، غالبا ان کی پیدائش ۷۵۳ رومی سال میں ہوئی۔
رومی کلینڈر شہر رومہ
کی بنیاد کے روایتی
سال سے شروع ہوتا ہے”۔
کرسمس مبارک باد دینا اور اس تہوار میں (شمولیت) کا حکم آپ نے پڑھ لیا
اسے یاد رکھ کر لوگوں کی صحیح راہنمائی کریں
