سنت اعتکاف
آپ پڑھیں گے سنت اعتکاف کے بارے میں۔نبی علیہ السلام نے ہمیں عبادت کا طریقہ بتادیا
اب ہم پر لازم ہےکہ عبادت کریں اور عبادت کےذریعے رب تعالی کوراضی کریں۔
انہی طریقوں میں سے ایک طریقہ رمضان میں وزہ رکھتے ہوئے اعتکاف کرناہے

ہر مسجد میں اعتکاف کرنا کیسا؟
تحریر میں ان چیزوں کا بیان ہے
اعتکاف میں کب بیٹھنا چاہئے
ایک ہے سنت اعتکاف جورمضان شریف کے بیسویں روزے کی شام مغرب سے پہلے اعتکاف کی نیت سے مسجد میں موجود ہونا لازمی ہے۔دوسرا ہے
واجب اعتکاف
اس میں کسی نے نذرمانا ہوکہ میں رمضان میں اتنے دن اعتکاف کروں گا۔
نفلی اعتکاف
یہ ہےکہ تھوڑے ہی لمحے کےلیے مسجد میں سے ہوکر گزرنانفلی اعتکاف کی نیت کے ساتھ یا ایک دودن
اعتکاف کرنانفل کی نیت کے ساتھ نفلی اعتکاف کہلاتاہے
واجب اعتکاف اور سنت اعتکاف میں روزہ رکھنا ضروری ہے وگرنہ اعتکاف نہیں ہوگا
سنت اعتکاف رمضان کے آخری عشرے میں
رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کیا جاتا ہے اسی اعتکاف کو سنت اعتکاف بھی
کہا جاتا ہے یہ اعتکاف نبی علیہ الصلوۃ والسلام نے خود بھی کیا ہے اور حضور
علیہ الصلوۃ والسلام کے ظاہری وصال کے بعد آپ کےازواج مطہرات بھی کرتے رہے ہیں۔
اس بارے میں یہ پہلی حدیث دلیل ہے۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سےمروی ہے کہ حضور علیہ السلام رمضان کے
آخری عشرہ کا اعتکاف فرمایا کرتے تھے، یہاں تک کہ اللہ
تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو وفات دی اور آپ کے بعد آپ کی ازواج مطہرات اعتکاف کیا کرتیں۔1
لیلۃ القدر کی تلاش میں اعتکاف
آقا علیہ السلام نے پہلے عشرے کا اعتکاف کیا پھردوسرے عشرے کا اعتکاف کیا پھر تیسرے عشرے میں بھی
اعتکاف کیا۔اور یہ تمام اعتکاف حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے اس لیے کیے تھے کہ آپ لیلۃ القدر کی تلاش میں تھے چنانچہ
حدیث شریف میں ہے۔حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضورا قدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
نے رمضان المبارک کے پہلے عشرے میں اعتکاف کیا،پھر ایک ترکی
خیمہ میں رمضان کے درمیانی عشرے میں اعتکاف کیاجس کے دروازے پر چٹائی لگی ہوئی تھی۔
آپ نے اپنےہاتھ سے وہ چٹائی ہٹائی اور خیمہ کے ایک کونے میں کر
دی،پھر خیمہ سے سر باہر نکالا اور لوگوں سےفرمایامیں اس رات (یعنی لیلۃ القدر)کی تلاش میں پہلےعشرے کا
اعتکاف کرتا تھا،پھر میں درمیانی عشرہ میں اعتکاف بیٹھا،پھر میرے پاس کوئی(فرشتہ ) آیا تو میری
طرف وحی کی گئی کہ یہ آخری عشرے میں ہے، تم میں سے جس شخص کو پسند ہو وہ اعتکاف کرے،چنانچہ
لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھاعتکاف کیا۔2
مسجدوں میں خیمہ لگاکراعتکاف کرنا
عام طور پر لوگ جب اعتکاف میں بیٹھتے ہیں تو انتظامیہ انہیں خیمہ لگاکر دیتی ہے بہتر ہے مستحب عمل
ہے کرنے میں ثواب بھی ہے اگرشرعی تقاضوں پر عمل کرتے ہوئے لگایا جائے یا اس میں بیٹھاجائے لیکن بعض
لوگ اعتکاف والوں کے بارے میں یہ بھی کہتے ہیں کہ وہ مسجد کےاندر بھی کسی سے بات نہیں کرسکتے صرف
ایک رومال ڈالے رہیں اور ان کے تصورمیں ایسا کرنا ثواب بھی سمجھا جاتاہے یہ غلط تصور ہے ایسا نہیں کرناچاہیے
پچھلے سال کے اعتکاف کی قضاء
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رمضان کے آخری عشرہ میں
اعتکاف کرتے تھے، ایک سال اعتکاف نہ کرسکے ، جب اگلاسال آیا تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیس 20 دن اعتکاف کیا۔3
اعتکاف کی قضا نبی علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ خاص ہے۔کیوں کہ بقیہ مسلمانوں پر رمضان کے آخری
عشرے کا اعتکاف کرنا سنت موکدہ ہے اگر اسی اعتکاف کوتوڑا توایک رات اور دن کی قضاکرنا لازم ہوگا
اور اگر کسی نے سرے سے اعتکاف ہی چھوڑدیاتو اس پر قضاء لازم ہی نہیں اس وجہ سے یہ عمل حضور علیہ السلام کے ساتھ خاص ہے
اعتکاف والا گناہوں سے باز رہتاہے
حضرت عبداللہ بن عبا س رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اعتکاف کرنے
والےکے بارے میں ارشاد فرمایا کہ وہ گناہوں سے باز رہتا ہےاور نیکیوں سے اُسے اس قدر ثواب ملتا ہے جیسے اُس نے تمام نیکیاں کیں۔4
ایک دن کا اعتکاف
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہےآقاعلیہ السلام نے ارشاد فرمایا:جس نے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے
ایک دن کا اعتکاف کیا تو اللہ تعالیٰ اس کے اور جہنم کے درمیان تین خندقیں
حائل کردے گا اور ہر خندق مشرق و مغرب کے مابین فاصلےسے بھی زیادہ دور ہو گی۔5
یہ حدیث نفلی اعتکاف پر دلیل ہے اس کے علاوہ احادیث میں یہاں تک بھی ذکر ہےکہ جو اعتکاف
کرےگا تو عمرے کا ثواب پائےگا کسی میں دوحج دو عمرے کاثواب تو کسی میں روزانہ حج کاثواب جیسا کہ آگے تفصیل آرہی یے
دوحج اور دوعمرے کا ثواب
آقا علیہ السلام نے ارشاد فرمایا جس نے رمضان میں دس دن کا اعتکاف کرلیا تو ایسا ہے جیسے دو حج اور دوعمرے کئے۔6
روزانہ ایک حج کا ثواب
حضرت حسن بصری رضی اللہ عنہ سے مروی
ہے کہ اعتکاف کرنے والے کو روزانہ ایک حج کا ثواب ملتا ہے۔7
حوالہ جات
- بخاری، کتاب الاعتکاف، باب الاعتکاف فی العشر الاواخر۔ الخ،1/664، الحدیث:2026 ↩︎
- مسلم، کتاب الصیام، باب فضل لیلۃ القدر، الحدیث،215 ↩︎
- ترمذی، کتاب الصوم، باب ما جاء فی الاعتکاف اذا خرج منہ2/212، الحدیث: 803 ↩︎
- ابن ماجہ، کتاب الصیام، باب فی ثواب الاعتکاف،جلد2،365، الحدیث: 1781 ↩︎
- معجم الاوسط، باب المیم، من اسمہ محمد،الحدیث،7326 ↩︎
- شعب الایمان، الرابع والعشرین من شعب الایمان،جلد3،ص 425، الحدیث:3966 ↩︎
- شعب الایمان، الرابع والعشرین من شعب الایمان،جلد3،صفحہ 425، الحدیث:3968 ↩︎
