شب براءت شعبان کی پندرھویں رات
شب براءت شعبان کی پندرھویں رات

فضیلت والی راتیں تو بہت سی ہیں لیکن ان میں سےایک رات شب براءت کی بخشش والی رات ہے
شب براءت کا معنی
یہ لفظ دو الفاظ سے مرکب ہے ایک ہے "شب” دوسری ہے "براءت”
شب کا معنی ہے رات اور براءت کا معنی ہے
بری ہونا چونکہ اس رات اللہ عزوجل بہت زیادہ
لوگوں کی بخشش فرماکر جہنم سے بری فرماتا ہے
اس لئے اسے شب براءت یعنی وہ رات جس میں
مسلمان جہنم سے بری
ہوتے ہیں،کہاجاتاہے
(خطبات نظامیہ1444، ص نمبر 304)
کسی نے کیا خوب کہا
عطار ہو رومی ہو رازی ہو غزالی ہو
کچھ ہاتھ نہیں آتا بے آہ سحر گاہی
برادران اسلام اللہ سبحانہ و تعالی نے اپنی عبادت اور
بندگی کو اپنے بندوں کی تخلیق کا مقصد قرار دیا رحمۃ
اللعالمین صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اپنی امت کو اسی
مقصد کی تکمیل کا پیغام دیا حضرات صحابہ کرام اور اہل
بیت عظام رضوان اللہ عنہم نے اسی مشن کو آگے بڑھایا
بزرگان دین کا شعبان میں عمل
اور امت کے صالحین انہی جلیل القدر ہستیوں کی پیروی
کرتے رہے نہ صرف انہوں نے بندگان خدا کو توحید و
رسالت کی عظیم دولت سے ہمکنار کیا دین اسلام کے
مقاصد سے روشناس کروایا بلکہ خود بھی اس اہم مقصد
کے مطابق زندگی گزارنے میں مصروف اور منہمک ہو
گئے رب العالمین کی بندگی کا ثبوت دیتے ہوئے اس کی
بارگاہ میں سر بہ سجود ہوتے ہوئے شب و روز کو ایک
کر دیا اپنی عبادتوں کے ذریعہ راتوں کی تاریکیوں کو دن
کے اجالوں سے جوڑ دیا محض اپنے مولیٰ کو راضی
کرنے کے لیے اور اس کی خوشنودی حاصل کرنے کے
لیے شب بیداری اور تاریکیوں میں عبادت گزاری کو اپنا
وطیرہ بنا لیا انہی مردان حق اور خاصان خدا کی شان میں
قرآن مجید گویا ہے۔
وہ راتوں میں تھوڑی دیر سوتے ہیں اور رات کے اخیر
حصہ میں مغفرت طلب کرتے ہیں۔
(سورۃ الذاریات آیت نمبر 17 اور 18)
پندرھویں شعبان شب براءت والی رات
شب براءت والی رات کے بے شمار فضائل ہیں یہ رات برکتوں والی
رات ہے رحمتوں والی رات ہے اور نعمتوں والی رات ہے
سورۃ الدخان کی ابتدائی آیات میں اس کی فضیلت بیان کی
گئی ہے چنانچہ اس کا ترجمہ ہے
"حٰم قسم ہے واضح کتاب کی بے شک ہم نے اس (قرآن)کو
ایک برکت والی رات میں نازل کیا ہم ہی ڈرانے والے ہیں
اس (رات)میں ہر حکمت والے کام کا فیصلہ کیا جاتا ہے”۔
مفسرین کرام اور پندرھویں شعبان
علامہ شیخ احمد بن محمد صاوی رحمۃ اللہ علیہ نے
"مبارک رات” سے شعبان کی پندرہویں رات مراد ہونے
سے متعلق لکھا ہے کہ
حضرت عکرمہ اور مفسرین کی ایک جماعت کا بیان ہے
کہ برکت والی رات سے مراد شعبان کی پندرھویں شب
ہے اور یہ توجیہ چند امور کی وجہ سے قابل قبول ہے
ان میں سے ایک یہ ہے کہ شعبان کی چار نام ہیں
مبارک رات ،براءت والی رات، رحمت والی رات، انعام والی رات۔
(حاشیۃ الصاوی علی الجلالین،ج4 ص57
ہرحکمت کا فیصلہ شعبان کی مبارک رات میں
رب تعالی نے ارشاد فرمایا
اس میں ہر حکمت والے کام کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔
(ایضا آیت نمبر 4)
قرآن مجید فرقان حمید کے مطابق اس رات ہر کام کے
متعلق فیصلہ کیا جاتا ہے اور حدیث شریف
میں بھی اسی طرح ثابت ہے
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں نبی کریم
صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے مجھ سے ارشاد فرمایا کیا تم
جانتی ہو اس رات یعنی 15ویں شعبان میں کیا ہے میں
نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم اس
میں کیا ہے ؟ ارشاد فرمایا اس رات میں اس سال پیدا ہونے
والے تمام بچے لکھ دیئے جاتے ہیں اور اس سال مرنے
والے سارے انسان لکھ دیئے جاتے ہیں اور اس رات میں
ان کے اعمال اٹھائے جاتے ہیں اور ان کے رزق اتارے
جاتے ہیں۔
(مشکوۃ المصابیح حدیث نمبر 1305)
15 شعبان کی رات لوگوں کے امور کا فیصلہ کیا جاتا ہے
اور شب قدر کی رات یہ فیصلہ ان فرشتوں کے سپرد کر
دیا جاتا ہے جو ان امور کو سرانجام دیں گے۔
(تفسیر بغوی تحت آیت 4)
بخشش کی رات
ایک اور حدیث شریف ہے جس کے راوی ہیں حضرت
عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
والہ وسلم نے ارشاد فرمایا "شعبان کی پندرہویں رات” کو
اللہ تعالی آسمان دنیا کی طرف نزول فرماتا ہے چنانچہ
قبیلہ بنو کلب کی بکریوں کے بالوں سے زیادہ (گناہوں) کی بخشش فرماتا ہے۔
(ترمذی،حدیث نمبر 739)
روزہ اور قیام
شعبان کی پندرہویں رات شب براءت ، اس کے دن کو
روزہ رکھا جاتا ہے اور رات کو قیام یعنی عبادت کی جاتی ہے
حدیث شریف میں ہے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے
روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے
فرمایا شعبان کی پندرہویں رات آئے تو اس میں قیام کرو
اور دن کو روزہ رکھو بے شک اللہ تعالی سورج غروب
ہونے سے طلوع فجر تک اپنے خاص رحمت کے ساتھ
آسمان دنیا پر تجلی کرتا ہے
(جیسا کہ اس کی شان کے لائق ہے)
اور فرماتا ہے سنو کوئی بخشش کا طلبگار ہے کہ میں
اسے بخش دوں سنو کوئی رزق کا طلبگار ہے کہ میں
اسے رزق عطا کروں سنو کوئی مصیبت میں مبتلا ہے
کہ میں اسے عافیت دوں یوں ہی دیگر حاجتوں کا ذکر
فرماتا ہے یہ سلسلہ طلوع فجر تک جاری رہتا ہے
(سنن ابن ماجہ حدیث نمبر 1388)
(خطبات نظامیہ 144 صفحہ نمبر 304/305)
اس حدیث کے مطابق پتہ چلتا ہے کہ یہ رات ہر چیز
مانگنے کی رات ہے ہر جائز حاجت مانگنے کی رات ہے
اپنے گناہوں کو بخشوانے کی رات ہے اپنے رزق کے
اضافے کے لیے دعا کی رات ہے
اپنے مصیبتوں کے دفع کرنے کے لیے دعا کی رات ہے
گناہ کبیرہ کے مرتکب نہیں بخشے جائیں گے
احادیث طیبہ کا خلاصہ ہے کہ درج
ذیل کبیرہ گناہوں کا
ارتکاب کرنے والے سچی توبہ کے بغیر شب براءت میں
بھی مغفرت کے حقدار نہیں بن سکتے۔
گمراہ، ماں باپ کا نافرمان، شراب کا عادی
بدکاری پر اصرار کرنے والا، قطع رحمی کرنے
(رشتہ داری توڑنے)
والا ،چغلخور ،جو شخص کسی مسلمان سے ذاتی
وجوہات کی بنا پر دشمنی اور کینہ رکھے۔
جو تکبر کی وجہ سے اپنا ازار(شلوارپینٹ) ٹخنوں سے نیچے رکھے
ظالمانہ طور پر ٹیکس وصول کرنے والا
کاہن، یعنی ہاتھ کی لکیریں دیکھ کر یا ستاروں کی چال
سے یا فال نکال کر یا جنات کے ذریعے
مستقبل کی باتیں بتانے والا۔
یہ خلاصہ درج ذیل کتابوں سے لیاگیاہے
(بیہقی،رقم الحدیث 27،شعب الایمان رقم 3556،تفسیرثعلبی
ج4،ص 270،تاریخ دمشق،ج51،ص 72)
(خطبات نظامیہ، ص 306)
ہمارے ہاں ان راتوں میں ایک عام رواج یہ ہے لوگ
بخشش والی رات صرف بخشش کے لیے ایس ایم ایس
وغیرہ کر دیتے ہیں اور اسی طرح بخشش کی امید لگائے
بیٹھے ہوتے ہیں حالانکہ انہی لوگو نے لوگوں کے حقوق
بھی غصب کیے ہوئے ہوتے ہیں کسی نے زمین پر کسی
کے قبضہ کیا ہوا ہوتا ہے تو کسی نے کسی کی وراثت پر
قبضہ کیا ہوا ہوتا ہے تو ایسی چیزوں کا تعلق حقوق العباد
سے ہے اور کچھ چیزیں حقوق اللہ ہیں حقوق اللہ میں کچھ
چیزوں کو قضا کر کے توبہ کے ساتھ بخشش کی امید ہے
لیکن کچھ چیزیں جن میں صرف توبہ کی جائے تو بخشش
کی امید ہے اور حقوق اللہ وہ ہیں جب تک جس بندے کا
حق غصب کیا ہو ڈاکہ ڈالا ہو اس کے پاس جا کر معافی
نہ مانگ لیں اور وہ معاف نہ کر دے تب تک معافی نہیں
اس بارے میں کچھ تفصیل اس طرح ہے
حقوق اللہ اور شب براءت
جن لوگوں نے نماز،روزہ
حج، زکوۃ اور قربانی وغیرہ کی ادائیگی میں سستی
کرنا بدنگاہی کرنا قرآن پاک کو بے وضوہاتھ لگانا
شراب نوشی کرنا فحش گانے سننا وغیرہ ان سے توبہ
کی تفصیل یوں ہے
اگر عبادات میں کوتاہی ہوئی تو توبہ کرنے کے ساتھ
ساتھ انہیں عبادات کی قضا بھی واجب ہے مثلا اگر
نمازیں چھوٹ گئیں یا رمضان کے روزے نہ رکھے تو ان
کا حساب لگا کر قضا کرے اگر زکوۃ کی ادائیگی میں
کوتاہی ہوئی تو حساب لگا کر اسے ادا کرے اور حج
فرض ہو جانے کے باوجود نہیں کیا تھا تو اب ادا کرے۔
اگر گناہوں کا تعلق عبادات میں کوتاہی سے نہ ہو مثلا
بدنگاہی شراب نوشی وغیرہ تو ان پر ندامت و
شرمندگی کا اظہار کرتے ہوئے بارگاہ الہی میں توبہ
کرے اور نیکیاں کرنے میں مشغول ہو جائے۔
ارشاد باری تعالی ہے
اے ایمان والو اللہ کی طرف ایسی توبہ کرو جس کے بعد
گناہ کی طرف لوٹنا نہ ہو۔(سورۃ التحریم)
یعنی ایسی توبہ کرو کہ اعمال میں اس کا اثر معلوم ہو اور
آئندہ گناہوں سے بچتے ہوئے نیکیوں میں زندگی گزارے۔
حقوق العباد اور شب براءت
بندوں کی حق تلفی جیسے چوری غیبت چغلی کسی کو
اذیت دینا ماں باپ کو ستانا امانت میں خیانت کرنا قرض
لے کر واپس نہ کرنا وغیرہ ان کی معافی
اس طریقے سے ہوگی کہ
اگر کسی کی عزت و آبرو میں دست اندازی کی مثلا کسی
کو گالی دی یا تہمت لگائی یا ڈرایا دھمکایا تو توبہ تب
مکمل ہوگی جب اللہ تعالی سے معافی طلب کرنے کے
ساتھ ساتھ اس مظلوم سے بھی معافی مانگے
اور اگر مالی معاملے میں شریعت کی خلاف ورزی کی
مثلا امانت میں خیانت کی یا قرض لے کر دبا لیا یا کوئی
چیز خریدی اور رقم ادا نہیں کی تو اللہ تعالی اور اس
مظلوم سے معافی مانگنے کے ساتھ ساتھ اسے اس کا مال
بھی واپس کرے یا معاف کروا لے۔
(ایضا صفحہ نمبر 307/308)
صلوٰۃ التسبیح کی فضیلت
آقا علیہ السلام نے صلوٰۃ التسبیح کی فضیلت بتائی ہے
فرمایا ہردن میں ایک بار پڑھو اگر ہردن نہیں پڑھ سکتے
تو ہفتہ میں ایک بار پڑھو اگر ہفتہ میں ایک بار نہیں پڑھ
سکتے تو مہینے میں ایک بار پڑھو مہینے میں ایک بار
نہیں پڑھ سکتے تو سال میں ایک بار پڑھو
سال میں ایک بار نہیں پڑھ سکتے تو زندگی میں ایک
بار ضرور پڑھو۔(مفہوما)
( غنیۃ المتملي ‘‘ ، صلاۃ التسبیح، ص ۴۳۱)
یہ طریقہ آقا علیہ السلام نے اپنے چچا حضرت عباس رضی اللہ عنہ کو بتایا۔
تسبیح نماز پڑھنے کا طریقہ
یہ ہے کہ چار رکعت تسبیح نماز نفل کی نیت کرے
ثناء کے بعد تیسرا کلمہ
سُبْحَانَ اللّٰہِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ وَلَآ اِلٰـہَ اِلَّا اللہُ وَاللہُ اَک٘بَر
15 بار پھر تعوذ و تسمیہ (اعوذباللہ و بسم اللہ)
پڑھنے کے بعد سورہ فاتحہ پھرکوئی سورت یا سورہ کافرون
پڑھے پھر رکوع جانے سے پہلے دس بار یہی تیسرا کلمہ پڑھے
پھر رکوع کی تسبیح پڑھنے کے بعد دس بار
رکوع سے اٹھ جانے کے بعد دس بار
سجدہ میں تسبیح پڑھنے کے بعد
دس بار سجدہ سے اٹھتے ہوئے دس بار دوسرے سجدے میں بھی دس بار۔
دوسری رکعت میں ثناء تو نہیں ہے سورہ فاتحہ سے پہلے پندرہ بار
تیسرے کلمے سے شروع کرنا ہے باقی سارا طریقہ یہی ہے۔
کوئی تسبیح پڑھنا بھول جائے تو اسے اگلے جگہ پوری کریں
جیسے سورہ فاتحہ سے پہلے 15 بار پڑھنا ہے
کوئی بھول جائے پڑھنا رکوع سے پہلے جو دس بار
پڑھا جاتاہے وہیں پیچھے والے بھی پڑھ لے ایسے ہی آگے بھی۔
