شوال کے چھ روزے
احادیث میں شوال کے چھ روزے رکھنےکے بارے میں حکم وارد ہے اوریہ روزےسنت
بھی ہیں جوکہ ذیل کی احادیث سےاس کا پتہ چلتاہے اور شوال کے چھ روزے
لگاتار بھی رکھے جاسکتے ہیں اور پورے مہینے میں الگ الگ بھی رکھے جاسکتے ہیں

مستحب روزے
صاحب نورالایضاح نے فصل صفۃ الصوم میں شوال کےروزوں کےبارےمیں
مستحب لکھا ہے اس کے علاوہ ایام بیض کےروزوں کو بھی مستحب لکھا ہے۔
ایام بیض ان روزں کو کہا جاتاہے جس میں چاند بالکل روشن ہوتاہے اور یہ 13/14/15
کی راتوں کو ہوتاہے اسی وجہ سے راتوں کی طرف نسبت کرتے ہوئے "ایام بیض”
کہا جاتاہے یعنی روشن راتیں ہوتی ہیں اور روزہ دن کو ہوتاہے
اور ابوداود سے حدیث شریف ذکرکیاہےکہ ہمیں آقاعلیہ السلام نے 13/14/15 کو
روزہ رکھنے حکم فرمایا اورفرمایا یہ زمانے بھر روزے رکھنے جیساہے
یعنی یہ فضیلت صرف شوال کے روزوں کے ساتھ خاص نہیں "ایام بیض” کےروزے رکھنے سے بھی حاصل ہوجائےگا۔
اس کے علاوہ سوموار اور جمعرات کے روزوں کو بھی
مستحب لکھا ہے اور حدیث بیان کیاہے کہ جس میں آقا
علیہ السلام نے فرمایا اعمال کو پیش کیاجاتاہے رب تعالی کےحضور تو میں پسند
کرتاہوں کہ میرے اعمال روزے کی حالت میں پیش ہوں۔
مکروہ روزے کی کتنی قسمیں ہیں ؟
مکروہ کی دوقسمیں ہیں ۔مکروہ تنزیہی، اس میں یوم عاشوراء کا روزہ آتاہے کہ
دسویں محرم کوہی روزہ رکھناآگے پیچھے ایک روزہ شامل نہ کرنا۔
مکروہ کی دوسری قسم مکروہ تحریمی ہے یہ عیدالفطرکے دن کا روزہ ہے
اور ایام تشریق کاروزہ یعنی قربانی کے تینوں دنوں کا روزہ۔
زمانے بھر کےلئے روزہ رکھنے کا ثواب
مسلم شریف میں حدیث ہے نبی علیہ السلام نے ارشاد فرمایا جس نے شوال کے
چھ روزے رکھے رمضان کے بعد
تو یہ اس کے لیے (روزہ رکھنے والے کےلیے) ایسا ہے جیسے زمانے بھر کے روزے رکھے.(رقم الحدیث، 1164)
پورےسال کےروزوں کا ثواب
طبرانی میں حدیث ہے نبی علیہ السلام نے ارشاد فرمایا جو چھوٹی عید کے
بعد شوال کے روزے رکھے گویا اس نے
سال بھر کے روزے رکھے اور جو ایک نیکی کرے گا اس کے بدلے اسے دس نیکیاں ملیں گے۔
السنن الکبری،رقم الحدیث : 2860/2861
قرآن مجید فرقان حمید میں بھی ایک آیت ہے جس میں یہ ذکر ہے کہ جو ایک
نیکی کرے اسے ایک نیکی کرنے کے بدلے دس نیکیاں ملیں گے۔
«ﺻِﻴَﺎﻡُ ﺷَﻬْﺮِ ﺭَﻣَﻀَﺎﻥَ ﺑِﻌَﺸَﺮَﺓِ ﺃَﺷْﻬُﺮٍ، ﻭَﺻِﻴَﺎﻡُ ﺳِﺘَّﺔِ ﺃَﻳَّﺎﻡٍ ﺑِﺸَﻬْﺮَﻳْﻦِ ﻓَﺬَﻟِﻚَ ﺻِﻴَﺎﻡُ اﻟﺴَّﻨَﺔِ»
یہ الفاظ نسائی شریف کے ایک حدیث کے ہیں ٫رمضان
کےروزے دس مہینوں کے روزے کے برابر ہیں اور یہ شوال کے 6 روزے دومہینے
کے برابر تو یہ ایسا ہوگیا گویا سال بھرکے روزے(مرقاۃ)
یعنی جس نے رمضان کے سارے روزے رکھے تو وہ روزے دس مہینے
کے روزے رکھنے کے برابر ہیں اور شوال کے
روزے بھی رکھے گا تو یہ دومہینوں کے روزوں کے برابر ہوکر سال مکمل روزے رکھنے کے جتنا ہوجائےگا
شوال کے روزے گناہوں سے پاک کردیتے ہیں
آقا علیہ السلام نے ارشاد فرمایا جو رمضان کے روزے رکھنے کے بعد شوال کے روزے
رکھتا ہے وہ گناہوں سے ایسے پاک ہو جاتا ہے جیسے آج ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا ہو۔
طبرانی،’المعجم الأوسط”، باب المیم، الحدیث: (8622 )
