عورتوں کاجماعت نماز،عورت کامردوں کی جماعت میں شرکت
یہ تحریر جس کا عنوان ہے عورتوں کاجماعت نماز،عورت کامردوں کی جماعت میں شرکت
فقہاء احناف
فقہ حنفی میں عورتوں کی جماعت جائزنہیں چاہےخودامام عورت ہی کیوں نہ ہوچ
آگےمصلےپرکھڑی ہویابیچ عورتوں کےکسی بھی طرح جائزنہیں مردوں کےساتھ جماعت میں شامل ہوں تو ہوسکتی
ہیں شامل لیکن ایسااس وقت ہوکہ مسجدجاتےہوئےفتنےکےاندیشےکےخطرےسےمحفوظ ہو،یااپنےگھرمحارم
مردکےساتھ کوئی دوسرامردمقتدی بھی ہوتواس وقت جماعت کےساتھ پڑھ سکتی ہیں
نسبی محارم
عورتوں کو کسی نماز میں جماعت کی حاضری جائز نہیں، دن کی نماز ہو یا رات کی، جمعہ ہو یا عیدین
(دونوں عیدیں)، خواہ وہ جوان ہوں یا بڑھیاں، یوہیں وعظ کی مجالس میں بھی جانا ناجائز ہے۔
(‘الدرالمختار”، کتاب الصلاۃ، باب الإمامۃ، ج۲، ص۳۴۷)
جس گھر میں عورتیں ہی عورتیں ہوں، اس میں مرد کو ان کی اِمامت ناجائز ہے، ہاں اگر ان عورتوں میں اس کی
نسبی محارم ہوں یا بی بی یا وہاں کوئی مرد بھی ہو، تو ناجائز نہیں۔ (‘الدرالمختار”، کتاب الصلاۃ، باب الإمامۃ، ج۲، ص۳۴۷)
امام کےساتھ عورتیں اورمردجماعت میں شامل ہوں توترتیب کیسےہوگا
دو مقتدی ہیں ایک مرد اور ایک لڑکا تو دونوں پیچھے کھڑے ہوں، اگر اکيلی عورت مقتدی ہے تو پیچھے کھڑی
ہو، زیادہ عورتیں ہوں جب بھی یہی حکم ہے، دو مقتدی ہوں ایک مرد ایک عورت تو مرد برابر کھڑا ہو اور عورت
پیچھے، دو مرد ہوں ایک عورت تو مرد امام کے پیچھے کھڑے ہوں اور عورت ان کے پیچھے۔
(‘الفتاوی الھندیۃ”، کتاب الصلاۃ، الباب الخامس في الإمامۃ، الفصل الخامس، ج۱، ص۸۸.
و ”البحرالرائق”، کتاب الصلوۃ،باب الإمامۃ، ج۱، ص۶۱۸)
بچے مرد اور خنثی
مرد اور بچے اور خنثیٰ (ہيجڑا) اور عورتیں جمع ہوں تو صفوں کی ترتیب یہ ہے کہ پہلے مردوں کی صف ہو پھر
بچوں کی پھر خنثیٰ کی پھر عورتوں کی اور بچہ تنہا ہو تو مردوں کی صف میں داخل ہو جائے۔(‘الدرالمختار”، کتاب الصلاۃ، باب الإمامۃ، ج۲، ص۳۷۷)
