پیر کا سید ہونا ضروری ہے
پیر کا سید ہونا ضروری ہے
کسی پیر کا سید ہونا ضروری ہے یانہیں اس کا جواب امام اہلسنت امام احمد رضا علیہ الرحمہ نے دیا ہے
ایک سوال کے جواب میں فرمایا
یہ محض باطل ہے،پیرہونے کے لئے وہی چارشرطیں
درکارہیں (جونیچے تفصیل آرہی ہے)سادات کرام سے ہونا
کچھ ضرورنہیں،ہاں ان شرطوں کے ساتھ سیدبھی ہوتو
نور علٰی نور۔باقی اسے شرط ضروری ٹھہرانا تمام سلاسل
طریقت کاباطل کرناہے۔سلسلہ عالیہ قادریہ سلسلۃ الذہب
میں سیدنا امام علی رضا اورحضورسیدناغوث اعظم رضی
اﷲ تعالٰی عنہما کے درمیان جتنے حضرات ہیں کوئی
سادات کرام سے نہیں اورسلسلہ عالیہ چشتیہ میں تو
امیرالمومنین مولٰی علی کرم اﷲ تعالٰی وجہہ الکریم کے
بعد ہی سے امام حسن بصری ہیں کہ نہ سیدنہ قریشی نہ
عربی،اورسلسلہ عالیہ نقشبندیہ کاخاص آغاز ہی
حضورسیدناصدیق اکبررضی اﷲ تعالٰی عنہ سے ہے،اسی
طرح دیگرسلاسل رضوان اللہ علی مشائخہا
اجمعین۔واللہ تعالی اعلم
اس بیان سے ثابت ہوگیا کہ پیر کا سید ہونا ضروری نہیں ہے
جو لوگ ایسا نعرہ لگاتے ہیں تو وہ اس بات کا جواب دیں گے کہ
سلسلہ نقشبندیہ کے سالار ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سید تو نہیں ہیں
اور سلسلہ عالیہ قادریہ میں امام علی رضا سے حضور غوث پاک
رضی اللہ عنہ تک کوئی سید نہیں یعنی حضور غوث پاک
خود بھی سید سے بیعت نہیں۔
پیر کے لیے ضروری شرائط
باطنی فیض سے مستفید ہونے کے لیے پیر کے لیے کچھ ضروری شرائط ہیں
اہم و اعظم شرط
سب سے اہم واعظم شرط مذہب کاسنی صحیح العقیدہ ہونا۔
اپنی حاجت کے سب مسائل جانتا ہو
دوسری شرط فقہ کااتنا علم کہ اپنی حاجت کے سب مسائل
جانتاہو اورحاجت جدید
پیش آئے تواس کاحکم کتاب سے نکال سکے۔
بغیر اس کے اورفنون کاکتناہی بڑا عالم ہو عالم نہیں۔
سلسلہ شجرہ متصل ہو
تیسری شرط اس کاسلسلہ (شجرہ) حضوراقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم تك صحیح ومتصل ہو۔
اعلانیہ کبیرہ کامرتکب نہ ہو
چوتھی شرط اعلانیہ کسی کبیرہ کامرتکب یاکسی صغیرہ پرمصرنہ ہو۔
ان شرائط کے ساتھ اس سے ارادت کرسکتاہے،مگریہ
ارادت ارادت استفاضہ (فیض لینا) ہوگی نہ کہ ارادت
استعاضہ (بدل)یعنی پیرکوچھوڑکر اس کے عوض پیربنانا
کہ جوایساکرے گا دونوں طرف سے محروم رہے گا
بشرطیکہ اس کاپہلاپیران چاروں شرائط کاجامع
تھا،اوراگراس میں وہ شرطیں نہ تھیں تووہ پیربنانے کے
قابل ہی نہ تھا آپ ہی کسی دوسرے جامع شرائط کے ہاتھ
پربیعت چاہئے۔
(فتاوی رضویہ ج 26 ص 574/73)
پیر بدلنا کب ضروری ہے
اب یہ سوال کسی کے ذہن میں پیدا ہو کہ ایک پیر چھوڑ کر
کسی دوسرے سے بیعت کرلیا جائے
تو ایسے لوگوں کے لیے ضروری بات یہ ہے کہ اگر آپ
کا یہ ذہن ہو کہ پیر بدلیں اور فیضیاب ہوں دوسرے بزرگ سے
تو پہلے دیکھیں کہ پہلا پیر شریعت کا مکمل پابند ہے
تو اس کی طریقے پر مکمل چلنے کی کوشش کرتارہے
اگر پھر بھی تبدیلی محسوس نا ہو
تو پھر جاکر کسی پابند شریعت والے سے بیعت ہوجائے
جو پہلے والے سے شریعت پر زیادہ عمل پیرا ہو۔
