گستاخ رسول کعب بن اشرف ملعون کے قتل کا واقعہ
گستاخ رسول کعب بن اشرف ملعون کے قتل کا واقعہ

یہ بھی پڑھیں زیدبن حارثہ رضی اللہ عنہ کا فدیہ
کعب بن اشرف ملعون یھودیوں میں وہ شخص گزرا جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے لائے
ہوئے دین، صحابہ کرام کے مقابلے میں کفارکو افضل اور کفار کو ھدایت یافتہ قرار دیاتھا محض دشمنی کی وجہ سے
حالاں کہ یہ خود اہل کتاب میں سے تھا
جسے اللہ رب العزت نے سورہ نساء آیت نمبر 51 میں ذکر کیاہے
یعنی ادھر وہ کفار سے ساز باز ان کی تعریفات
میں لگا ہواتھا ادھر رب تعالی نے جبریل کو وحی دے کر
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بھیج دیا
اور جو وہ کررہاتھا وہ سب اطلاع اللہ عزوجل نے اپنے حبیب کو دے دی۔
اس کی ماں قبیلہ نضیر سے تھی اور یہ خود بنو نبھان سے
تھا جوکہ قبیلہ طَیْ کی شاخ ہے
بہت بڑا مالدار وسرمایہ دار تھا۔ مدینہ کے جنوب میں بنو نضیر کی آبادی کے پیچھے اس کا ایک قلعہ بھی تھا۔
علمی لحاظ سے یہ کعب بن اشرف ملعون خود بہت بڑا شاعر تھا انہی شاعری کے ذریعے اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
کی ہجو شروع کردی۔اور دشمنان اسلام کی تعریف شروع کی۔
کعب بن اشرف ملعون کے غصے اور دشمنی میں اس وقت اضافہ ہو جب اسے جنگ بدر میں مسلمانوں کی کامیابی کی خبرملی اور
یہ خبر بھی ملی کہ سرداران قریش قتل ہوگئے انہیں ایک کنویں میں پھینک دیاگیا جاچکاہے۔
مذکورہ بالا آیت اس وقت نازل ہوئی جب یہ کفار کے
پاس ان کی تعریفیں کررہاتھا اور اشعار کے ذریعے اللہ
عزوجل کے حبیب کے ہجو میں مصروف عمل رہا اور جب واپس مدینہ آیا تو اپنے اشعار کے ذریعے مسلمانوں
کی عورتوں کے متعلق ہجو شروع کردی اور زبان درازی کی انتہا کرتے ہوئے
مسلمانوں کی دل آزاری کرتے رہے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا “گستاخ کعب بن اشرف ملعون کی حرکتوں اور اذیت رسانی” پر فیصلہ
ان تمام کاروائیوں کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
نے فرمایا صحابہ کے سامنے کہ کعب بن اشرف
سے کون نمٹے گا ؟ جس نے اللہ اور اس کے رسول کوتکلیف دی ہے۔
پانچ صحابہ نے کعب بن اشرف کو ٹھکانے لگانے کی حامی بھری
گستاخ رسول کعب بن اشرف ملعون کو ٹھکانے لگانے والے یہ پانچ صحابہ تھے
محمد بن مسلمہ عباد بن بشر سلکان بن سلامہ
جس کو ابو نائلہ کہہ کر پکارا جاتا تھا اور جو کعب کے
رضائی بھائی تھے حارث بن اوس اور ابو عبس بن جبر
نے اپنی خدمات پیش کیں اور ان کا سربراہ محمد بن مسلمہ کو مقرر کر دیا گیا۔
محمد بن مسلمہ کا حضور علیہ الصلوۃ والسلام سے کعب بن اشرف کے سامنے کچھ بھی کہنے کی اجازت مانگنا
جب محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کو کمانڈر یعنی سربراہ بنا دیا گیا اور حضور علیہ السلام
نے فرمایا کہ اس کعب بن اشرف نے اللہ
اور اس کے رسول کو اذیت دی اس سے کون نمٹے
گا تو محمد بن مسلمہ نے اٹھ کر عرض کیا یا رسول اللہ میں
حاضر ہوں کیا آپ چاہتے ہیں کہ میں اسے قتل کر
دوں آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا انہیں قتل کر دو تو
اس وقت حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے
آپ علیہ الصلوۃ والسلام سے اجازت مانگی کہ میں اس کے
سامنے کچھ بھی کہہ سکتا ہوں تو حضور نے اس کی اجازت دے دی۔
محمد بن مسلمہ اور حضرت ابو نائلہ کا منصوبے پر کارآمد ہونا
حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ اور حضرت ابو
نائلہ رضی اللہ عنہما دونوں کعب بن اشرف ملعون کے پاس الگ
الگ طور پر حاضر ہوئے اور ان سے قرضہ طلب کیا
تو ان دونوں سے کعب بن اشرف نے کوئی چیز رہن رکھنے
کا مطالبہ کیا تو حضرت محمد بن مسلمہ نے ان سے کہا
کہ آپ کس چیز کو پسند کرتے ہیں رہن لینے میں کعب بن
اشرف نے کہا تم اپنی عورتوں کو ہمارے پاس
رہن رکھو اس پرمحمد بن مسلمہ نے کہا کہ آپ تو بہت خوبصورت
ہیں تو ہم اپنے عورتوں کو آپ کے پاس نہیں رکھ
سکتے اس نے کہا بیٹوں کو ہی رکھ دو محمد بن مسلمہ نے
جواب دیا کہ ہم اپنے بیٹوں کو کیسے رہن رکھیں گے
ایسا ہو گیا تو لوگ انہیں گالیاں دیں گے کہ ان کے والد نے
انہیں غلے کے کچھ حصے کے لیے اپنے بیٹوں کو رہن رکھوا دیا البتہ محمد بن مسلمہ نے
کعب بن اشرف کو کہا کہ میں آپ کے پاس ہتھیار رہن رکھوں گا اور
حضرت ابو نائلہ کا قرض کے لیے حاضر ہونا
ایسے ہی جب ابو نائلہ قرضہ لینے کے لیے حاضر ہوئے
تو اس نے کہا کہ ایک تو میں ہوں قرضہ لینے والا بدلے
میں ہم ہتھیار رکھیں گے اور میرے ساتھ کچھ اور
دوست بھی ہیں جنہیں پیسوں کی ضرورت ہے میں انہیں بھی آپ
کے پاس لے آؤں گا اور وہ بھی اپنے ہتھیار آپ کے پاس رہن رکھیں گے تو اس طرح
یہ اپنے منصوبے میں کامیاب ہو گئے
حضور علیہ السلام کی بارگاہ اقدس میں حاضر ہونا
محمد بن مسلمہ اور ابو نائلہ کامیاب ہونے کے بعد حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی بارگاہ میں 14 ربیع الاول
تین ہجری کی چاندنی رات کو اپنے مختصر دستے کے
ساتھ حاضر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے انہیں رخصت کیا بقیع غرقد تک اور
پھر فرمایا اللہ کا نام لے کر جاؤ اللہ تمہاری مدد فرمائے۔
گستاخ رسول کعب بن اشرف ملعون کےقتل کرنے کا منصوبہ
محمد بن مسلمہ اور حضرت ابو نائلہ رضی اللہ عنہما نے یہ منصوبہ بنایا اپنے ساتھیوں کے ساتھ کہ ہم
اس کو بلائیں گے اور جب بلائیں گے تو ان کے بالوں کو اگر کسی طریقے سے میں
( حضرت ابونائلہ نے فرمایا) پکڑ لوں تو پھر تم لوگ اس پر حملہ کر دینا
پہلے منصوبے میں کعب بن اشرف کے پاس ہتھیار رہن رکھنے کا منصوبہ بنایا گیا تو اب باہر سے ہتھیار لانا
قلعے کے اندر کوئی مشکل نہیں تھا کیونکہ کعب بن اشرف سے ہتھیاروں کو رہن رکھنے کے متعلق بات ہو
گئی تھی اس طرح یہ صحابہ ہتھیاروں کے ساتھ اندر قلعے میں داخل ہو گئے
گستاخ کو گھر سے باہر بلانا
حضرت محمد بن مسلمہ کعب بن اشرف کے گھر کے باہر کھڑے ہو کر انہیں بلایا
اور وہ آواز پر نیچے اتر آئے حضرت ابو نائلہ نے ایک مرتبہ ان
کے بالوں کو سونگھا اور خوشبو کی تعریف کی اور انہیں کہا کہ ہم یہاں سے تھوڑا آگے چلتے ہیں اور ان کے ساتھ
وہ چل پڑے جب جب آگے گئے تو درمیان میں حضرت ابو نائلہ نے پھر اسے کہا کہ ایک بار اپنے بالوں کی
خوشبو پھر سے سنگھائیں اس نے پھر سے سنگھایا اور اس نے چھوڑ دیا اور تیسری مرتبہ پھر مطالبہ کیا تو
جیسے ہی اس نے بالوں کو اچھے طریقے سے پکڑا تو اپنے ساتھیوں کو بلایا کہ اب لے لو اللہ کے دشمن کو تو
تلواروں کی بہت ساری وار اس پر کی گئیں کامیاب نہ ہوئے آخر میں حضرت محمد بن مسلمہ نے اپنے کدال کو
اس کے اوپر رکھا اور اس پر چڑھ گئے اور وہ کدال اس کے آر پار ہو گیا اور وہ وہیں ڈھیر ہو گیا اور مرنے سے
پہلے اس نے ایسی چیخ لگائی کہ ارد گرد کے جو تمام قلعے تھے ان کے گھروں سے روشنائی جلائی گئی
شمعیں جلائی گئیں یعنی سب لوگ جاگ گئے تھے کہ ہوا کیا ہے ایسے میں بعد میں وہ صحابہ کرام نکلنے میں کامیاب ہو گئے ۔
ملعون کو قتل کرنے بعدبقیع غرقد پہنچنا
بقیع غرقد پہنچ کر نعرہ لگایا اور وہ نعرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے بھی سنا اور جب یہ
صحابہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی بارگاہ میں حاضر ہوئے تو حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا یہ چہرے
کامیاب رہیں ان لوگوں نے کہا یا رسول اللہ آپ کا چہرہ بھی۔
اس واقعے کی تفصیل سیرت ابن ہشام جلد 2 صفحہ نمبر51/57 اور بخاری شریف،سنن ابی داود سے ماخوذ ہے
