حج اور عمرہ میں فرق
حج اور عمرہ میں فرق
حکم،ادائیگی اور اعمال کے لحاظ سے دونوں میں فرق بیان کیاجائےگا
حج اور عمرہ میں حکم کے لحاظ فرق
حکم کے اعتبار سے بھی فرق ہے کیونکہ حکم کے لحاظ سے حج اور عمرہ میں فرق یہ
ہے کہ حج اسلام کے
ارکان میں سے ایک رکن ہے جس پر علماء امت کا اجماع ہے اور اس کی استطاعت رکھنے والوں پر فورا
فرض ہے یہاں تک عمرہ کا تعلق ہے تو علماء کرام کی اختلاف کے مطابق یہ واجب ہے یا سنت موکدہ۔
حج اور عمرہ میں ادائیگی کے لحاظ سے فرق
ادائیگی کے اعتبار سے بھی فرق ہے حج مخصوص لباس
مخصوص ایام مخصوص وقت اور مخصوص
مقامات پر ادا کیا جاتا ہے جبکہ عمرہ صرف حرم شریف میں ادا کیا جاتا ہے
حج اور عمرہ میں اس فرق کو بیان کرتے ہوئے علامہ ابن منظور لکھتے ہیں
یعنی دونوں کے درمیان فرق یہ ہے کہ بے شک عمرہ انسان کے لیے سال میں کسی
بھی وقت ہو سکتا ہے اور حج وہ فقط سال میں ایک بار ہو سکتا ہے.(لسان العرب،فصل الحاء،4/604)
حج اور عمرہ میں اعمال کے لحاظ سے فرق
اعمال کے اعتبار سے بھی فرق ہے کیونکہ کچھ اعمال ایسے
بھی ہیں جو دونوں کے درمیان فرق کو ظاہر کرتے ہیں۔
عمرہ کے مناسک حرم شریف خانہ کعبہ میں ادا کیے جاتے ہیں جبکہ حج
کے مناسک خانہ کعبہ کے علاوہ منی عرفات اور مزدلفہ میں بھی ادا کیے جاتے ہیں
حج کے تین فرض اور چھ واجب ہیں جبکہ عمرہ کے دو فرض اور دو واجب ہیں۔
حج میں تلبیہ یعنی لبیک پڑھنا آٹھ ذوالحج کو احرام باندھنے کے بعد سے
شروع کی جاتی ہے اور 10 ذوالحج کے جمرہ عقبہ کی رمی سے قبل بند کی جاتی ہے
جبکہ عمرہ میں تلبیہ یعنی لبیک پڑھنا احرام باندھنے کے بعد سے
شروع کی جاتی ہے اور طواف بیت اللہ شروع کرنے سے قبل بند کر دی جاتی ہے۔
حج کا احرام ، احرام باندھنے کے بعد سے شروع ہوتا ہے اورقیام منی وقوف
عرفات وقوف مزدلفہ رمی جمرہ عقبہ قربانی اور حلق
کے بعد کھولا جاتا ہے جبکہ عمرہ کا احرام، احرام باندھنے کے
بعد شروع ہو جاتا ہے اور طواف بیت اللہ ،صفا مروہ کی سعی اور حلق کرانے کے بعد کھولا جاتا ہے۔
حج میں حلق/ تقصیر منی میں کرانا مسنون ہے جبکہ عمرہ میں حلق مکہ مکرمہ میں۔
حج میں طواف قدوم، وقوف عرفات، اور وقوف مزدلفہ ہے جبکہ عمرہ میں یہ نہیں ہے۔
حج میں رمی جمرات کرنا واجب ہے جبکہ عمرہ میرمیں جمرات بالکل نہیں ہے۔
حج قران اور تمتع میں دم شکر یعنی قربانی واجب ہے جبکہ عمرہ میں قربانی نہیں ہے۔
حج میں طواف زیارت کرنا ہوتا ہے جبکہ عمرہ میں طواف زیارت نہیں ہوتا
حج میں طواف وداع کرنا واجب ہے جبکہ عمرہ میں طواف وداع نہیں ہے
حج پانچ دنوں میں مکمل ہوتا ہے یعنی عمرہ تقریبا پانچ گھنٹے میں یا اس سے قبل مکمل ہو جاتا ہے۔
حج فرض و نفل ہو سکتا ہے عمرہ فرض نہیں ہوتا
حج کی اقسام
قِران، تمتع، افراد ہیں جبکہ عمرہ کی یہ اقسام نہیں ہیں۔
حج اور عمرہ میں مماثلت
حج اور عمرہ میں بہت سی معنی کے اعتبار سے مماثلت ہے
حج اور عمرہ پر جانے والے اللہ تعالی کے مہمان ہوتے ہیں۔
حج اور عمرہ دونوں میں فرائض اور واجبات سنن اور مستحبات ہوتے ہیں
حج اور عمرہ دونوں میں احرام باندھا جاتا ہے
اور ان دونوں میں احرام اور حدود حرم کی پابندیاں لاگو ہوتی ہیں
حج اور عمرہ میں احرام کے احکام یکساں ہیں
حج اور عمرہ دونوں میں طواف بیت اللہ کیا جاتا ہے
حج اور عمرہ دونوں میں صفا مروہ کی سعی کی جاتی ہے
دونوں میں احرام سے نکلنے کے لیے حلق کرایا جاتا ہے جس کے بعد احرام کھل جاتا ہے۔
حالت احرام سے باہر آنے کے بعد احرام کی پابندیاں
ختم ہو جاتی ہیں لیکن حدود حرم کی پابندیاں برقرار رہتی ہیں۔
(العروۃ فی مناسک الحج والعمرۃ،صفحہ 41تا45،از علامہ محمدعرفان احمدسلاٹ)
