پہلی ہجری کے غزوات
اس طرح تحریر میں آپ پڑھیں گے پہلی ہجری کے غزوات کےبارے میں
رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی مکہ سے ہجرت کے
بعد یہ غزوات وقوع پذیر ہوئے آئیے سب سے پہلے یہ سمجھتے ہیں کہ غزوہ اور سریہ میں کیا فرق ہے

غزوہ اور سریہ کی تعریف
فوجی مہم کو غزوہ کہتے ہیں اور اس فوجی مہم میں
رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم بھی تشریف فرما ہوں اس مہم میں
جنگ ہوئی ہو یا نہ ہوئی ہو۔سریا وہ فوجی مہم ہے جس م
یں رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم خود شریک نہ
ہوئے ہوں صحابہ کو بھیجا ہو۔غزوات و سرا یا سے پہلے
سخت حالات اب کے بعد ان کا ذکر ہوگا
مدینے کےاطراف کے قبائل سے معاہدہ امن
رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم مکہ چھوڑ کر جب مدینہ
منورہ تشریف فرما ہوئے تو کفار رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم
اور صحابہ کے در پہ ہوئےاس لحاظ سے مشرکین مکہ نے مدینہ
منورہ کے اندر عبداللہ بن ابی اور اس کے رفقاء کو مخاطب ہوئے
ایک خط لکھا اور اس خط میں انہیں دھمکی دی گئی یہاں تک لکھا
کہ تم لوگوں نے ہمارے لوگوں کو پناہ دے رکھی ہے
ہم اللہ کی قسم کھا کر کہتے ہیں یا تو آپ لوگ اس سے لڑائی کر
کے اسے نکال دیجئے یا پھر ہم اپنی تمام قوت کے ساتھ تم
لوگوں پر حملہ کر کے تمہارے سارے مردان کو قتل کر دیں گے اور عورتوں کی
عزت کو پامال کر دیں گے۔(ابوداود،باب خبرالنضیر،الرحیق المختوم،صفحہ 265)
عبداللہ بن ابی چونکہ مشرک تھا اور مشرکین کی مدد کے لیے اس
نے لوگوں کو جمع کیا اور ان لوگوں کو جمع کرنے کا مقصد جنگ کے لیے تھا۔
رسول اللہ کی تشریف آوری
اللہ کے حبیب صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو جب یہ خبر ہوئی
تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم خود ان کے پاس تشریف لے گئے
اور فرمایا کہ قریش کی دھمکی نے تم لوگوں پر بہت اثر کیا
ہے جتنا تم لوگ خود کو نقصان پہنچا رہے ہو اتنا وہ لوگ تمہیں نقصان
نہیں پہنچا سکتے کیا تم خود اپنی ہی بیٹوں اور بھائیوں سے لڑو گے
یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے آگے ہی سب لوگ بکھر گئے۔
(ابوداود،ایضابتغیر)
لیکن عبداللہ ابن ابی پھر بھی باز نہیں آیا وہ قریش کے ساتھ بعد میں بھی روابط میں
رہے اور ہر شر فساد میں حصہ لیا۔(بخاری جلددوم،655 ،الرحیق المختوم،صفحہ 266)
یہ ہیں وہ حالات جو پہلی ہجری کے غزوات سے پہلے پیش آئے
تھے اس کے علاوہ بھی کئی سارے واقعات ہیں جن کی وجہ سے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے پہلی ہجری میں
غزوات کا معاملہ شروع فرمایا۔اور یہاں تک کہ قریش نے مسلمانوں پر
مسجد حرام کا دروازہ بند کیے جانے کا اعلان کردیا۔
سعد بن معاذ کا عمرہ
حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ عمرہ کے لیے تشریف
لے گئے اور وہاں جا کر امیہ بن خلف کے مہمان ہوئے اور انہوں نے ہی
حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو عمرہ کروایااس وقت
ابو جہل نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ کو دیکھ لیا اور مخاطب ہو
کرکہاکہ ابھی تم امیہ بن خلف کے ساتھ ہو اگر اس کے ساتھ نہ
ہوتے تو اپنے گھر سلامت پلٹ کر نہ جا سکتے تھے اس پر حضرت
سعد نے با آواز بلند کہا کہ خدا کی قسم اگر تم نے ہمیں یہاں
سے روکا تو میں تمہیں وہاں سے روکوں گا جو تجھ پر اس سے
بھی زیادہ گراں ہوگی۔اور یہ اس تجارتی راستے کی
طرف اشارہ تھا جو مدینہ سے گزر کر آتا تھا۔
(بخاری،کتاب المغازی،صفحہ نمبر 563،الرحیق المختوم،ایضا)
پہلی ہجری کے غزوات کے وقوع کے یہ کچھ اسباب ہیں
اس کے علاوہ بعد میں مہاجرین کو قریش نے دھمکیاں بھی دیں۔
قریش نے مہاجرین کو کیا دھمکی دی؟
قریش نے بعد میں مسلمانوں کو کہلا بھیجا کہ تم اس بات میں خوش
نہ ہونا کہ مکہ سے بچ کر نکل آئے ہم مدینے میں بھی آکر تمہیں تباہ کریں گے۔
(رحمۃ اللعلمین،1/116)
اور آقا علیہ الصلوۃ والسلام قریش کے سب دھمکیوں اور
حالات کی نزاکت کو بہت اچھی طرح سمجھے ہوئے تھے اور حالات کے
پیش نظر رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو ایک رات خطرہ محسوس ہوا۔
رسول اللہ پر پہرہ دار صحابی
بخاری و مسلم میں حدیث ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا
سے مروی ہے کہ ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم
جاگے ہوئے تھے فرمایا کہ کاش آج رات میرے صحابہ میں
سے کوئی صالح آدمی ہمارے پاس پہرا دیتا ہے حضرت عائشہ فرماتی ہیں
کہ ابھی ہم اسی حالت میں تھے کہ ہتھیار کی آواز سنائی دی
آقا علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ کون ہے؟ جواب آیا سعد بن ابی وقاص
اور فرمایا کہ کیسے آنا ہوا؟ حضرت سعد نے فرمایا کہ مجھے
خطرہ محسوس ہوا آپ کے متعلق تو میں یہاں پہرہ دینے آگیا
اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے انہیں دعا دی اور سو گئے۔
(مسلم شریف،باب فضل سعد بن ابی وقاص،جلد 2 صفحہ نمبر 280)
یہ تمام ظلم اس وقت تک کی ہیں جب آقا علیہ الصلوۃ والسلام کو
اللہ عزوجل کی طرف سے جہاد کا حکم نہیں آیا
جہاد کی اجازت
جب جہاد کی اجازت ملی تو مسلمانوں نے اپنا آگے کا لائحہ عمل
تیار کیا جہاد کی اجازت کے بارے میں سورہ حج آیت نمبر 39 میں
رب تعالی نے جہاد کی اجازت کا تذکرہ کیا ہےاور یہ جہاد
کی اجازت اس وقت نازل ہوئی
جب قریش اپنی طاقت کا مظاہرہ کر رہے تھے اور
مسلمانوں پر ظلم کر رہے تھے جب
جہاد کی اجازت ملی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم
نے کفار کی طاقت کو زیر کرنے کے لیے کچھ قبائل کے ساتھ معاہدہ
کیا اور یہ وہ کفار تھے جو قریش مکہ کے تجارتی راستے پر تھے ان کے
ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے دوستی اور جنگ
نہ کرنے کا معاہدہ کیا کچھ قبائل کے ساتھ معاہدہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ والہ وسلم نے غزوات شروع کرنے سے پہلے کیا
اور کچھ کے ساتھ غزوات کے دوران کیا اسی طرح ایسے قبائل کے
خطرہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے
اپنے آپ کو اور مسلمانوں کو آزاد کر دیا۔
اور پھر کچھ پہلی ہجری سال کے غزوات ہیں اور کچھ
غزوات دوسری ہجری کے سال پیش آئے۔
یہ چھوٹے چھوٹے سریےاور غزوہ ہیں۔
پہلی ہجری کے غزوات تین ہیں
سریہ سیف البحر
سریہ رابغ
اور سریہ خرار
"سریہ سیف البحر” ،یہ سریہ رمضان ہجرت کے پہلے سال پیش آیا۔
اور "سریہ رابغ” شوال ہجرت کے پہلے سال پیش
آیا ،اس کے علاوہ سریہ "خرار” ذیقعدہ ہجرت کے پہلے سال پیش آیا
پہلی ہجری کے غزوات کے امیر
سریا سیف البحر کا امیر حضرت حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ تھے سریہ رابغ کا امیر
رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے حضرت عبیدہ بن حارث بن عبدالمطلب کو مقرر فرمایا
سریہ خرار کا امیر حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو مقرر فرمایا
تعداد سپاہ اور مقام
30 مہاجرین حضرت حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کے
زیر کمان تھے اور حضرت حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ
ایک قریشی قافلے کا پتہ لگانے کے لیے روانہ ہوئے جس
قافلے کا پتہ لگانے کے لیے روانہ ہوئے اس میں تین سو آدمی تھے
جن میں ابو جہل بھی تھا مسلمان عِی٘ص کے اطراف میں
ساحل سمندر کے پاس پہنچے تو قافلے کا سامنا ہو گیا اور جنگ کے لیے
دونوں فریقین صف آراء ہوئے لیکن قبیلہ جہینہ کا سردار
مجدی بن عمر نے جو فریقین کا حلیف تھا جنگ نہ ہونے دی۔
اسلام کا پہلا جھنڈا
حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کاجھنڈا اسلام کا پہلا جھنڈا تھا جس کو
حضرت ابو مرثد کناز بن حسین غنوی رضی اللہ عنہ نے اٹھایا
2 عبیدہ بن حارث رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم
نے 60 مہاجرین سواروں کے ساتھ روانہ فرمایا ان
کا وادی را رابغ میں ابو سفیان کے ساتھ سامنا ہوا ان کے
ساتھ 200 آدمی تھے (دوسرے روایت کے مطابق 150) دونوں
طرف سے تیر چلے لیکن جنگ نہ ہوئی۔اس سریے میں مکی لشکر
سے دو مسلمان نکل کر مسلمانوں کے لشکر سے آملے تھے
اوروہ دو صحابہ حضرت مقداد بن عمر اور دوسرا عتبہ بن غزوان
رضی اللہ عنہما تھے اور یہ دونوں اسی مقصد کے ساتھ روانہ
ہوئے تھے ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کا جھنڈا سفید تھا اور اس
جھنڈا کو اٹھانے والا حضرت مسطح بن اثاثه تھے
3 رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے حضرت سعد بن ابی وقاص
رضی اللہ عنہ کے ساتھ 20 آدمیوں کو روانہ فرمایا اور
آپ کو بھی سفید جھنڈا عطا فرمایا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم
نے حضرت سعد بن ابی وقاص کو تاکید فرما دی
کہ خرار سے آگے نہیں بڑھنا جب وہ اس مقام تک پہنچے تو انہیں پتہ
چلا تھا کہ قافلہ ایک دن پہلے گزر گیا ہے حضرت سعد بن ابی وقاص
رضی اللہ عنہ کی جماعت میں جھنڈا اٹھانے والا حضرت مقداد بن عمر رضی اللہ عنہ تھے۔
(الرحیق المختوم،ملتقطا،صفحہ نمبر270/271)
پہلی ہجرے کے غزوات کا مختصر تذکرہ کہ کس
طرح پہلی ہجری کے غزوات میں رسول اللہ نے صحابہ کو نگرانی کے لیے بھیجا
