شہیدکامرتبہ شہیدپرانعامات اورشہیدکی قسمیں
شہیدکامرتبہ شہیدپرانعامات اورشہیدکی قسمیں

شہید کا مرتبہ بہت بلند ہے اس قدر بلند ہے کہ شہید کا تذکرہ اللہ عزوجل نے قرآن مجید فرقان حمید میں بیان
فرمایا ہے اور اللہ عزوجل سب سے بلند ہستی ہیں اور سب سے بلند ہستی جس چیز کا تذکرہ کریں وہ چیز عظمت
کے لحاظ سے بھی بہت بلند ہوتا ہے اور انعام کے لحاظ سے بھی بہت بلند ہوتا ہے۔اس کے علاوہ شہید کے بارے
میں فضیلت اور اس کے انعام کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی احادیث موجود ہیں اور اسی
لحاظ سے فقہائے کرام نے شہید کی قسمیں بیان کی ہیں
شہید کا مرتبہ قرآن مجیدسے
شہید وہ ہوتا ہے اور شہید کے مرتبے پر وہ فائز ہوتا ہے جو اللہ کی راہ میں قتل کیے جائیں اور اللہ رب العزت نے
ان کو زندہ کہا ہے چنانچه آیت مبارکہ ہے
اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کیے جاتے ہیں انہیں
مردہ نہ کہو بلکہ وہ زندہ ہیں مگر تمہیں شعور نہیں۔(البقرہ،154)
شہید کے زندہ ہونے کی کیفیت
ان کی زندگی یا ان کا زندہ ہونا اس طرح ہے کہ رب تعالی نے فرمایا کہ تمہیں شعور ہی نہیں ہے کہ وہ کس
طرح زندہ ہے اور کس طرح کی زندگی گزار رہے ہیں۔ایک اور آیت میں اللہ رب العزت نے فرمایا شہید کو
ہرگز مردہ مت سمجھو
اللہ کی راہ میں قتل
چنانچہ آیت کریمہ ہے ۔
ترجمہ: اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کیے گئے انہیں ہرگز مردہ مت سمجھو بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ
ہیں وہ خوش ہیں اس پر جو انہیں اللہ نے اپنے فضل سے دیا اور اپنے پچھلوں کے متعلق جو ابھی ان سے نہیں
ملے یہ بشارت پا کر خوش ہوتے ہیں کہ ان پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے وہ خوشیاں مناتے
ہیں اللہ کی نعمت اور اس کے فضل پر اور اس پر کہ
اللہ ایمان والوں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔
(آل عمران آیت،169تا171)
شہیدکےمعنی اور”شہید” پر انعامات
شہید کے معنی ہیں حاضرہونا جو مسلمان بوقت
ضرورت اسلام کی حفاظت کے لیے اللہ اور اس کے رسول صلی
اللہ علیہ والہ وسلم کی پکار پر اپنی جان دینے کے لیے
دشمن اسلام کے سامنے حاضر ہو گیا اور اپنے گردن کٹا
دی وہ "شہید” کہلاتا ہے۔
شہید پرانعامات
شہید پر انعامات کے سلسلے میں ایک حدیث سماعت
فرمائیں،حضرت جابر رضی اللہ عنہ بتاتے ہیں کہ احد کی
لڑائی کے دن ایک سپاہی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ
والہ وسلم سے عرض کیا کہ کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ اگر میں
مارا جاؤں تو میرا ٹھکانہ کہاں ہوگا آپ نے فرمایا جنت
میں اس شخص نے اپنے ہاتھوں سے کھجوریں پھینکی
میدان جنگ میں کود پڑا خوب لڑا حتی کہ شہید ہو گیا۔
جب شہادت کے انعام کے بارے میں صحابی کو پتہ چلا
جو کھجوریں جووہ کھا رہا تھا انہیں پھینکا اور فورا
میدان جنگ میں کود پڑا اور "شہادت” کے درجے پر فائض ہو
گیا۔”شہید”کو میدان جنگ میں جب شہید کیا جاتا ہے
ان کے اوپر گھوڑے دوڑائے جاتے ہیں ان کومثلہ کیا جاتا
ہے (جیسے حضرت حمزہ)اور لوگ ان کی تکلیف کو
دیکھیں تو ان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں لیکن آقا علیہ
الصلوۃ والسلام نے ارشاد فرمایا چنانچہ حدیث شریف
ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بتاتے ہیں کہ نبی مکرم
علیہ السلام نے فرمایا شہید کو قتل کی صرف اتنی
سی تکلیف محسوس ہوتی ہے جتنی تم میں سے کسی کو
چیونٹی کے کاٹنے کی تکلیف ہوتی ہے۔( ترمذی شریف)
شہیدپرچھ انعام
شہید پر اللہ تعالی کے بہت بڑے انعامات ہیں اور انہی
انعامات کے سبب قیامت کے دن ہر کوئی اپنے حساب و
کتاب میں گرفتار ہوگا حساب کے خطرے کو محسوس
کر رہا ہوگا لیکن اس وقت اس سختی سے شہید آزاد ہوگا
شہید کے لئے خصوصی انعام
حدیث شریف ہے حضرت مقداد بن معدی کرب رضی
اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور علیہ الصلوۃ
والسلام نے فرمایا شہید کے لیے اللہ کے پاس چھ
خصوصی انعام ہیں خون کا پہلا قطرہ گرتے ہی اس
کی مغفرت ہو جاتی ہے اور جنت میں اس کا ٹھکانہ
دکھا دیا جاتا ہے اور اسے عذاب قبر سے محفوظ رکھا جائے
گا بڑی گھبراہٹ(قیامت کی سختی) سے امن میں رہے
گا اس کے سر پر وقار کا ایسا تاج رکھا جائے گا جس کا
یاقوت دنیا اور دنیا کی تمام چیزوں سے بہتر ہوگا اس کے نکاح
میں بڑی آنکھوں والی بہتر(72)خوبصورت حوریں
دی جائیں گی اور اس کے عزیزوں میں سے 70 افراد کے لیے اس کی شفاعت قبول کی جائے گی۔
(ترمذی شریف)
شہادت گناہوں کو مٹا دیتی ہے
بلا شبہ شہادت گناہوں کو مٹا دیتی ہے لیکن شہادت یا اس قسم
کے دیگر اعمال جو گناہوں کی بخشش کا ذریعہ قرار
دیے گئے ہیں صرف ان گناہوں کی بخشش کا ذریعہ ہوتے ہیں جن
کا تعلق حقوق اللہ سے ہے مثلا نماز نہ پڑھنے کا
گناہ زکوۃ نہ دینے کا گناہ حرام کھانے پینے کا گناہ ایسے گناہوں کو
حج مٹا دیتا ہے اور اگر شہادت نصیب ہو جائے
تو یقینا ان سے بھی بڑے بڑے گناہ بخش دیے جائیں گے لیکن وہ گناہ جن
کا تعلق بندوں سے ہے وہ نہ کسی عمل
سے بخشے جاتے ہیں اور نہ ہی ان کو اللہ معاف کرتا ہے جب تک بندہ
خود بندے کو معاف نہ کر دے اور اگر کسی
نے معاف نہ کیا تو اسے اللہ حق تلفی کرنے والے کی نیکیوں سے اس کا
حق دلائے گا ایسے حقوق کو حقوق
العباد کہا جاتا ہے ان کی اہمیت کا اندازہ اس سے کیجئے کہ شہید نے
کتنی بڑی قربانی کی کہ اللہ کے لیے اپنی
گردن تک کٹا دی اور اللہ نے بھی اس کو پورا پورا اجر و ثواب عطا فرمایا
اور اس کے مرتبوں کو بلند کیا لیکن
حقوق العباد اس سے معاف نہ ہوں گے جب تک کہ اہل حق اس کو معاف
نہ کر دیں ملاحظہ فرمائیے میرے اقا
صلی اللہ علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں حضرت عبداللہ ابن عمر بن عاص رضی اللہ
عنہ کی روایت ہے کہ نبی مکرم علیہ السلام نے فرمایا
اللہ کی راہ میں مارا جانا تمام گناہوں کو مٹا دیتا ہے
سوائے قرض کے۔(مسلم شریف)
کسی سے قرض لے کر ادا نہ کرنا اپنے مسلمان بھائی کی حق تلفی اور اس
کا مال غصب کر کے اس کو تکلیف
پہنچانا شعبہ حقوق العباد کا ایک جرم ہے جس کی معافی کا ذریعہ
شہادت بھی نہ بن سکی یہی حال تمام حقوق العباد کا ہے۔
(یاایھا الذین آمنوا،جلد1،ص 91تا92)
شہید کی آرزو
جنت میں چلے جانے کے بعد کوئی بھی شخص دنیا میں واپس آنے کی خواہش نہیں کرے گا سوائے شہید کے
چنانچہ حدیث شریف میں ہے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور علیہ السلام نے فرمایا جنت میں
داخل ہونے کے بعد کوئی شخص دنیا میں اس لالچ میں بھی انا پسند نہ کرے گا کہ زمین کی ہر چیز اسے مل
جائے مگر شہید اس کی تمنا کرے گا کہ وہ دنیا میں واپس جائے اور 10 مرتبہ شہید کیا جائے کہ وہ شہادت کی
عظمت جان چکا ہے۔( بخاری و مسلم)
شہید کی قسمیں
شہید کی دو قسمیں ہیں شہید حقیقی اور شہید حکمی
شہید حقیقی وہ لوگ جو جہاد میں اسلام کے دشمنوں کے
ہاتھوں قتل ہوئے جیسے غزوہ بدر غزوہ احد وغیرہ کے شہداء یا شہداء کربلا جو کافروں کے ہاتھوں نہیں بلکہ
دشمنان اسلام کے ہاتھوں کا تل ہوئے یا ہمارے دور میں کشمیر افغانستان ہندوستان وغیرہ کے مسلمان۔
شہید حقیقی کوغسل دیاجائےگا؟
شہید حقیقی کو نہ غسل دیا جاتا ہے نہ کفن وہ نماز جنازہ کے بعد اسی طرح خون میں لت پت دفن کر دیا جاتا ہے
جب وہ اللہ کے دربار میں حاضر ہوگا تو اس کی زخموں سے خون بہتا ہوگا۔چنانچہ حدیث شریف میں ہے حضرت
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور علیہ السلام نے فرمایا جو شخص اللہ کی راہ میں زخمی کیا گیا
اور اللہ خوب جانتا ہے اس شخص کو جو اس کی راہ میں زخمی کیا گیا وہ اللہ کے دربار میں قیامت کے دن اس
طرح ائے گا کہ اس کے زخموں سے خون جاری ہوگا جس کا رنگ خون جیسا ہی ہوگا لیکن خوشبو مشک کی سی ہوگی۔
(بخاری و مسلم)
شہید حکمی
شہید حکمی وہ لوگ ہیں جو اگرچہ بظاہر قتل نہیں کیے گئے لیکن صاحب شریعت صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے
اپنے رب کے عطا کردہ اختیار سے انہیں بھی زمرہ شہداء میں شامل فرمایا اقا کی عطا ہے جس غلام کو جو
چاہیں دے آپ فرماتے ہیں حضرت ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضور علیہ
السلام کو فرماتے سنا جو شخص اللہ کی راہ میں نکلا اور مر گیا یا مارا گیا یا اس کے گھوڑے نے اس کو قتل کر
ڈالا یا اس کے اونٹ نے کچل دیا یا کسی زہریلے جانور نے کاٹ لیا یا اپنے بستر پر مر گیا اللہ کی مرضی کے
مطابق کسی بھی طرح مرا وہ شہید ہے اور بے شک اس کے لیے جنت ہے۔(ابو داؤد)
ڈوب کرمرنےوالا،جل کرمرنےوالا،زچگی کےوقت مرنےوالاشہیدہے
ایک اور حدیث شریف ہے حضرت جابر بن عتیک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور علیہ السلام نے فرمایا
کہ اللہ کی راہ میں قتل ہونے کے علاوہ بھی شہادت کے ساتھ ذریعہ ہیں طاعون سے مرنے والا شہید ہے ڈوب کر
مرنے والا شہید ہے ذات الجنب بیماری سے مرنے والا شہید ہے ہیضہ سے مرنے والا شہید ہے جل کر مرنے
والا شہید ہے اور کسی چیز سے دب کر مرنے والا شہید ہے اور جو عورت بحالت زچگی مرے وہ بھی شہید ہے۔(ابو داؤد)
سفر میں مرنے والا شہید ہے
سفر کی حالت میں مرنے والا شہید ہے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضور علیہ الصلوۃ
والسلام نے فرمایا سفر میں مرنا شہادت ہے۔(ابن ماجہ)
حالت مرض میں شہید ہونے والا
کسی مرض میں مبتلا ہونے کی وجہ سے یعنی حالت مرض میں مرنے والا بھی شہید ہے حضرت ابو ہریرہ
رضی اللہ عنہ راوی ہیں کہ حضور علیہ السلام نے فرمایا جس کی موت
حالت مرض میں ہو وہ شہید ہے اور عذاب
قبر سے محفوظ رہتا ہے اور اس کو جنت سے رزق دیا جاتا ہے اور اس کو جنت
کے رزق کی مہک سونگھائی جاتی ہے۔(ابن ماجہ)
