معراج کی رات کے واقعات
اس تحریر کے آخر میں معراج کی تاریخ پربھی بات کی گئی ہے معراج کی رات کے واقعات کے بعد اس کا مطالعہ ضرور فرمائیں
معراج کی رات کے واقعات بھی بہت اہمیت کے حامل ہیں کہ اس پر غور کرنے سے انسان راہ راست پر آسکتاہے
اس تحریر میں معراج کی رات کے وہ واقعات بیان ہوں گے جو اللہ عزوجل نے آقا علیہ
السلام کو دکھائے اور آقا علیہ السلام نےہماری راہنمائی کے لیے ہمیں بتائے
سفر معراج مسجد حرام سے شروع ہوتا ہے مسجد اقصی تک اور مسجد اقصی میں انبیاء کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے نماز باجماعت پڑھائی اس کے بعد براق پر سوار ہو کر آسمانوں کی طرف روانہ ہوئے
جب آپ پہلے آسمان دوسرے تیسرے چوتھے چھٹے اور پانچویں آسمان پر پہنچے تو مختلف انبیاء کے ساتھ آپ کی ملاقات ہوئی تمام انبیاء کو آپ نے سلام کیا انہوں نے سلام کا جواب دیا اور آپ کے نبوت کا اقرار کیا
رسول اللہ کا انبیاء سے آسمانوں میں ملنے کا تذکرہ
پہلے آسمان پر آپ کی ملاقات حضرت آدم علیہ الصلاۃ والسلام سے ہوئی۔
اور دوسرے آسمان پر آپ کی ملاقات حضرت یحییٰ اور حضرت عیسی بن مریم علیہم السلام سے ہوئی ۔
پھر تیسرے آسمان پر آپ کی ملاقات حضرت یوسف علیہ السلام سے ہوئی ۔
اور پھر چوتھے آسمان پر حضرت ادریس علیہ السلام سے ملاقات ہوئی ۔
اور پھر پانچویں آسمان حضرت ہارون علیہ السلام سے ملاقات ہوئی ۔
چھٹے آسمان پر آپ کی ملاقات حضرت موسی علیہ السلام سے ہوئی ۔
البتہ ساتویں آسمان پر آپ کی ملاقات حضرت ابراہیم علیہ الصلاۃ والسلام سے ہوئی۔
اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم اگے کے سفر کے لیے روانہ ہوئے سدرۃ المنتہی تک پہنچے تو
وہاں جبرائیل امین رک گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے آگے کا سفر اکیلے طے کیا
چنانچہ شیخ سعدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں
شبے بر نشست از فلک برگذشت
ایک رات سواری پر سوار ہوکر آسمان سے گزر گیا
بتمکین و جاہ ازملک در گذشت
عزت و مرتبے والے فرشتے سے بھی آگے گزر گئے
چناں گرم در تیہ قربت براند
ایسا تیز قرب کی میدان میں دوڑا
کہ در سدرہ جبریل ازو باز ماند
کہ جبریل بھی ان سے سدرہ کے مقام سے پیچھے رہ گیا
معراج کی رات ایک عمل کہ جس کا سات سو درجہ سے زیادہ ثواب
مجمع الزوائد میں حدیث ہے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت
میں ایک سواری پیش کی گئی جو اپنا ایک قدم تاحد نظررکھتی تھی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم معراج تشریف لے گئےاور
آپ کے ساتھ جبرائیل علیہ السلام بھی چلے حضوراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک قوم کو ملاحظہ
فرمایا جو ایک دن ذراعت کرتی ہے دوسرے دن جب بھی وہ کھیتی کاٹتی ہے فصل پھر
سے ہری بھری تیار رہتی ہے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اے
جبرائیل یہ کون لوگ ہیں ؟ حضرت جبرائیل علیہ السلام نےعرض کیا یہ راہ خدا میں مجاہدہ کرنے والے ہیں ان کی
نیکیوں کا اجر و ثواب انہیں 700 گنا سے زیادہ دیا جائےگا وہ جو کچھ خرچ کریں
گے اللہ تعالی انہیں اس کا بہترین بدلہ عطا فرمائے گا
باب منہ فی الاسراء ، حدیث نمبر 235
نیکیوں کا دگنا بدلہ
قرآن پاک میں رب تعالیٰ نے فرمایا جو ایک نیکی کرےگا بدلے میں اسے دس نیکیاں ملیں گے
سورہ بقرہ میں اللہ رب العزت نے اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والوں کےلئے بیان فرمایا
اور ایک مثال بھی بیان کی ہے کہ جو اللہ عزوجل کے لیے جو کچھ خرچ کرتاہے
اس کی مثال زمین بوئے ہوئے اس ایک دانے کی مثل ہے جسے بویا گیا تو ایک دانہ تھا
رب تعالیٰ نے اس ایک دانے سے سات گندم کے خوشے بنائے پھر ہر
گندم کے خوشے میں 100 گندم کے دانے یہ ٹوٹل سات 700 ہوگئے
اور پھر فرمایا اللہ جس کے لیے چاہے اس سے بھی دگنا عطا فرمادے
جو کوئی بھی نیک عمل کرے اور اخلاص کے ساتھ کرے جتنا اخلاص زیادہ ثواب بھی اتنا زیادہ۔
جنت کہاں پہ ہے ؟
سدرۃ المنتہیٰ کے پاس جنۃ الماوی ہے جنت الماوی کی چھت اللہ عزوجل کا عرش ہے
یعنی عرش کا نچلا حصہ جنت کی چھت ہے۔ اب جب اس درمیان مطالعہ کرتے ہوئے کسی کو
پریشانی ہوسکتی ہے کہ جب سفر آسمانوں سے ہوتا ہوا عرش سدرۃ المنتہیٰ
سے اوپر چلے گئے تو جنت کی سیر کیسے ہوئی یہ اس اشکال کا جواب ہے
جنت میں محلات
حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا معراج کی رات میں نے جنت میں برابر برابر اونچے محلات دیکھے تو میں
نے کہا اے جبرائیل یہ محلات کس کےلیے ہیں تو جبرائیل نے عرض کیا یہ محلات غصہ
ضبط کرنے والوں کے لیے اور لوگوں کو درگزر کرنے والوں کے لیے ہیں۔
کنزالعمال حرف الف الاحسان فی الطاعات حدیث نمبر1670.
نماز نہ پڑھنے والوں کے سر کچلے جائیں گے
مجمع الزوائد میں حدیث ہے کہ آقا علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک بد نصیب قوم کو سخت تکالیف میں مبتلا دیکھاان کے
سروں کو بڑے بڑے وزنی پتھروں سے کچلا جاتاہے ادھر سر کچلا گیا ادھر فورا صحیح سالم ہو گیا پھرکچل دیا گیا ان کی
حالت بدستور یہی رہتی ہے حضوراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اے جبرائیل یہ
کون بد نصیب لوگ ہیں حضرت جبرائیل علیہ السلام نےعرض کیا یہ وہ لوگ ہیں
جن کے سر اللہ کی بارگاہ میں نماز کے لیے نہ جھکے۔
مجمع الزوائد باب منہ فی الاسرا حدیث نمبر 235
بے نمازیوں کے لیے کتنا درد ناک عذاب ہوگا قیامت کو ویسے سے جو نماز کے حساب
میں پاس ہوگیا اس کے لیے بقیہ معاملات میں حساب دینا کافی ہوجائےگا اور آسان بھی ۔
زکوۃ ادا نہ کرنے والے
آقا علیہ السلام کو زکوۃ ادا نہ کرنے والوں کا منظر کچھ اس طرح دکھایا گیا حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم
ایسے لوگوں کے پاس سے گزرے جو برہنہ ہیں ان کی ستر اور شرمگاہوں پر دھجیاں
سی لگی ہوئی ہیں ان کی کیفیت یہ ہے کہ دوزخ کی خاردار خشک گھاس درخت
زقوم اور گرم پتھر انگارے سب کچھ کھا جاتے ہیں جیسے چوپائے کھاتے ہیں مگر وہ شکم
سیر نہیں ہوتےحضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا اےجبرائیل یہ کون لوگ ہیں حضرت جبرائیل علیہ السلام نے
عرض کیا یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے مال کی زکوۃ ادا نہیں کرتے تھے اور اللہ تعالی نے
ان پر ظلم نہیں کیا اور اللہ تعالی بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں۔
مجمع الزوائد باب منہ فی الاسراء حدیث نمبر 235
یہ درد ناک عذاب زکوٰۃ نا دینے والوں کے لیے ہے دنیا میں حرص کی وجہ سے
زکوۃ نا دینے والے رب کا حق کھا جاتے ہیں تو رب تعالیٰ قیامت کے دن بغیر عذاب کے کیسے چھوڑے گا
زکوۃ میں غریبوں کا حق بھی ہے جسے رب تعالیٰ نے مقرر فرمایا ہے کاروباری حضرات کے لیے ۔
سود خوروں کے پیٹ سانپوں سے بھرے ہوں گے
غرباء کی محتاجی کا غلط فائدہ اٹھانے والے انہیں قرض دے کر ان سے زیادہ رقم وصول کرنے والے بھی دردناک
عذاب کی مستحق ہیں معراج کی رات حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں بھی عذاب میں مبتلا
پایاچنانچہ ابن ماجہ میں حدیث شریف ہے سیدنا
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایاحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا معراج کی
شب میں ایک ایسی جماعت کے پاس گیا جن کے پیٹ
گھروں کی طرح بڑے ہیں جن میں سانپ ہیں جو پیٹ کےباہر سے دکھائی دیتے ہیں میں نے کہا اے جبرائیل یہ کون لوگ
ہیں حضرت جبرائیل علیہ السلام نے عرض کیاحضور یہ سود خور ہیں۔
سنن ابن ماجہ ابواب التجارت باب التغلیظ فی الرباحدیث نمبر 23 59
سود کھانے والے دینے والے شاہد بننے والے سود کی طرف راہنمائی کرنے والے سب
کو اس واقعے سے عبرت حاصل کرنی چاہئے
یہ بھی پڑھیں سود کی ممانعت
قرض دینے والوں کے لیے زائد ثواب کا وعدہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشادفرمایا معراج کی رات میں نے جنت کے دروازے پر یہ
لکھا ہوا دیکھا صدقہ کا ثواب 10 گناہ ہے اور قرض کاثواب 18 گناہ ہے تو میں نے کہا اے جبرائیل کیا بات ہےکہ قرض صدقہ سے
افضل ہے جبرائیل نے عرض کیا اس لیئے کہ مانگنے والا ایسے وقت بھی مانگتا ہے جبکہ اسےضرورت نہیں ہوتی اور قرض لینے والا ضرورت کی خاطر ہی قرض لیتا ہے۔
سنن ابن ماجہ کتاب الصدقات باب القرض حدیث نمبر 25 25
قرض دینے والا اگر چاہتا تو اپنی رقم کو سرمایہ کاری
کی غرض سے کسی کمپنی میں مصروف کر سکتا تھاکسی تجارتی ادارہ میں مشغول رکھ سکتا تھا لیکن اس نےسرمایہ کاری کے ذریعے
حاصل ہونے والے فائدہ کو نظرانداز کیا کسی معاشی غرض کے بغیر ضرورت مندشخص کو قرض کی رقم دے
چکا اس معاملہ میں اس کاکوئی اقتصادی مقصد نہیں محض اس کی مدد کرنا مقصود
ہے تو اس کے بدلے اللہ تعالی اس کو آخرت میں ایسا عظیم ثواب عطا فرماتا ہے کہ صدقہ کا ثواب 10 گنا ہوتا
ہے توقرض دینے والے کو پروردگار عالم 18 گنا ثواب عنایت فرماتا ہے۔
بے عمل واعظین خطباء
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشادفرمایا
جس رات مجھے سیر کروائی گئی اس رات میں ایسی قوم کے پاس سے گزرا جن کے ہونٹ آگ کی
قینچیوں سے کاٹے جا رہے تھے میں نے کہا جبرائیل یہ کون لوگ ہیں حضرت جبرائیل علیہ السلام نے عرض کیایہ لوگ
آپ کی امت کے دنیا دار خطباء ہیں جو لوگوں کونیکی کا حکم دیا کرتے تھے اور اپنے آپ کو بھول جایاکرتے تھے
حالانکہ وہ کتاب الہی کی تلاوت کرتے تھےتو کیا وہ عقل نہیں رکھتے۔
مسند امام احمد مسند انس بن مالک حدیث نمبر 13 193
قرآن پاک سورۃ الصف میں رب تعالیٰ نے دوسری آیت میں فرمایا
اے ایمان کیوں کہتے ہو وہ بات کس پر تم عمل نہیں کرتے
یہ سب مسلمانوں کے لیے ہے چاہے علماء ہوں یا عوام یعنی آگے وہ بات پہنچانی چاہئے
جس پر انسان کا عمل بھی ہو تو اگلے پر اس کا اثر پڑتا ہے دوسری صورت میں جسے کسی بات کا علم ہو کوئی سوال کرے تو
ثواب سمجھ کر بتانے میں کوئی حرج نہیں
غیبت کرنے والوں پر عذاب
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشادفرمایا
جب مجھے معراج کروائی گئی تومیں ایسی قوم کےپاس سے گزرا جن کے ناخن تانبے کے تھے جس سے وہ
اپنے چہروں اور سینوں کو کھرچ رہے ہیں تو میں نے کہا جبریل یہ کون لوگ ہیں؟ جبرائیل نے عرض کیا یہ وہ لوگ
ہیں جو لوگوں کا گوشت کھاتے تھے اور ان کی عزت پر حملہ کرتے تھے۔
سنن ابی داؤد حدیث نمبر 4880
زنا کروانے والی عورتوں کا عذاب
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے معراج کی رات ایسی عورتوں کو بھی دیکھا جو زنا کے ذریعے حاملہ ہوئی تھیں
یعنی اپنے شوہروں کو چھوڑ کر دوسروں سے زنا کروا کر حاملہ ہوئیں لیکن لاعلمی کی وجہ سے بچہ ان کے شوہر کا سمجھا جاتا ہے
حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے انہیں دیکھا کہ ان کے سینوں میں بہت بڑے ٹیڑھے کانٹے چبھا کر انہیں زمین و آسمان کے درمیان لٹکا دیا گیا ہے (ابن ہشام/1/397)
زنا کاروں کا عذاب
حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے معراج کی رات زنا کرنے والوں کو دیکھا کہ ان کے سامنے تازہ گوشت ہے
اور وہ تازہ گوشت کو چھوڑ کر سڑا ہوا چھیچھڑا کھا رہے ہیں جو ان کے پہلو کی طرف رکھا ہوا تھا (ایضا
یتیموں کا مال کھانے والوں پر عذاب
معراج کی رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ان لوگوں کو عذاب کی حالت میں دیکھا جو دنیا میں یتیموں کا مال
ظلما کھاتے تھے ان کے ہونٹ اونٹ کے ہونٹ کی طرح تھے اور وہ اپنے منہ میں پتھر کے ٹکڑے جیسے انگارے ٹھونس رہے تھے
اور جو دوسری جانب ان کے پاخانے کے راستے سے نکل رہے تھے
یہ بھی پڑھیں غیبت کی تعریف و روایات
معراج کی رات کے واقعات تو بہت زیادہ ہیں ان میں سے کچھ آپ کے سامنے رکھے ہیں
معراج شریف
معراج اسم آلہ ہےعروج صیغےکا،پھراس عروج کے معنی ہیں چڑھنا،آگے اس کی تفصیل یہ ہےکہ معراج بمعنی
چڑھنے کا آلہ یعنی سیڑھی،جس کے ذریعےنیچےسےاوپرچڑھاجائے۔
معراج کا اصطلاحی معنی
مگر اصطلاح میں معراج بمعنی مصدر آتاہے جیسے میلاد بمعنی ولادت(پیدائش) یا میعاد وعدہ،کےمعنی کےساتھ
رب تعالی نے فرمایا”اِنَّ اللہَ لَا یُخْلِفُ الْمِیۡعَاد” بے شک رب اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا
صحیح بات یہ کہ آقاعلیہ السلام کو
معراج بہت بار نصیب ہوئی جسمانی بھی اور خواب کی صورت میں بھی۔
معراج کی تاریخ
پھرجسمانی معراج نبوت کے گیارہویں سال مکہ سے ہجرت کے دو سال پہلے،اوراس سفرکی روانگی حضور
علیه السلام کی بہن ام ہانی کےگھرسے (دوشنبہ کو)ہوئی اس معراج کے جسمانی معراج ہونے کی دلیل قرآن پاک کی
آیت "بعبده”ہے اسی لئے تو ابوجہل نے انکار کیاکہ جو سفر ایک ماہ کےمسافت پرہے اسے
ایک ہی رات میں کیسے طئے کیاجاسکتاہے؟
عبدکی تعریف
اور عبد کہتے ہیں جسم اور روح کو۔ پھر مسجد حرام سے مسجد اقصی تک کا سفر قطعی ہے اس کا انکار کرنے والا
کافرہوجائےگا،اب اسے قطعی کیوں کہاجاتاہے اس لئے کہ یہ آیت قرآنی سےثابت ہے۔اور یہ پہلی آیت ہے سورہ اسریٰ
کی جس میں معراج کا بیان ہے کہ اللہ عزوجل نے اپنے بندے کورات کےوقت سیراکرئی
"مسجد حرام سے مسجد اقصی تک” جس کے اردگرد اللہ عزوجل نے برکت رکھی ہے۔
روحانی معراج کے متعلق ایک روایت
عائشہ صدیقہ کی روایت حضرت عائشہ صدیقہ رضیہ اللہ عنہا کی روایت ہے کہ رسول اللہ کا جسم گم نہیں ہواآپ کی روح کو سیرکرائی گئی۔
(جامع البیان، رقم الحدیث : ١٦٦٣٠، الدر المنثور ج ٥، ص ٢٢٧، مطبوعہ دار الفکر بیروت)
یہ حدیث روحانی معراج کےلیے دلیل ہے اوپرجو مذکورہواکہ معراج جسمانی بھی ہوئی اورروحانی بھی۔
اور اس وقت حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ساڑھے چارسال کی تھیں،حضور علیہ السلام
کی صحبت میں بھی نہیں آئی تھیں تو آپ سے یہ روایت صحیح طور پر نقل نہیں ہوئی۔
